لاڑکانہ، میڈیکل کالج کی طالبہ کی خودکشی یا قتل؟

نیوز ڈیسک

لاڑکانہ – سندھ کے شہر لاڑکانہ کے میڈیکل کالج کی ڈاکٹر کی خود کشی کا واقعہ پر اسرار معمہ بن گیا

لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج کی ڈاکٹر نوشین نے خود کشی کی ہے یا اس کا قتل کیا گیا؟ اس سے متعلق تحقیقات جاری ہیں

نوشين کاظمی کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے تھا، ان کے نانا استاد بخاری سندھ کے نامور شاعر اور استاد رہے ہیں ان کے والد سید ہدایت شاہ محکمۂ سوشل ویلفئیر میں چائلڈ پروٹیکشن افسر ہیں

ایس ایس ایس پی اور فرانزک ٹیم کا ہاسٹل میں متوفیہ کے کمرے کا تفصیلی معائنہ کیا گیا ہے، متوفیہ کی ڈائری اور موبائل فون قبضے میں لے کر کمرہ سیل کر دیا گیا ہے جبکہ کمرے کے باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں

ڈاکٹر نوشین کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل کر کے لاش والد کے حوالے کردی گئی ہے

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاڑکانہ میں واقع شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل سے ایک طالبہ کی گلے میں پھندہ لگی ہوئی لاش ملی تھی، ساتھ میں ایک تحریر بھی موجود تھی، جبکہ ورثا کا کہنا ہے کہ نوشین خودکشی نہیں کر سکتی

نوشین کے والد نے کہا کہ تین روز قبل ہی نوشین خوشی خوشی کالج گئی تھیں، وہ خودکشی نہیں کر سکتیں

یہ واقعہ بدھ کی دوپہر کو گرلز ہاسٹل نمبر 2 میں پیش آیا ، اسسٹنٹ کمشنر لاڑکانہ احمد علی سومرو کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ نوشین کاظمی کی روم میٹ باہر گئی ہوئی تھی، وہ کمرے میں اکیلی تھی، دو تین گھنٹے کے بعد روم میٹ واپس آئی تو کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا، تو انہوں نے آواز دے کر بلایا اور جب جواب نہیں ملا تو انہوں نے کھڑکی میں لگی جالی میں سوراخ کر کے دیکھا تو اندر لاش پڑی ہوئی تھی

اس کمرے کے کونے میں موجود رائیٹنگ ٹیبل کے اوپر نوشین کے دونوں پاؤں موجود تھے، جو دونوں ہوا میں نہیں بلکہ ٹیبل کے سطح پر موجود تھے، جبکہ رسا اوپر چھت کے پنکھے میں بندھا ہوا تھا، جو تھوڑا سے جھکا ہوا تھا اور رسے کا آخری سرا پھندے کی صورت میں نوشین کے گلے میں موجود تھا

پولیس کو ایک کاغذ کے ٹکڑے پر رومن میں تحریر کردہ ایک نوٹ بھی ملا، جس میں لکھا تھا کہ”میں خود اپنی مرضی سے ہینگنگ کرنے جا رہی ہوں، نہ کسی کے پریشر میں کر رہی ہوں۔“

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کی لڑکیوں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن ان سے نہیں کھلا اس کے بعد وارڈن کو بتایا گیا تو کالج انتظامیہ نے دروازہ کھولا لیکن کسی چیز کو چھیڑا نہیں

پولیس کے فارنزک شعبے نے اس نوٹ سمیت دیگر اشیائے استعمال تحویل میں لی ہیں

یونیورسٹی کے ترجمان عبدالصمد بھٹی کا کہنا ہے کہ کمرے سے ایک نوٹ ملا ہے، وہ سی سی ٹی وی فوٹج بھی محفوظ بنائیں گے اور پولیس کے علاوہ یونیورسٹی کی محکمہ جاتی تحقیقات بھی ہوگی

سندھیانی تحریک کی رہنما مرک منان چانڈیو کا کہنا تھا کہ جو وڈیوز سامنے آئی ہیں، ان سے نہیں لگتا کہ یہ خودکشی کا واقعہ ہے. دو سال قبل نمرتا کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، اگر اس کے ساتھ انصاف ہوتا تو یہ لاش نہیں ملتی

یاد رہے کہ میرپور ماتھیلو سے تعلق رکھنے والی نمرتا چندانی لاڑکانہ میں واقع آصفہ بی بی ڈینٹل کالج کی طالبہ تھیں، اور اسی کالج کے ہاسٹل کے کمرہ نمبر تین سے پیر کی شب ان کی لاش برآمد ہوئی تھی

نمرتا کی موت کی وجہ گلے کا گھٹنا قرار دی گئی تھی تاہم ان کے خاندان نے اس توجیہہ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا تھا اس کی تحقیقات بھی ہوئی، لیکن رپورٹ سامنے نہیں آ سکی

سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر جسٹس فار نوشین کاظمی ٹرینڈ جاری ہے. جس میں صارفین خودکشی پر شک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں ، ماہ سنگھ پرمار لکھتے ہیں کہ یہ ہی ہاسٹل دو سال قبل چوتھے سال کی طالبہ نمرتا کے قتل کا گواہ ہے. یہ ادارے کیوں کلنگ فیلڈ بنے ہوئے ہیں

سورٹھ سندھو لکھتی ہیں کہ چوتھے سال کی طالبہ روم میں مردہ حالت میں پائی گئی، تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کے پیر ٹیبل پر ہیں اور رسا چھت کے پنکھے میں بندھا ہوا ہے اس کو خودکشی کا رنگ دیا جارہا ہے یہ پہلا کیس نہیں ہے اس کی شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close