
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی ہلاکت پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا سیاسی نظام مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اور کسی ایک فرد کے نہ رہنے سے ریاستی ڈھانچے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عراقچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں ادارے افراد سے زیادہ اہم ہیں۔ اُن کے بقول ماضی میں بھی اعلیٰ سطح کے رہنماؤں کی موت کے باوجود نظام نے بلا تعطل کام جاری رکھا اور فوراً نئی قیادت سامنے آ گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی اور اہم عہدے دار کو بھی نشانہ بنایا جائے تو ریاستی امور رُکنے والے نہیں اور اس کی جگہ لینے والا شخص مقرر کر دیا جائے گا۔
عراقچی نے یہاں تک کہا کہ اگر وہ خود بھی کسی حملے میں مارے جائیں تو وزارتِ خارجہ کا کام جاری رکھنے کے لیے نیا وزیر مقرر کر دیا جائے گا۔
خطے میں حالیہ کشیدگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران کی کارروائیاں صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہیں بلکہ جہاں بھی امریکی افواج یا ان سے وابستہ تنصیبات موجود تھیں، وہاں حملے کیے گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بعض اہداف شہری آبادی کے قریب ہو سکتے ہیں، تاہم اس صورتحال کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس نے اپنی تنصیبات رہائشی علاقوں کے نزدیک قائم کر رکھی ہیں۔




