Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

یورپ میں ہیٹ ویو کا عفریت رواں صدی کے آخر تک سالانہ نوے ہزار انسان نگل لے گا!

By Akhtar Rasool
نومبر 9, 2022 2 Min Read
0

یورپ کے ماحولیاتی ادارے یورپین انوائرمنٹ ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی اقدامات نہ کیے گئے تو گرمی کی لہریں یا ہیٹ ویوز صدی کے آخر تک ہر سال یورپ کے نوے ہزار شہریوں کی موت کا باعث بن سکتی ہیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایجنسی نے بتایا ”موافق اقدامات کے بغیر، اور سنہ 2100ع تک تین ڈگری سیلسیس گلوبل وارمنگ کے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے نوے ہزار یورپی سالانہ شدید گرمی سے مر سکتے ہیں“

انوائرمنٹ ایجنسی کے تخمینے کے مطابق اگر تین ڈگری سینٹی گریڈ کے بجائے ایک اعشاریہ پانچ یا ڈیڑھ ڈگری سیلسیس کی گلوبل وارمنگ ہو تو یہ اموات سالانہ تیس ہزار تک کم ہو جاتی ہیں

واضح رہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے گلوبل وارمنگ کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح یعنی 1.5 ڈگری سیلسیس تک رکھنے کا عہد کیا ہے

ایجنسی نے انشورنس کمپنیوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 1980ع سے سنہ 2020ع کے درمیان تقریباً ایک لاکھ انتیس ہزار یورپی باشندے گرمی کی شدت سے ہلاک ہوئے

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید گرمی کی لہروں، بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کے پھیلنے سے آئندہ برسوں میں خاص طور پر براعظم یورپ کے جنوب میں اموات کی تعداد میں اضافے کا امکان بڑھ گیا ہے

عالمی ادارہ صحت نے پیر کو کہا تھا کہ یورپ میں گرم موسم کی وجہ سے رواں سال اب تک کم از کم پندرہ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

موسمیاتی تبدیلی کا ریکارڈ رکھنے جانے کے بعد سے اب تک رواں سال جون تا اگست کے تین مہینے یورپ میں سب سے زیادہ گرم رہے، اور غیر معمولی طور پر بلند درجہ حرارت نے قرون وسطیٰ کے بعد سے براعظم یورپ کو بدترین خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا

انوائرمنٹ ایجنسی کے مطابق گرمی کے خطرے کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی سے یورپ کے شہریوں میں متعدی بیماریوں جیسے ملیریا اور ڈینگی بخار ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے

اسی طرح گرم ہوتے سمندری پانی بھی ان بیکٹیریا کے لیے تیزی سے موزوں ہوتے جا رہے ہیں، جو ہیضے کی وجہ بنتے ہیں۔ خاص طور پر بحیرہ بالٹک کے ساحلوں کے ساتھ واقع علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں

یورپین انوائرمنٹ ایجنسی کے مطابق زیادہ درجہ حرارت سے وابستہ تقریباً تمام اموات کو روکا جا سکتا ہے۔ گرمی کے صحت پر اثرات کو کم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر حل کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں مؤثر ہیٹ ایکشن پلان، شہروں میں سبزے کو بڑھانا، عمارتوں کے درجہ حرارت کے حوالے سے مناسب ڈیزائن اور تعمیر، اور کام کے اوقات اور حالات کو ایڈجسٹ کرنا شامل ہیں۔

Tags:

ClimateClimate changeEEAenvironmentalEuropeGlobalGlobal warmingHeatwavesWarming
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

Next

آٹھ برس کی بچی کو گھر کے اندر سات برس تک قید رکھنے کا معاملہ، ماں اور نانا نانی سے تفتیش

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme