Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ننھی تتلی کتنے ہزار کلومیٹر سفر طے کرتی ہے؟

By Akhtar Rasool
جون 22, 2021 2 Min Read
1

لندن : سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ تمام کیڑوں میں ایک قسم کی تتلی نقل مکانی کرتے وقت سب سے طویل سفر طے کرتی ہے۔ اگر موسم ٹھیک رہے تو یہ تتلیاں 12 سے 14 ہزار کلومیٹر تک کا سفر طے کرتی ہیں، جس میں گھر سے عارضی پناہ گاہ اور وہاں سے دوبارہ گھر تک طے کیا گیا فاصلہ شامل ہے

سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ سب صحارا افریقہ سے یورپ تک جانے والی ایک قسم کی ’پینٹڈ لیڈی تتلی‘ یورپ تک جاتی ہے اور ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔ اب تک کسی بھی کیڑے کی یہ سب سے طویل نقلِ مکانی ہے۔ جب موسم نمی سے بھرپور ہو تو وہاں پودے اگنے سے تتلیاں انڈے زیادہ دیتی ہیں اور یوں ان کی بڑی تعداد لمبے سفر پر روانہ ہو جاتی ہے

آب و ہوا کی تبدیلی کے تناظر میں ماہرین نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح مستقبل میں یہ کیڑے اور زردانے بکھیرنے والے دیگر حشرات ایک سے دوسرے برِاعظم امراض اور جراثیم پھیلا سکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ریڈنگ کے پروفیسر ٹِم اولیور نے کہا کہ پینٹڈ بٹرفلائی یورپ تک جس طرح آتی جاتی رہتی ہیں ان کی تعداد ایک سال کے مقابلے میں دوسرے سال سو گنا تک بھی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن اس کی وجہ ہم نہیں جانتے۔ پھر صحارا سے یورپ اور سمندروں کو عبور کرکے پہنچنے کا مفروضہ بھی ثابت شدہ نہ تھا

لیکن اب تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ناقابلِ یقین طویل سفر ممکن ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کس طرح موسمیاتی اتار چڑھاؤ سے تتلیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے اور ان کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون اور اشتراک کی اشد ضرورت بھی ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں سمجھ کر ہم افریقہ میں ٹڈی دل کے اچانک حملوں اور بیماریاں پھیلانے والے مچھروں کے پھیلاؤ کے مطابق بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی کس طرح حشرات سے پیدا ہونے والے امراض میں اضافہ کر سکتی ہے

یہ تتلیاں بہار میں اپنا سفر شروع کرتی ہیں اور ان کے راستے کو جاننے کے لیے ہزاروں رضاکاروں کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ یورپ اور افریقہ میں موسمیاتی کیفیات کو دیکھا گیا ہے جس کے بعد ہی ماہرین نے پینٹڈ لیڈی کو طویل ترین سفرکرنے والے کیڑے کا اعزاز دیا ہے

سائنسدانوں کے مطابق یہ تتلیاں دن کو رکے بغیر اڑتی رہتی ہیں اور رات کو آرام کرتے ہوئے پھولوں کے عرق پر گزارا کرتی ہیں

اندازہ ہے کہ تتلیاں سطح سمندر سے ایک سے تین کلومیٹر بلندی پر سفر کرتی ہیں اور خاص ہواؤں کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ بسا اوقات وہ چھ میٹر فی سطح کی رفتار بھی حاصل کر لیتی ہیں.

Tags:

Batter flyTravel
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کورونا ویکسین نہ لگوانے والا جیل جانے کے لیے تیار رہے، فلپائنی صدر

Next

میرپور خاص سے گرفتاریوں کے بعد ایم کیو ایم کے انیس ایڈوکیٹ اور واسع جلیل کے گرد سی ٹی ڈی کا گھیرا تنگ

One Comment

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme