Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کیا آپ پلاسٹک سے بنی ونیلا آئس کریم کھانا پسند کریں گے!؟

By Akhtar Rasool
جون 20, 2021 2 Min Read
0

ایڈن برگ : اگر آپ کو ایسی آئس کریم کھانے کا کہا جائے، جس میں ذائقہ پلاسٹک فضلے کے ذریعے شامل کیا گیا ہو، تو آپ کا کیا ردعمل ہوگا؟ جی ہاں، اب سائنس دان جنیاتی انجینئرڈ بیکٹریا کے ساتھ پلاسٹک فضلے کو ونیلا فلیور میں تبدیل کرنے میں کام یاب ہوگئے ہیں

تحقیقی سائنسی جریدے گرین کیمسٹری میں شائع ہونے والی تحقیق کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ونیلا ذائقہ اور خوشبو ایک مرکب ’وینیلائن‘ سے بنتا ہے، جسے قدرتی طریقے سے ونیلا کے بیجوں سے ایکسٹریکٹ کے ذریعے بنایا جاتا ہے، جب کہ یہ ذائقہ (فلیور) مصنوعی طور پر بھی بنایا جاتا ہے۔ 85 فیصد وینیلائن کو رکازی ایندھن (فوسلز فیول) سے حاصل ہونے والے کیمیکل سے بنایا جاتا ہے

جدید دور میں کھانوں، کاسمیٹک، ادویہ سازی، جڑی بوٹی مار ادویات میں وینیلائن کے بڑھتے ہوئے استعمال سے اس کی مانگ میں  تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،ایک اندازے کے مطابق 2025ع تک اس کی سالانہ طلب 65 ہزار ٹں تک پہنچ جائے گی۔ وینیلائن کی اس بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے  سائنس دانوں نے پلاسٹک فضلے کو وینیلائن میں تبدیل کرنے کے لیے ایک انوکھا طریقہ استعمال کیا، جس سے اس کیمیکل کی طلب کو پوری کیا جائے گا

اس نئے طریقے میں یونیورسٹی آف ایڈن برگ  کے محققین نے جنیاتی طور پر تبدیل شدہ E. coli بیکٹریا کو ٹیراپیتھلک ایسڈ کو وینیلائن میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ٹیراپیتھلک ایسڈ اور وینیلائن کی کیمیائی ترکیب بہت حد تک یکساں ہے اور انجینئرڈ بیکٹریا صرف ایک ہی کاربن بیک بون کے ساتھ جڑے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے نمبروں میں معمولی تبدیلی کے لیے ضروری ہے

اس طریقے میں سائنس دانوں نے جنیاتی انجینئرڈ بیکٹریا کو ایک دن کے لیے ٹیراپیتھلک ایسڈ کے ساتھ 37 ڈگری درجہ حرارت پر رکھا، جس سے 79 فیصد ٹیراپیتھلک ایسڈ وینیلائن میں تبدیل ہو گیا

اب وہ دن دور نہیں جب آپ پلاسٹک کے فضلے سے بنی ونیلا آئس کریم اور دیگر اشیا کو مزے سے کھا رہے ہونگے.

Tags:

Ice CreamPlastic
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ڈرون گرنے کے بعد خوفزدہ ہو کر جانے والے نایاب سمندری پرندے لوٹ کر نہیں آئے..

Next

انڈر ٹیکر نے اکشے کمار کو مقابلے کے لیے چیلنج کردیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme