سائنسدان ایسا کیوں کہہ رہے ہیں کہ چاند ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔۔!؟

ویب ڈیسک

محققین کا کہنا ہے کہ چاند ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے، جسے ’لونر اینتھروپوسین‘ (چاند پر انسانی سرگرمی کے اثرات کا دور) کہتے ہیں

محققین کہتے ہیں ”انسان چاند کی سطح کو تبدیل کر چکے ہیں اور اس کی سطح کو اس حد تک تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ اسے چاند کا نیا دور سمجھا جائے۔“

مزید یہ کہ انسان آنے والے برسوں میں چاند کے ماحول کو مزید تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مزید خلائی جہاز چاند پر بھیجے جائیں گے اور ایک بار پھر انسان چاند پر اتریں گے

محققین کے مطابق، انسانوں کے ہاتھوں ہونے والی تبدیلیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے یہ واضح کرنے میں مدد ملے گی کہ چاند کی سطح ہمیشہ ایک سی نہیں رہتی اور انسانوں نے اس میں اہم تبدیلیاں کی ہیں

چاند کے نئے دور کے موضوع پر مضمون نیچر جیو سائنس نامی جریدے کے اس حصے میں شائع ہوا ہے، جس میں محققین اپنی آراء کا اظہار کرتے ہیں

محققین کے مطابق، چاند کے نئے دور کے آغاز کو 1959 سے سمجھا جا سکتا ہے، جب روس کا لونا ٹو نامی خلائی جہاز وہ جہاز تھا، جو سب سے پہلے چاند کی سطح پر اترا

تحقیق کے سرکردہ مصنف اور یونیورسٹی آف کنساس کے جیولوجیکل ریسرچر جسٹن ہول کومب کہتے ہیں ”یہ خیال زمین پر انسانی سرگرمیوں پر ہونے والی بحث سے ملتا جلتا ہے، یعنی یہ پتا لگانا کہ انسانوں نے ہمارے سیارے کو کتنا متاثر کیا ہے“

”زمین پر اتفاق رائے یہ ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے اثرات ماضی میں کسی موقعے پر سامنے آنا شروع ہوئے، چاہے وہ ہزاروں سال پہلے کا زمانہ ہو یا 1950 کی دہائی“

وہ کہتے ہیں ”اسی طرح چاند کے معاملے میں ہمارا استدلال ہے کہ وہاں انسانی سرگرمیوں کے اثرات پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں، لیکن ہم بڑے پیمانے پر نقصان یا اس کی شناخت میں تاخیر کو روکنا چاہتے ہیں، اس سے پہلے کہ ہم انسانی سرگرمیوں کے اثرات کے واضح آثار دیکھنا شروع کر دیں۔ تب تک بہت دیر ہو جائے گی“

انسان پہلے ہی چاند کی سطح پر بہت سا ملبہ چھوڑ چکا ہے، جس میں گالف کی گیندیں اور جھنڈے شامل ہیں، جو پہلی بار چاند پر اترنے کے بعد وہاں گرائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ انسانی فضلہ اور دیگر کچرا بھی شامل ہے

مزید برآں انسان چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انسان چاند کی سطح پر کھدائی کرنے اور یہاں تک کہ وہاں رہنے کی تیاری کر رہے ہیں

ہول کومب کے مطابق ”انسانی سرگرمیاں قدرتی عوامل کے مقابلے میں چاند کی سطح کو کہیں زیادہ متاثر کر رہی ہیں۔۔ ان سرگرمیوں میں مٹی اور پتھر جسے ہم ’ریگولتھ‘ کہتے ہیں، کو حرکت دینا شامل ہے۔ عام طور پر یہ کام دوسرے عوامل سمیت شہابیوں کے ٹکرانے کے اثرات اور بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ تاہم جب ہم روورز ، لینڈرز اور انسانی نقل و حرکت کے اثرات پر غور کرتے ہیں تو وہ چاند کی بالائی سطح پر نمایاں اثرات مرتب کرتے ہیں“

وہ مزید کہتے ہیں ”نئی خلائی دوڑ کے تناظر میں، چاند کا منظر نامہ پچاس سال میں مکمل طور پر بدل جائے گا، متعدد ممالک آگے آئیں گے، جس سے متعدد مسائل پیدا ہوں گے۔ ہمارا مقصد اس مفروضے کو تبدیل کرنا ہے کہ چاند تبدیل نہیں ہوتا اور اس بات کو نمایاں کرنا ہے کہ انسان پہلے سے اسے کیسے متاثر کر چکے ہیں، اس وقت کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ہمارے چاند پر اثرات پر بحث کا آغاز کیا جائے۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close