Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

کینسر کے علاج کے سلسلے میں جلد خوشخبری متوقع

By Akhtar Rasool
اکتوبر 20, 2022 2 Min Read
0

ترک نژاد طبی سائنسدانوں اوگور شاہین اور ان کی اہلیہ اوزلم تورجی کا کہنا ہے کہ دنیا چند سال کے اندر موذی بیماری کینسر کے خلاف ویکسین کی ایجاد سے مستفید ہو سکے گی

اپنے ایک تازہ ترین انٹرویو میں دونوں سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کینسر کے خلیوں کو تباہ کرنے میں مدد کے لیے کووڈ ویکسین ایم آر این اے کی ٹیکنالوجی کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس طریقہ کار سے تیار کی جانے والی ویکسین دنیا بھر کے کینسر کے مریضوں کے علاج کو ممکن بنا سکتی ہے

یاد رہے کہ اوگور شاہین اور ان کی اہلیہ اوزلم تورجی نے جرمن ادویات ساز کمپنی بائیو این ٹیک اور کمپنی فائزر کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کے خلاف انقلابی کووڈ ویکسین mRNA تیار کی تھی،

ان کا کہنا ہے ”ہم نے ایسے کامیاب تجربے کیے ہیں، جن کے نتائج سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ آنے والے سالوں میں کینسر کے خلاف بھی مؤثر ویکسین تیار ہو جائے گی۔“

اپنے حالیہ انٹرویو میں پروفیسر اوزلم تورجی نے بتایا کہ بائیو این ٹیک کی کووڈ ویکسین کی ایجاد کے دوران یہ امر سامنے آیا کہ ویکسین mRNA کی ٹیکنالوجی کو دوبارہ استعمال کر کے کینسر کے خلاف ویکسین تیار کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ مذکورہ ویکسین سے کیے گئے تجربے کے دوران مدافعتی نظام کی مدد سے کورونا وائرس کے بجائے کینسر کے خلیوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت پائی گئی

اس سوال کے جواب میں کہ ایم آر این اے پر مشتمل کینسر کی ویکسین کب تک استعمال کے لیے تیار ہو سکے گی؟ پروفیسر شاہین نے کہا ”2030ع سے پہلے‘‘

پروفیسر اوگوار شاہین نے اس بارے میں مزید کہا ”کینسر کا علاج یا کینسر کے مریضوں کی زندگیوں کو بدلنا اب ہماری گرفت میں ہے۔ کینسر کے خلاف یہ ویکسین 2030ع سے پہلے وسیع پیمانے پر تیار ہو سکتی ہے“

ترک نژاد اس جوڑے نے 2008ع میں بائیو این ٹیک کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کا بنیادی مقصد دراصل کینسر کے خلاف انفرادی کینسر امیون تھراپی کے علاج کی ایجاد تھا۔ تاہم جب کورونا کی عالمی وبا پھیلی تو انہوں نے اس ٹیکنالوجی کو اپنایا تاکہ پہلی مؤثر کووڈ-19 ویکسین تیار کی جا سکے

جرمن دواساز کمپنی بائیون ٹیک کے لیے کام کرنے والے سائنسدان امید کرتے ہیں کہ اس طرح آنتوں کے کینسر، میلانوما یا سیاہ رسولی اور سرطان کی دیگر اقسام کا علاج ممکن ہو گا۔ کینسر کے خلیات جو ٹیومر یا رسولی بناتے ہیں، ان میں مختلف قسم کے پروٹین کو بھرا جاتا ہے، اس وجہ سے کسی ایک ایسی ویکسین کو تیار کرنا انتہائی مشکل عمل ہے جو کینسر کے تمام خلیوں کو تو نشانہ بنائے مگر صحت مند ٹشوز کو نقصان نہ پہنچائے۔

Tags:

Cancer Treatmentcancer vaccineVACCINE
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاکستان میں سیلاب کے سبب تباہی کا ذمہ دار کون؟

Next

شیرباز مری: سبزی منڈی سے باکسنگ رِنگ تک ’اتنے میڈل جیتے، لیکن کسی نے پوچھا تک نہیں‘

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme