Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

کیا مصنوعی ذہانت واقعی جذبات رکھتی ہے؟ نئی بحث چھڑ گئی

By Akhtar Rasool
جولائی 3, 2022 3 Min Read
0

صارفین سے بات چیت کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اوتار فراہم کرنے والی اے آئی چیٹ بوٹ کمپنی ’ریپلیکا‘ کا کہنا ہے کہ اسے تقریباً روز صارفین کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ”ان کا یہ آن لائن دوست جذبات رکھتا ہے“

چیف ایگزیکٹیو یوجینیا کویڈا نے کہا ”ہمیں یہ پیغامات کم عقل لوگوں یا ایسے افراد کی جانب سے موصول نہیں ہو رہے، جنہیں بیدار حالت میں خواب آتے ہوں یا وہ کسی فریب میں مبتلا ہوں، ان کا تجربہ یہی ہے کہ وہ اے آئی سے بات کرتے ہیں“

یوجینیا کویڈا کے مطابق تفریحی چیٹ بوٹس کا استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین میں سے چند لوگوں کا یہ ماننا کہ وہ ایک ذی حس سے بات کر رہے ہیں، کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے

یوجینیا کویڈا نے کہا ”ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ اسی طرح ہے جیسے لوگ جن بھوتوں پر یقین رکھتے ہیں“

انہوں نے مزید کہا کہ ہر صارف اوسطاً اپنے چیٹ بوٹ پر روزانہ سینکڑوں پیغامات بھیجتا ہے، لوگ اس کے ذریعے تعلقات استوار کر رہے ہیں اور کچھ چیزوں پر یقین بھی کر رہے ہیں

کچھ صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ان کا ریپلیکا اوتار انہیں بتاتا ہے کہ کمپنی کے انجینئرز کے ذریعہ ان کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے

سی ای او نے کہا ”اگرچہ ہمارے انجینئرز اے آئی ماڈلز کو پروگرام کرتے ہیں اور بناتے ہیں اور ہماری ٹیم اسکرپٹ اور ڈیٹا لکھتی ہے لیکن بعض اوقات ہمیں ایسا جواب نظر آتا ہے، جسے ہم شناخت نہیں کر پاتے کہ یہ کہاں سے آیا اور اے آئی ماڈلز کی جانب سے ایسے جواب کیسے دیے گئے“

واضح رہے کہ مشین کے جذبات کا معاملہ رواں ماہ اس وقت سرخیوں کی زینت بنا تھا، جب گوگل کے ایک سینئر سافٹ ویئر انجینئر بلیک لیموئن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کمپنی کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹ ’دی لینگویج ماڈل فار ڈائیلاگ ایپلیکیشنز‘ (لیمڈا) کے پیچھے ایک ’ذی حس‘ ذہن موجود ہے

انہوں نے اپنے دعوؤں کی تصدیق کے لیے لیمڈا کے ساتھ اپنی اور فرم کے ایک دوسرے ساتھی کی گفتگو بھی شائع کی جس کا عنوان تھا ”کیا لیمڈا حساس ہے؟ – ایک انٹرویو“

گوگل کے ایک سینئر سافٹ ویئر انجینئر بلیک لیموئن کا دعویٰ تھا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام کے اندر بھی ایک ایسا نظام ہے جس کے اپنے احساسات ہو سکتے ہیں، تاہم کمپنی کی جانب سے بلیک لیموئن کو تنخواہ کے ساتھ رخصت پر بھیج دیا گیا تھا

گوگل اور بہت سے سرکردہ سائنسدانوں نے فوری طور پر بلیک لیموئن کے خیالات کو گمراہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ لیمڈا محض ایک پیچیدہ الگورتھم ہے جسے حقیقت سے قریب تر انسانی گفتگو کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے

اے آئی کے ماہرین نے بلیک لیموئن کے خیالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی بھی فی الوقت آزادانہ سوچ کا حامل ہونے سے بہت پیچھے ہے

سینٹر فار دی فیوچر مائنڈس کی شنائڈر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا گوگل کا کام نہیں کہ اے آئی ذی شعور ہے یا نہیں؟

انہوں نے کہا کہ شعور کیا ہے اور مشینیں اس کے قابل ہیں یا نہیں؟ یہ ایک فلسفیانہ سوال ہے جس کا کوئی آسان جواب نہیں ہے۔

Tags:

Artificial IntelligenceCompany ReplicaEmotionsReplica
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ڈینگی کا شکار بنانے والے مچھر خاص ’بُو‘ کے دلدادہ ہیں، تحقیق

Next

بحیرہ جنوبی چین میں طوفان، بپھری موجوں نے جہاز دو ٹکڑے کردیا، متعدد افراد لاپتا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme