Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ادباہم ترینتازہ ترین

کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ) بارہویں قسط

By Akhtar Rasool
جولائی 7, 2021 4 Min Read
1

کابل ایئر اسپیس، (16 مارچ،  انچاسواں دن)

ایئر پورٹ کے رن وے پر دو انجنوں والا سیسنا جہاز تیار کھڑا تھا۔ جہاز کے انجن چل رہے تھے اور وہ چلنے کے لیے بالکل تیار تھا۔ اسے روانگی کے لیے صرف دو مسافروں کا انتظار تھا، میں اور ڈیل… میں بھاگتا ہوا جہاز کے قریب پہنچا۔ میں اس وقت بھی اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا۔ میرے شوز کے تسمے بھی بند نہیں ہوئے تھے۔ سوٹ میں ملبوس ایک بوڑھا آدمی سیڑھیوں کے نیچے کھڑا میرا انتظار کر رہا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو اس آدمی نے ہاتھ نیچے کیے اور بغیر کچھ سوچے سمجھے گلے ملا، اسی وقت پیچھے سے ایک خاتون سامنے آئی۔ وہ میری بہترین دوست تھی اور اس نے سامنے آ کر بوڑھے آدمی کا مجھ سے باضابطہ تعارف کرایا۔
’’رے! یہ کیمرون منٹر ہیں، پاکستان میں امریکی سفیر..“
میں نے انہیں برادرانہ طور پر گلے لگایا.
کیمرون منٹر نے کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اصرار کیا کہ وہ میرا بھاری بیگ خود جہاز میں لے کر جائیں گے۔ وہ بھی میری سکیورٹی کے لئے جہاز میں میرے ساتھ تھے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ ’’تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ تم کس طرح اس ملک سے جا رہے ہو۔ یہاں سے ٹیک آف کرنے میں بھی کچھ بیورو کریٹک مسائل ہیں۔ اس لیے میں یہاں خود موجود ہوں۔ تم بہتر جانتے ہو تمہیں مارنے کے لیے کچھ دہشت گرد گروپوں کی بھی کوشش ہے۔
امریکی سفیر کی وہاں موجودگی یہ ثابت کرتی تھی کہ وہ مجھے خاموشی سے نکالنا چاہتے تھے۔

ڈیل کارول میرے لیے ہرمکن حد تک ضروری تھا۔ DOD جوائنٹ پرسنل ریکوری ایجنسی کا کام مجھے طویل عرصے تک قیدی ہونے کے بعد دوبارہ معمول کی زندگی میں مدد کرنا تھا۔ ڈیل نے تجویز کیا تھا کہ وہ لاہور سے طیارے میں میرے ساتھ ہی سفر کرے گا۔ چونکہ وہ روز اول سے ہی میرے ساتھ تھا، اس لیے میں اس پر اعتماد کرتا ہوں اور اس کی حالت کو بہتر بنانے میں معاونت کروں گا۔

تھوڑی دیر میں ہم اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ جہاز کے تین رکنی سٹاف نے دروازے بند کئے اور جہاز نے رن وے پر دوڑنا شروع کیا۔ جب ہمارے جہاز نے مجھے ایئر پورٹ پر ڈراپ کرنے والی SUV گاڑی کو کراس کیا جو نزدیک ہی پارک تھی تو اس کے پاس کھڑے آئی ایس آئی کے کرنل نے مجھے ’’گڈ بائی‘‘ کا اشارہ کیا۔

جب ہم لاہور میں ہوائی اڈے سے نکل رہے تھے، تو یہ دوپہر کا آغاز تھا۔ واشنگٹن ڈی سی میں نو گھنٹے بعد ہی لوگوں کو اٹھنا تھا۔ امریکی سفیر چاہتا تھا کہ جب وہ اپنے دفتر میں اور میں اپنے گھر کے راستے میں ہوں تو امریکی پریس کو اس اسٹوری کا پتہ چلے کہ میں آزاد اور محفوظ ہوں۔ امریکی سفیر نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے ایئر پورٹ سے نکلنے کا بھی کسی کو پتہ چلے، یہ بہت برا ہوتا اگر میڈیا کو پتہ چل جاتا اور ہمارے جہاز کو کچھ وجوہات کی بنا پر دوبارہ لاہور ائیر پورٹ پر اتار لیا جاتا۔

”ہم کتنی دیر میں کابل ایئر بیس پر پہنچیں گے؟ امریکی سفیر نے فلائٹ کریو کے عملے سے پوچھا۔
’’ایک گھنٹہ چالیس منٹ سر!‘‘
ایک گھنٹے بعد انہوں نے پھر پوچھا۔ ’’ایک گھنٹہ دس منٹ سر‘‘
”کیا….! یہ کیسے ممکن ہے؟“
”ہماری اسپیڈ کافی سست ہے۔ ہم ہواؤں کے جھکڑ میں ہیں۔“
”اوہ گریٹ!“
میں نے کہا: ’’پاکستان میں کچھ ہے، جو مجھے چھوڑ نہیں رہا۔ مجھے دوبارہ لانے کی کوشش کر رہا ہے۔“
میں تھوڑا مذاق کے موڈ میں تھا۔ مجھے فلائٹ کریو نے ایک کاغذ لاکر دیا۔
”رے ہم تمہیں ایک تحفہ دینا چاہتے ہیں۔“
میں نے کاغذ کا ٹکڑا کھولا۔اندر ایک سکہ تھا، جس پر لکھے گئے الفاظ تھے:
"کابل کے ہوائی اڈے پرخوش آمدید”
اب میں جشن منا سکتا تھا۔ میں اب آزاد تھا!

امریکی سفیر نے دوران پرواز سیٹیلائٹ فون سے کئی کالز کیں، جس میں انہوں نے چند خاص خاص لوگوں کو میری رہائی کی خبر سنائی۔ ان میں سینیٹر جان کیری، کانگریس مین فریک وولف، پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی مارک گرامین اور رچرڈ ہالبروک شامل تھے۔ ایک فون کال کے بعد امریکی سفیر نے فون میرے ہاتھ میں دے دیا اور کہا کہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن لائن پر ہیں۔ ان سے بات کریں اور اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو میرے اور میرے لوگوں کی کوششوں کے بارے میں بھی چند لفظ بول دیں۔“
میں نے گلہ صاف کیا اور بولا: ”ہیلومیڈم سیکرٹری…“
"ہلیری کلنٹن نے سن کر کہا: ”مجھے سن کر خوشی ہوئی کہ آپ محفوظ ہیں اور ہمیں آپ پر فخر ہے۔“
’’مجھے خوشی ہے اور میں آپ کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے میرے لیے اتنا کچھ کیا۔ آپ نے بہت اچھی ٹیم دی، جس نے اس صورتحال میں میری اس طرح مدد کی۔“
میں نے ہیلری کلنٹن کا بہترین ٹیم فراہم کرنے اور مجھے رہا کرانے پر شکریہ ادا کیا.

جاری ہے

  1. کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ) گیارہویں قسط
  2. کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ) دسویں قسط
  3. کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ) پہلی قسط

Tags:

AfghanistanPakistanRaymond DavisThe ContractorUSAUSA Army
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پشاور کے پھل فروش کا بیٹا یوسف خان بالی ووڈ کا لیجنڈ دلیپ کمار کیسے بنا؟

Next

کے الیکٹرک اور حکومت کے درمیان ٹھن گئی

One Comment

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme