Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کیا آپ ٹک ٹاک کی لت کا شکار ہیں؟ نئی تحقیق میں علامات کی نشاندہی

By Akhtar Rasool
مئی 16, 2022 4 Min Read
0

ایک تازہ تحقیق میں ’ٹک ٹاک کی لت‘ میں مبتلا افراد کے کچھ رویوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جو ایسے صارفین میں پائے جاتے ہیں جو اس ایپ سے بہت زیادہ حد تک منسلک ہیں

قبل ازیں فیسبک، انسٹاگرام، اور ٹوئٹر جیسی دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے مقابلے میں ٹک ٹاک کا کم ہی مطالعہ کیا گیا ہے، لیکن اس تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ایپ ”خود کو نہ روک پانے کے رویے“ کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے یعنی لوگ خود پر قابو نہ رکھتے ہوئے اس کا استعمال پر مجبور ہو جائیں

اس تحقیق کے لیے یونیورسٹی آف ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو سے وابستہ ٹرائے اسمتھ نے کالج کے 354 طلبہ کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس میں ٹک ٹاک کے 173 اور فیسبک کے 313 صارفین شامل تھے

فیسبک کے صارفین نے ’برگن فیسبک ایڈکشن اسکیل‘ نامی ایک سوالنامہ مکمل کیا، جو اس پلیٹ فارم کی لت کے چھ بنیادی عناصر کی پیمائش کرتا ہے، جن میں نمایاں رہنا، مزاج میں تبدیلی، رواداری، دستبرداری، تنازع اور غلطی کا اعادہ کرنا شامل ہیں

فیسبک کی لت کے پیمانے کے معیار یہ مقرر کیے گئے ہیں: فیسبک کے بارے میں جنونی خیالات رکھنا، فیسبک کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی خواہش محسوس کرنا، ذاتی مسائل کو بھلانے کے لیے فیسبک کا استعمال کرنا، کامیابی کے بغیر فیسبک کے استعمال کو کم کرنے کی کوشش کرنا، فیسبک سے منع کرنے پر بےچین یا پریشان رہنا اور فیسبک کا اتنا استعمال کرنا کہ اس سے اسکول یا کام پر منفی اثر پڑنا

اسی مطالعے کے لیے پیمانے کے ایک اور ورژن کو اپنایا گیا جس میں محض ’فیسبک‘ لفظ کو ’ٹک ٹاک‘ سے بدل دیا گیا

ایسے صارفین، جنہوں نے اس پیمانے پر زیادہ اسکور حاصل کیا، وہ ٹک ٹاک کو زیادہ شدت سے استعمال کر رہے تھے تاہم صارفین کی اکثریت یعنی 68.2 فیصد کو ’ٹک ٹاک کی لت کا کوئی خطرہ نہیں‘ کے طور پر درجہ بندی کی گئی جب کہ ان میں سے محض 25.4 فیصد کو ’کم خطرے‘ کے طور پر دیکھا گیا

ان صارفین میں سے محض 6.4 فیصد کی ’خطرے سے دوچار‘ کے طور پر درجہ بندی کی گئی

واضح رہے کہ چینی ایپ ٹک ٹاک کےلو اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب صارفین استعمال کر رہے ہیں

ڈاکٹر اسمتھ نے سائی پوسٹ نامی ویب سائٹ کو بتایا ”اگرچہ زیادہ تر صارفین ٹک ٹاک کو مسائل کے بغیر انداز میں استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ زیادہ استعمال اور ممکنہ طور پر مسائل سے بھرپور استعمال کا خطرہ موجود ہے اور اس کا تعلق لت جیسے طرز عمل سے ہے جو ممکنہ طور پر متاثرین کی روزمرہ کی زندگیوں پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں“

انہوں نے کہا ”مزید مطالعہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ فیسبک اور ٹِک ٹاک سے پیدا ہونے والی لت کے عمل کے درمیان مماثلتیں موجود ہیں، تاہم اوسط کے مقابلے میں مسائل سے بھرپور استعمال سے وابستہ اظہار، پیش گویوں اور استعمال کی شدت میں نمایاں فرق بھی موجود ہیں۔“

اسی طرح صارف ایک مخصوص پلیٹ فارم پر مسائل سے بھرپور استعمال کے آثار ظاہر کر سکتا ہے، مگر وسیع تر سوشل میڈیا کے استعمال پر نہیں

ڈاکٹر سمتھ نے کہا کہ اس لت کی سب سے واضح علامات یہ ہیں کہ صارف بیچین ہو جاتا ہے، چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتا ہے، پریشان ہو جاتا ہے یا سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ تک رسائی سے محروم ہونے پر اداسی کے شدید جذبات اسے گھیر لیتے ہیں

یو کے ایڈکشن ٹریٹمنٹ گروپ سے وابستہ کنسلٹنٹ ٹریٹمنٹ لیڈ نونو البوکرکی کے مطابق: ’ٹک ٹاک کی لت بلاشبہ ایک بہت ہی حقیقی چیز ہے۔ بدقسمتی سے اس مطالعے میں کرونا وبا کے بعد سے انٹرنیٹ پر معاشرے کے انحصار پر تحقیق نہیں کی گئی۔ ہمیں اپنے کام اور ذاتی زندگی دونوں میں صرف ایک آن لائن دنیا میں دھکیلنے پر مجبور کر دیا گیا‘

انہوں نے مزید کہا ’ٹک ٹاک جیسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس بہت سے لوگوں کے لیے فرار کی ایک شکل بن گئی ہیں خاص طور پر ہماری نوجوان نسل کے لیے، لیکن ایک بے ضرر تفریح کے طور پر شروع ہونے والا یہ عمل تیزی سے کسی اور سنگین چیز میں تبدیل ہو سکتا ہے‘

انہوں نے کہا ’ہم یہ جانتے ہیں کیونکہ ہم لوگوں کا سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر مبنی لت کا علاج کرتے ہیں اور ہم نے 2020ع کے بعد سے ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا ہے جن کا ہم علاج کر رہے ہیں۔

’لیکن مشکل اس لت کے علاج کے طریقے میں آتی ہے، خاص طور پر جب پرہیز پر مبنی علاج کا ماڈل مناسب نہ ہو۔ اس کے بجائے ہم اس فرد کے ذاتی محرکات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، حدود و قیود کا تعین کرتے ہیں، حقیقی زندگی کے تعلقلات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ تنہائی کے احساسات کو ختم کیا جائے اور خود اعتمادی اور عزت پیدا کرنے کے طریقے بتاتے ہیں‘

اس حوالے سے ٹک ٹاک کا موقف ہے کہ ’ہم اپنی کمیونٹی کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے ٹک ٹاک کے تجربے کو کنٹرول میں محسوس کریں۔ ہم اپنی ایپ سے بریک لینے کے لیے فیڈ میں ریمائنڈرز کو فعال طور پر سامنے لانے جیسے اقدامات کرتے ہیں۔

’ہم استعمال کو محدود کرنے کے لیے نوجوان صارفین کے لیے شام کے پش نوٹیفیکیشنز کو محدود اور والدین کو فیملی پیئرنگ فیچرز کے ذریعے اہل بناتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے سکرین ٹائم کو کنٹرول کر سکیں‘

Tags:

addicted to tick tockResearchsymptomsTiktok
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بلوچستان میں جنگلات میں آتشزدگی، بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ

Next

امریکہ میں ’جن‘ نکالتے ہوئے تین سالہ بچی ہلاک، ماں سمیت رشتہ دار گرفتار

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme