Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

گرمی میں دہکتے جیکب آباد کے متعدد دیہات 2010ء سے بجلی سے محروم۔۔

By Akhtar Rasool
جون 18, 2023 4 Min Read
0

حکومت کی جانب سے گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے باعث متاثر ہونے والوں کو گھر بنا کر دینے کے وعدے کا ایفا نہ ہونا ایک طرف لیکن حد تو یہ ہے کہ جیکب آباد کی پانچ یونین کونسلوں میں 2010ء کے سیلاب میں کھمبے گرنے کے بعد منقطع ہونے والی بجلی بھی آج تک بحال نہیں ہو سکی اور یہاں کے لوگ اس دہکتے موسم میں سولر پینل پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں

گرمی کی تکلیف کے ساتھ زندگی گزارتے جیکب آباد کے ان دیہات کے باسی سولر سے تھوڑی سی بجلی تو حاصل کر رہے ہیں، لیکن اس سے وہ اپنی روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں

بجلی سے محروم یونین کونسل ناؤڑا کے کاشت کار عبدالرزاق تیس ایکڑ اراضی کے مالک ہیں، جہاں وہ چاول، گندم اور سبزیاں اگاتے ہیں۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی فصلوں کو پانی دینے کے لئے جنریٹر سے ٹیوب ویل چلانا پڑتا ہے، جس سے ان کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے

لوک سجاگ میں شائع جنید علی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس یونین کونسل میں چاول کی ایک اور آٹے کی چار ملیں ہے، جو پچھلے تیرہ سال سے بند پڑی ہیں اور مقامی لوگ آٹے کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ٹریکٹر کے ذریعے بجلی پیدا کرتے ہیں

علاقے کے بیشتر مقامات پر زیرزمین پانی نمکین ہے۔ جہاں میٹھا پانی ہے، وہاں ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ٹیوب ویل بھی بند ہیں اور لوگوں کو ہینڈ پمپ سے پانی حاصل کرنا پڑتا ہے، تاہم یہ پانی بھی صرف غسل خانے میں ہی استعمال کیا جا سکتا اور پینے کا پانی لینے کے حصول کے لیے لوگ دور دراز جگہوں پر جانے پر مجبور ہیں

علاوہ قزیں بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم اور لوگوں کے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں

سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کے چیف ایگزیکٹو منظور احمد سومرو کا موقف ہے کہ 2010ء کے سیلاب میں کھمبے اور تاریں گرنے کے باعث یونین کونسل ناؤڑا، شاہ پور، میراں پور اور آس پاس کے کچھ علاقوں میں بجلی منقطع ہو گئی تھی، جسے کچھ عرصہ بعد بحال کر دیا گیا۔ لیکن اسی دوران ان علاقوں میں ٹرانسفارمر، بجلی کے کھمبے اور تار چوری ہونے لگے۔ سیپکو نے ان واقعات پر مقدمات بھی درج کرائے لیکن پولیس کسی ملزم کو نہیں پکڑ سکی

منظور سومرو یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ سیاسی شخصیات پولیس کو ملزموں کے خلاف کارروائی سے روکتی ہیں کیونکہ انہوں نے مقامی لوگوں سے ووٹ لینا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں بجلی کے بلوں کے مد میں ریکوری بھی صفر ہے اور 2010ء سے پہلے بھی یہاں کے لوگ بل ادا نہیں کرتے تھے

انہوں نے کہا ”اگر مقامی سیاسی شخصیات یقین دہانی کرائیں کہ ٹرانسفارمر، کھمبے اور تاریں چوری نہیں ہوں گی اور لوگ بل بھی باقاعدگی سے ادا کریں گے تو اسی صورت بجلی کی بحالی ممکن ہے“

راجہ بلیدی کا خاندان یونین کونسل شاہ پور میں پانچ سو ایکڑ زرعی اراضی کا مالک ہے، لیکن اب یہ لوگ اپنا علاقہ چھوڑ کر جیکب آباد شہر میں کرائے کے گھر مقیم ہیں کیونکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شاہ پور میں زندگی گزارنی مشکل ہو چکی ہے

وہ کہتے ہیں کہ بجلی کے بغیر شاہ پور اور گردونواح کی یونین کونسلوں میں اسکولوں اور بنیادی مراکز صحت سمیت ہر سہولت معطل ہے، اس لئے وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر شہر آ گئے ہیں۔ انہی کی طرح شاہ پور کے دیگر لوگ بھی شہر میں آنا چاہتے ہیں لیکن مہنگائی کے باعث ہر ایک کے لئے نقل مکانی کرنا ممکن نہیں

راجہ بلیدی بتاتے ہیں کہ سیلاب سے کچھ عرصہ بعد شاہ پور، میراں پور اور گردونواح کے چند دیہات کو مولاداد فیڈر سے بجلی مہیا کی جاتی رہی لیکن 2018ء میں یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ اہل علاقہ نے بجلی کی بحالی کے لئے سیپکو کے چیف ایگزیکٹو، ایف آئی اے اور اس وقت کے وزیراعظم کو بھی درخواستیں دیں لیکن بجلی بحال نہ ہو سکی

مقامی لوگ الزام عائد کرتے ہیں کہ سیلاب کے بعد بہت سی جگہوں پر بجلی بحال نہ ہوئی، لیکن بعض دیہات ایسے بھی تھے، جہاں 2018ء تک غیر قانونی طور پر بجلی فراہم کی جاتی رہی

تاہم اس کے جواب میں مولاداد فیڈر کے لائن سپرنٹنڈنٹ محمد علی سرہیو کا کہنا ہے کہ 2010ء میں بجلی منقطع ہونے کے بعد شاہ پور اور میراں پور کے مکین مولاداد اور واٹر سپلائی کے فیڈر سے بجلی چوری کرتے تھے۔ محکمے نے کئی مرتبہ ان کے کنکشن کاٹے لیکن یہ لوگ انہیں دوبارہ جوڑ لیتے تھے۔ یہ سلسلہ 2018ء تک چلتا رہا یہاں تک کہ علاقے سے بجلی کے کھمبے اور تاریں چوری ہو گئیں

بجلی کی بحالی کے حوالے سے سیپکو کےایگزیکٹو انجینئر محمد شفقت لاشاری کا کہنا ہے کہ یہ سوال ایس ڈی او شہباز اعوان سے پوچھا جائے۔ شہباز اعوان کا کہنا تھا کہ وہ چند ہی روز پہلے اس فیڈر پر تعینات ہوئے ہیں، اس لئے یہ سوال لائن سپرنٹنڈنٹ سے کیا جائے

لائن سپرنٹنڈنٹ کے مطابق علاقے میں بجلی کے نئے کھمبے، ٹرانسفارمر اور تاریں نصب کرنے کی منظوری سیپکو کے چیف ایگزیکٹو ہی دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں متعدد درخواستیں بھی دی جا چکی ہیں لیکن انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا

مقامی لوگوں کو شکوہ ہے کہ جیکب آباد سے منتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی محمد میاں سومرو، اسلم ابڑو اور ممتاز جاکھرانی نے بھی اس اہم مسئلے پر توجہ نہیں دی

جیکب آباد سے 2018ء میں تحریک انصاف کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی محمد میاں سومرو کا الزام ہے کہ یونین کونسل ناؤڑا، شاہ پور اور میراں پور میں ان کے سیاسی مخالفین کا اثر و رسوخ ہے، جنہوں نے جان بوجھ کر کھمبے اور تاریں چوری کروائیں اور وہی بجلی کی بحالی میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس علاقے کے لوگوں نے انہیں بجلی بحال کرانے کے لئے کبھی کوئی درخواست نہیں دی اگر لوگوں نے کہا تو وہ وزیر توانائی کو بجلی بحال کرنے کی سفارش ضرور کریں گے۔

Tags:

brickmakers toil in pakistan's jacobabadheatwave in jacobabadJackobabadJacobabadjacobabad is burningjacobabad la ciudad más calurosa del mundojacobabad pakistanjacobabad pakistan highest temperaturejacobabad sindh pakistanjacobabad temperature recordsmujeres sufren más en jacobabadresidents suffer from frequent heat strokes in jacobabadverano largo jacobabadverano largo jacobabad pakistán
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ماحولیات بمقابلہ معیشت: بھارت میں سعودی ریفائنری کی تعمیر کے خلاف گاؤں والے سراپا احتجاج

Next

آئی ایم ایف اور بھرا ہوا سگریٹ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme