Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

کیا چینیوں نے انگریزوں سے سات سو سال پہلے انگریزی ایجاد کر لی تھی؟

By Akhtar Rasool
جنوری 22, 2022 2 Min Read
0

بیجنگ – ویب سائٹ ’دی انیئن‘ (The Onion) نے اپنی ایک ’خبر‘ میں قدیم دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے ’دعویٰ‘ کیا ہے کہ چینیوں نے انگریزوں سے بھی سات سو سال پہلے انگریزی زبان (رسم الخط سمیت) نہ صرف ایجاد کرلی تھی بلکہ اس کا استعمال بھی شروع کر دیا تھا

خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں دریافت ہونے والی ان قدیم دستاویزات میں انگریزی تحریر کے کچھ نمونے ایسے بھی ہیں، جن کا معیار شیکسپیئر کی شاعری سے بھی ’بہت بلند‘ ہے

واضح رہے کہ ’دی انیئن‘ پر طنزیہ تحریریں شائع کی جاتی ہیں جن کا مقصد تفریح ہوتا ہے نہ کہ سنجیدہ معلومات اور خبریں فراہم کرنا، اس لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے

چین میں انگریزی کی ایجاد سے متعلق اس طنزیہ خبر کا پس منظر یہ ہے کہ چند ہفتے قبل شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ میکسیکو کا مشہور فاسٹ فوڈ ’بریٹو‘ دراصل شمالی کوریا کے سابق صدر کِم جونگ اِل نے ایجاد کیا تھا

2011ع میں کِم جونگ اِل کا انتقال ہوا اور تب سے ان کے بیٹے ’کِم جونگ اُن‘ شمالی کوریا کے صدر ہیں

’دی انیئن‘ کی طنزیہ خبر سے قطع نظر، یہ بات درست ہے کہ چینی ماہرین 2019ع میں یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ انگریزی زبان دراصل چین میں ایجاد کی گئی تھی؛ اور یہ کہ چینی زبان کے بہت سے الفاظ آج بھی تلفظ میں معمولی ردّ و بدل کے ساتھ انگریزی میں استعمال کیے جارہے ہیں

اسی ’تحقیق‘ میں ’ورلڈ سویلائزیشن ریسرچ ایسوسی ایشن‘ نامی ایک چینی تنظیم کے ’ماہرین‘ نے یہاں تک دعویٰ کیا تھا کہ تمام مغربی تہذیبوں کی ابتداء بھی دراصل چین ہی سے ہوئی تھی اور قدیم یونانی، قدیم رومی اور قدیم مصری تہذیبوں سے منسوب باتیں محض جھوٹ کا پلندہ ہیں.

Tags:

ChinaChines CivilizationEnglishGreekRoman Empire
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فیسبک اور انسٹاگرام کی این ایف ٹی کی تیاری اور فروخت میں دلچسپی

Next

محکمہ جنگلات سندھ نے بنڈل اور بڈو جزیروں کو صوبے کی ملکیت قرار دے دیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme