Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-increasing-protests-against-the-canal-project-should-be-a-wake-up-call-for-the-Peoples-Party
کالماہم ترینتازہ ترین

’کینال منصوبے کے خلاف بڑھتے مظاہرے پیپلز پارٹی کے لیے ویک اپ کال ہونی چاہیے‘

By Akhtar Rasool
مارچ 1, 2025 5 Min Read
0

متنازعہ کینال منصوبے کے خلاف سندھ بھر میں وسیع پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے صوبے کی صورت حال افراتفری کا شکار ہے۔ ’دریائے سندھ کو بچاؤ‘ (سیو ریور انڈس) مہم اب تیزی سے بڑی عوامی تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے جو متنوع سیاسی قوتوں کو ایک نکتے پر یکجا کر رہی ہے۔ اس تنازع نے گزشتہ 16 برس سے صوبے پر حکومت کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو دشوار حالات میں دھکیل دیا ہے۔

اگرچہ پنجاب میں بنجر زمینوں کی آب پاشی کے لیے 6 نہریں بنانے کے وفاقی حکومت کے فیصلے سے پی پی پی نے خود کو الگ کر لیا تھا، لیکن پھر بھی اس بھونچال سے پارٹی لاتعلق نہیں ہو سکتی۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک کینال پروجیکٹ کا مطلب صوبہ سندھ کی وسیع زمین کو بنجر میں تبدیل کرنا ہوگا۔ پی پی پی جوکہ وفاقی حکومت کا حصہ ہے، اس تباہی کے الزام سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔

اگرچہ دریائے سندھ سے پانی کی تقسیم طویل عرصے سے سندھ کے لیے سیاسی طور پر حساس معاملہ رہا ہے لیکن حالیہ تنازع نے صوبے کی صورت حال کو انتہائی سنگین رخ دیا ہے۔

اس نے سندھی قوم پرستی کی تحریکوں کو ایک بھرپور جواز فراہم کیا ہے جو صوبے کے سیاسی منظرنامے میں پی پی پی کے غلبے کی وجہ سے طویل عرصے سے متحرک نہیں تھیں۔

صوبے بھر میں مختلف سندھی قوم پرست گروہوں کی جانب سے منعقد کیے جانے والے احتجاج میں ہزاروں افراد جن میں زیادہ تر نوجوان اور خواتین شامل ہیں۔ بہت سی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کے اراکین بھی کینال پروجیکٹ کی مخالفت کے لیے سراپا احتجاج ہیں، جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے وفاقی اتحاد کو نقصان پہنچے گا۔

عوام میں بڑھتے اشتعال نے صوبائی حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ وفاقی کینال پروجیکٹ کو چیلنج کرے، لیکن پی پی پی کی پوزیشن کے حوالے سے کافی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ منصوبے پر کام کا آغاز بھی ہو چکا تھا لیکن پارٹی قیادت طویل عرصے سے اس پر خاموشی اختیار کیے ہوئے تھی۔ کچھ حلقے الزام عائد کرتے ہیں کہ صدر آصف زرداری نے گزشتہ سال اس منصوبے کی منظوری دی تھی۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں شروع کیے جانے والے وفاقی حکومت کے گرین پاکستان انیشی ایٹو میں صوبائی حکومت نے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی دی ہے۔ آرمی چیف اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے حال ہی میں جنوبی پنجاب کے چولستان میں گرین پاکستان انیشی ایٹو کا افتتاح کیا ہے، جس سے دریائے سندھ سے نکالی جانے والی نئی نہروں سے زمینوں کی آب پاشی ہوگی۔

بہت سے صوبائی رہنماؤں کے لیے مجوزہ کینال پروجیکٹ سے اٹھنے والے تنازع میں کالا باغ ڈیم پروجیکٹ کی گونج سنائی دیتی ہے، جس کی تکمیل کے خلاف مظاہروں میں پورا صوبہ سندھ متحد نظر آیا تھا۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نہریں بننے سے سندھ کی جانب پانی کے بہاؤ میں مزید کمی ہوگی۔ دریائے سندھ میں پانی کی سطح گرنے سے ہر سال ہزاروں ایکڑ اراضی سمندر کی نذر ہو جاتی ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے یقین دہائی کروائی ہے کہ سندھ کے حصے کے پانی کا رخ نہیں موڑا جائے گا لیکن ان کی یقین دہائی بھی اطمینان بخش نہیں۔ پنجاب کے کوٹے میں اضافی پانی نہیں، جسے وہ چولستان کینال منصوبے کو دے سکیں تو اس کے پاس نہروں کی گنجائش پوری کرنے کے لیے پانی کہاں سے آئے گا؟

سب سے حیران کُن یہ ہے کہ اتنے حساس مسئلے پر وفاق میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی اس فیصلے کو مشترکہ مفادات کونسل سے منظور کروایا گیا۔ یہ بھی غیرمعمولی تھا کہ جب منصوبے کو حتمی شکل دی جارہی تھی، تب بھی پی پی پی نے کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ نہیں کیا جبکہ وہ اس مسئلے پر اس وقت بیدار ہوئی ہے کہ جب پروجیکٹ کے مخالفین سڑکوں پر آ چکے ہیں۔

مظاہروں کا آغاز ہوئے کئی ماہ بیت چکے ہیں لیکن عوام کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرنے والے اس منصوبے کے خلاف اب تک کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آ سکی ہے۔ سندھ حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ وفاق کے سامنے معاملے کو مؤثر انداز میں اٹھانے میں ناکام رہے۔ اس کے باوجود ایک سنگین مسئلے سے نمٹنے میں صوبائی حکومت کی کمزور روش کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

بات صرف وفاق نہیں بلکہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کے سامنے کھڑے ہونے کی بھی ہے، جو گرین پاکستان انیشی ایٹو کی سرپرست ہے۔ موجودہ ہائبرڈ نظام میں ان کے کلیدی کردار کے پیش نظر یہ حیران کُن نہیں کہ پی پی پی براہِ راست اس مسئلے پر تصادم سے گریز کر رہی ہے۔

پی پی پی رہنما یقینی بنائیں گے کہ سندھ کا مقدمہ لڑنے کے لیے جمہوری اور آئینی راستے اختیار کیے جائیں۔ یہ شاید ایک دانا فیصلہ ہو لیکن وفاقی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالنے والے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے یہ کافی نہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ درکار ہوگا۔ صوبے میں بڑھتے عدم اطمینان کی پُرتشدد صورت اختیار کرنے سے پہلے کینال پروجیکٹ تنازع سے نمٹنے کی جلد از جلد ضرورت ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو صوبے کو غیرمستحکم کر رہا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان پہلے ہی بےامنی کا شکار ہیں، ایسے میں آبادی کے اعتبار سے ملک کے دوسرے بڑے صوبے میں بڑھتی بے امنی وفاق کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔

یہ آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں کہ کینال پروجیکٹ، جسے سندھی قوم پرست گروپس زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں، روک دیا جائے۔ ان قوم پرست رہنماؤں کے بیانات کافی حد تک سخت ہیں جبکہ پروجیکٹ کے حوالے سے عوام کے خدشات بھی بے بنیاد نہیں۔ ان خدشات کے تدارک کی اصل ذمہ داری وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔ سندھ کے عوام میں غم و غصہ شدید تحفظات پائے جاتے ہیں، جن کی شنوائی ہونی چاہیے۔

صوبوں کے درمیان پانی کے تنازعات کے حل کے لیے ایک جامع آئینی طریقہ کار موجود ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ حکومت سندھ 1991ء کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرنے میں ناکامی کا الزام وفاقی حکومت پر عائد کرتی ہے۔ نہروں کی تعمیر کا یک طرفہ فیصلہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ گمان ہوتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد نے ہماری تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

کینال پروجیکٹ پر بڑھتے عوامی مظاہرے، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان عدم اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس سے انتہا پسند قوم پرست قوتیں مضبوط ہوں گی۔ وسیع پیمانے پر ہوتے یہ مظاہرے اشرافیہ کے تسلط کے خلاف عوام بالخصوص نوجوانوں میں بڑھتی بےچینی کا محض ایک رخ پیش کرتے ہیں۔

یہ صوبے پر دہائیوں سے حکومت کرنے والی پی پی پی کے لیے بھی پیغام ہے۔ گمان ہوتا ہے جیسے پی پی پی جو جمہوری حقوق کی علم بردار بنتی ہے، اب اس کا واحد مفاد اپنے اقتدار کو محفوظ بنانا ہے۔ وہ شاید صوبے کے تیزی سے تبدیل ہوتے سماجی اور سیاسی منظرنامے سے ناواقف ہے۔ مظاہروں کی تازہ ترین لہر پارٹی قیادت کے لیے ویک اپ کال ہونی چاہیے۔

بشکریہ ڈان نیوز۔

Tags:

Canal Project and Federal-State RelationsCanal Project OppositionCanal Project ProtestsCivil Disobedience in SindhCivil Society OppositionCivil Unrest in SindhClimate Change and Water PolicyCoastal Erosion in SindhConstitution and Water RightsConstitutional Violations in Water PolicyEnvironmental Impact of CanalsEstablishment’s RoleFarmers’ Rights in SindhFederal Government AccountabilityFederal Government PoliciesFederal Water Policy CriticismFederal-Provincial ConflictsFederal-Provincial TensionsFederal-State RelationsGrassroots Resistance in SindhGreen Pakistan InitiativeHydropolitics in PakistanIndus Basin ManagementIndus River and National UnityIndus River Delta DestructionIndus River ProtectionKhyber Pakhtunkhwa and Balochistan InstabilityMilitary’s Role in DevelopmentNational Political Ramifications of Water CrisisNational Unity ConcernsPolitical Accountability for Water IssuesPolitical Elites and Water CrisisPolitical Fallout of Canal ProjectPolitical Implications of Water CrisisPolitical Leadership and Water IssuesPolitical Stakes in Water ManagementPolitical Turmoil in SindhPPP Government CriticismPPP Leadership DilemmaPPP Political ChallengesPPP’s Declining PopularityPPP’s Dilemma in Water PolicyPPP’s Electoral RisksPPP’s Image CrisisPPP’s Political SurvivalPPP’s Response to ProtestsPPP’s Role in National PoliticsPPP’s Stance on Water CrisisProtest Movements and National PoliticsProtest Movements in PakistanProtests Against Federal DecisionsProtests Against PPPPublic Awareness on Water IssuesPublic Awareness on Water RightsPublic Discontent in SindhPublic Mobilization for Water RightsPublic Protests Against Water ProjectsPublic Sentiment Against Water PoliciesPublic Unrest in SindhPunjab Irrigation PlansPunjab-Sindh Water DisputeSave River Indus MovementSindh Land DegradationSindh Water CrisisSindh’s Agricultural CrisisSindh’s Declining Trust in PPPSindh’s Demand for Equitable Water DistributionSindh’s Demand for Water JusticeSindh’s Demands for Water JusticeSindh’s Environmental ConcernsSindh’s Fight for WaterSindh’s Future Water SecuritySindh’s Political AwakeningSindh’s Political LandscapeSindh’s Political UpheavalSindh’s Protest CultureSindh’s Resistance Against Canal ProjectSindh’s Struggle for ResourcesSindh’s Water Crisis and Policy FailuresSindhi Farmers' StrugglesSindhi Nationalist MovementsUnequal Water DistributionWater Allocation ControversyWater Crisis and GovernanceWater Crisis and National SecurityWater Disputes and Social UnrestWater Distribution ControversiesWater Infrastructure DebatesWater Mismanagement in PakistanWater Rights AdvocacyWater Rights MovementWater Scarcity and FederalismWater Scarcity and Political TensionsWater Scarcity in SindhWater Scarcity-Induced ProtestsWater Security and Political StabilityWater Security in PakistanWater Wars in PakistanYouth Activism in SindhYouth and Women Protests
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Taklamakan-The-Story-of-the-Battle-of-Man-and-the-Desert
Previous

تکلامکان: انسان اور صحرا کی جنگ کی کہانی

Bengali-Literature-and-short-stories
Next

ہم جماعت (بنگالی ادب سے منتخب کہانی)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme