Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

کیا ہم مٹی کی مہربانی سے سخت جان بیکٹیریا کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں؟

By Akhtar Rasool
جنوری 8, 2022 2 Min Read
0

لندن – انسانوں اور بیکٹیریا کی لڑائی طویل عرصے سے جاری ہے، کیونکہ بیکٹیریا تیزی سے اپنی صورت تبدیل کر کے مزید سخت جان اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں

اب مٹی میں ایک نئے مرکب کا انکشاف ہوا ہے، جو عموماً اسپتالوں میں پائے جانے والے ایسے ہی سخت جان بیکٹیریا کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

اسپتالوں میں انفیکشن کی وجہ بننے والا سب سے اہم جرثومہ ”ایسینیٹو بیکٹر بومینیائی“ ہے، جو ہر دوا کو بے اثر بنارہا ہے۔ اسپتالوں میں گھومنے والا یہ بیکٹیریا نہ صرف پینسلین اور ٹیٹراسائیکلین جیسی اہم اینٹی بایوٹک ادویہ کو ناکام بنا رہا ہے بلکہ جراثیم کے خلاف ہمارا آخری ہتھیار کولسٹائن بھی اس سے ہار مان رہا ہے۔ اگر یہ دوا ناکام ہوجائے تو مریض مکمل طور پر انفیکشن کی زنجیروں میں قید ہوجاتا ہے

یہی وجہ ہے کہ خود عالمی ادارے خبردار کررہے ہیں کہ ہم خطرناک بیکٹیریا کے خلاف اپنی جنگ ہار رہے ہیں اور اگر یہ رحجان جاری رہا تو چند عشروں بعد ہی ناقابلِ علاج بیکٹیریا کے اثرات سالانہ کروڑوں جانوں کا خراج لینے لگیں گے

وجہ یہ ہے کہ کولسٹائن کے استعمال میں اضافہ ہوا تو بالخصوص ایسینیٹو بیکٹر بومینیائی تیزی سے بدلا اور اب اس دوا کی افادیت کم کر رہا ہے

لیکن، فطرت مہربان ہے.. سو اچھی خبر یہ ہے کہ اب ماہرین نے مٹی میں اسی بیکٹیریا کا ایک رشتے دار ڈھونڈ لیا ہے۔ اس کے لیے دس ہزار بیکٹیریا کے جینوم کو پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ پینتیس جین ایسے ہیں، جو کولسٹائن جیسی ساخت اور مزاج رکھتے ہیں

اس طرح کئی مراحل سے گزر کر تجربہ گاہ میں ایک مرکباتی سالمہ (کمپاؤنڈ مالیکیول) بنایا گیا، جسے ’میکولیسن‘ کا نام دیا گیا

اب اسے تجربہ گاہ میں رکھ کر ایسے بیکٹیریا کا سامنا کرایا گیا، جو اس سے قبل کولسٹائن اینٹی بایوٹک کو بری طرح ناکام بنارہے تھے۔ پھر چوہوں کو ایکس ڈی آر انفیکشن سے بیمار کیا گیا، جس کے سامنے بھی ہماری آخری اینٹی بایوٹکس بے کار ہوتی ہے

حیرت انگیز طور پر سخت جان بیکٹیریا سے متاثر چوہے اس کمپاؤنڈ کے ایک ٹیکے سے ہی مکمل طور پر تندرست ہوگئے، یعنی نیا مرکب انتہائی خطرناک بیکٹیریا کو بھی ناکام بنانے کے قابل ہوچکا تھا

اگلے مرحلے میں اس کی دوا بنا کر، اس کو ایسے مریضوں پر آزمایا جائے گا، جو مکمل طور پر اینٹی بایوٹکس سے مایوس ہوچکے ہیں.

Tags:

BacteriaSoil
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

موبائل ایپ کے ذریعے خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والا ٹریکٹر!

Next

مری میں شدید برفباری نے تباہی مچا دی، دم گھٹنے اور ٹھٹھرنے سے 22 افراد ہلاک

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme