آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلے میں ابھی وقت ہے، عمران خان کا انٹرویو

نیوز ڈیسک

اسلام آباد – وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہوں نے اب تک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں نہیں سوچا

وزیراعظم نے نجی ٹی وی چینل دنیا ٹی وی اسلام آباد کے بیورو چیف خاور گھمن سے ون آن ون ملاقات میں کہا کہ موجودہ سال ابھی شروع ہوا ہے اور نومبر بہت دور ہے، پھر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی فکر کیوں ہے؟

خاور گھمن کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے فوجی قیادت کے ساتھ بے مثال تعلقات ہیں

جب عمران خان سے مسلم لیگ (ن) اور فوج کے درمیان ممکنہ ڈیل اور حکومت کو گھر بھیجنے کی افواہوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا انہیں کسی بھی جانب سے خطرہ محسوس ہوا، تو وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر کسی قسم کے دباؤ میں نہیں ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں حکومتی اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت اپنے مینڈیٹ کے پانچ سال مکمل کرے گی

عمران خان نے یہ بھی کہا ہے ’حکومت کے لیے آئندہ تین ماہ کافی اہم ہیں۔‘

وزیراعظم کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’اپوزیشن اگر تحریک عدم اعتماد لانا چاہتی ہے تو ضرور لے آئے۔‘

احتساب کے لیے اپنی پارٹی کی جدوجہد کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن کی بڑی شخصیات پر بدعنوانی کے الزامات پر ابھی تک مقدمہ نہیں چلا اور کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے وہ آزاد گھوم رہے ہیں

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) عدالت میں مقدمات لے جائے گا لیکن ان پر کارروائی نہیں ہو رہی

وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف بدعنوانی کے ثبوت ہونے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہ کرنا ان کی حکومت کی سب سے بڑی کوتاہی قرار دیا جاسکتا ہے

تاہم وہ اس حوالے سے پُرامید دکھائی دیے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) جو تازہ کیس لے کر آیا ہے، اس میں وہ سزا سے نہیں بچ پائیں گے

”شہباز شریف کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں، کیا کوئی انکار کرسکتا ہے کہ شہباز شریف نے کرپشن نہیں کی۔“

وزير اعظم نے خیبر پختونخوا میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست کو ‘بڑا نقصان’ قرار دیا

جب وزیراعظم عمران خان سے پوچھا گیا کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے کیسی منصوبہ بندی کی ہے تو انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر اعتماد کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ جب پنجاب میں انتخابات ہوں گے تو ان کی پارٹی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی

ٹی وی چینل سے ہونے والی اس گفتگو میں عمران خان نے امریکا اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خوش گوار قرار دیا

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار اور سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے عمران خان کی طرف سے حکومت کے لیے آئندہ تین ماہ کو اہم قرار دیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ پہلے بھی ایسی باتیں کرتے آئے ہیں

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ وہ ہر چند ماہ بعد یہی کہتے ہیں۔ ظاہر ہے ابھی خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ اگلے تین ماہ میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں یا نہیں

سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی تقرریاں کافی اہم ہوتی ہیں۔ ان تقرریوں کے ساتھ یہاں کی سیاست میں بھی اکھاڑ پچھاڑ ہوتی ہے اسٹیبلشمنٹ کی تقرریوں سے قبل اس قسم کا ارتعاش شروع ہوجاتا ہے۔ میرے خیال میں اس پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ارتعاش ابھی سے شروع ہوگیا ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close