خوف، مزاحمت اور دیواروں میں قید گواہی
کل شام، اپنے گاؤں کے درختوں کے سائے میں اور فصلوں کے درمیان چلتے ہوئے، جب اچانک ایک اژدھے پر نظر پڑی، جسے ہم بھیڑیا ٹاؤن کہتے ہیں، تو ایک لمحے کو خوف سے آنکھیں بند ہو گئیں۔ یہی گاؤں، میری جنم بھومی، جس کے آنگن میں کبھی طرح طرح کے درختوں کی چھاؤں ہوا…
قانون کی حکمرانی یا طاقت کی حکمرانی؟ 2007 سے 2025 تک ہماری جمود کی کہانی
پاکستان میں عوامی مفاد کی عدالتی لیٹیگیشن نہ ہونے کے برابر ہیں، تقریباً موجود ہی نہیں۔ آپ سو موٹو اختیارات چھین سکتے ہیں، عدالتوں کی تشکیلِ نو کر سکتے ہیں، لیکن بنیادی حقوق یا وہ قانونی بنیادیں جن پر مقدمات کھڑے ہوتے ہیں، انہیں کبھی ختم نہیں کیا جا سکا۔…
کھنڈر سے برآمد ہوئی نامعلوم شاعر کی ایک نظم
امر گل شہر کے بیچوں بیچ ایک پرانا برگد تھا۔ اس کی جڑوں میں مٹی نہیں، مہر شدہ سرکاری فائلیں دبی تھیں جن میں انسانوں کی خاموشی لپٹی تھی۔ عجیب برگد تھا جس کے پتے زرد نہیں ہوتے تھے، صرف رنگ بدلتے تھے: کبھی آئینی سبز، کبھی قانونی نیلا، کبھی اقتدار کا سنہری۔…
بدلتے زمانے میں غلامی کی بدلتی شکلیں
قدیم زمانے میں جب طاقتور قومیں کمزوروں پر حملہ کرتی تھیں تو ان کے تین مقاصد ہوتے تھے۔ مالِ غنیمت کو لوٹنا، مفتوح قوم کی زمینوں پر قبضہ کرنا اور جنگی قیدیوں کو غلام بنانا۔ ابتدا میں جنگی قیدیوں کو فتح کے بعد قتل کر دیا جاتا تھا، تاکہ وہ ان کے لیے خطرے کا…
جنٹل مین بن کے دکھاؤ
پانچویں کے بعد ہائی اسکول میں داخلہ لیا تو انگریزی پڑھنی شروع کی۔ ایک دن چھٹی کی درخواست لکھواتے ہوئے استاد محترم نے I beg to say لکھوایا تو ہاتھ پتھر کے ہو گئے۔ دل نے آواز دی کہ چھٹی کوئی دے یا نہ دے لیکن یہ بھیک نہیں مانگی جا سکتی کہ I beg…
ایک بُدھو (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
کچھ دن قبل میں نے اپنے بچوں کی گورنس، جولیا ویسلوینا کو اپنی اسٹڈی میں بلایا۔ ”بیٹھ جاؤ جولیا ویسلوینا!“ میں نے کہا، ”آؤ ہم آپس میں حساب کتاب کر لیں۔۔ اگرچہ تمہیں پیسوں کی سخت ضرورت ہے لیکن تم تکلفاً کوئی تقاضہ نہیں کرو گی۔۔ ہمارے درمیان تیس روبلز ماہانہ…
ابال (منتخب اردو افسانہ)
جب دودھ ابل ابل کر کوئلوں پر گرنے لگا اور شاں۔۔۔ شاں کی آواز کے ساتھ ایک تیز سی بُو اٹھی تو چندن نے ہڑبڑا کر پتیلی کی طرف ہاتھ بڑھایا، جو کوئلوں کی تپش سے سرخ ہو رہی تھی۔ بےبسی کے انداز میں چندن نے جلد جلد ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ کوئی کپڑا پاس نہ…