ہم کتنا پانی ضائع کرتے ہیں؟

ویب ڈیسک

چند سال قبل آسٹریلیا کی ایک واٹر کمپنی نے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ سے استفادہ کیا تھا، جس کا مفہوم ہے ”بہتے دریا پر ہوتے ہوئے بھی پانی حد سے زیادہ خرچ مت کرو“ واٹر کمپنی نے یہ حدیث پانی کی بوتل پر تحریر کرائی تھی

پانی کی قلت کے اس دور میں پانی جیسی بیش بہا نعمت کا تحفظ بہت ضروری ہو چکا ہے۔ یہ اہم ہے کہ کھانا پکانے اور نہاتے وقت کتنا پانی استعمال کیا جاتا ہے؟ کافی پینے والے بھی بہت سارا پانی استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر تو لگتا ہے کہ ایک کپ کافی بنانے پر پانی زیادہ سرف نہیں ہوتا

واٹر فُٹ پرنٹ نیٹ ورک ایک ایسا ادارہ ہے، جو انسانی معاشروں کو تازہ پانی کی افادیت و اہمیت کے بارے میں آگہی فراہم کرتا ہے۔ اس کے مطابق ایک کپ کافی بنانے پر اصل میں 132 لٹر یا 35 گیلن پانی درکار ہوتا ہے۔ حیران ہونے کی ضرورت نہیں، اتنا پانی کافی کے بین چننے اور ان کے پیسنے پر صرف ہوتا ہے۔ اس میں وہ پانی بھی شامل ہے، جو ایک کافی کے پودے کی آبیاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

واٹر فٹ پرنٹ نیٹ ورک کے ایک سینیئر ریسرچر ایرٹوگ ایرسین کہتے ہیں ”زمین پر قریب ہر شے کی تیاری میں پانی کا استعمال ہوتا ہے۔ کھانا پکانے اور مشروبات سازی پر بھی بے بہا پانی بہایا جاتا ہے۔ جتنا کوئی شخص پانی استعمال کرتا ہے، وہی اس کا ‘واٹر فٹ پرنٹ‘ ہے۔ نل سے باہر آنے والا پانی براہِ راست استعمال کے زمرے میں آتا ہے“

اعداد و شمار نمبر چونکا دینے والے ہیں!

فوٹ پرنٹ تازہ پانی کی وہ مقدار ظاہر کرتا ہے، جو ہم استعمال کرنے والے سامان اور خدمات کو تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، بشمول اگانا، کٹائی، پیکیجنگ، اور شپنگ۔ ہمارے کھانے سے لے کر جو لباس ہم پہنتے ہیں ان کتابوں تک جو ہم پڑھتے ہیں اور جو موسیقی ہم سنتے ہیں، ان سب کی قیمت اس سے زیادہ ہے جو ہم چیک آؤٹ پر ادا کرتے ہیں۔ اس کتاب میں 125 فٹ پرنٹ حقائق ہمارے طرز زندگی کی حقیقی قیمت کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ زمین پر کیا کر رہا ہے، بشمول اسے خشک کرنا

’ورچوئل واٹر کا تصور‘ انسانی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے پانی کی مقدار کو ظاہر کرتا ہے۔ ہوشیار، قابل فہم گرافکس میں پیش کیا گیا، یور واٹر فوٹ پرنٹ قارئین کے شعور کو بڑھاتا ہے کہ ہم جن چیزوں کو استعمال کرتے ہیں اور اگاتے ہیں ان کو تیار کرنے میں کتنا پانی استعمال ہوتا ہے

جو کچھ ہم اپنے کھانے کی میز پر رکھتے ہیں اس کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ہمارے تقریباً 95 فیصد پانی کے فوٹ پرنٹس اس کھانے میں پوشیدہ ہیں جو ہم کھاتے ہیں:

ایک پاؤنڈ لیٹش کی قیمت 15 گیلن میٹھے پانی کی ہے۔ آم 190 گیلن؛ ایوکاڈو 220 گیلن؛ ٹوفو 244 گیلن؛ چاول 403 گیلن؛ زیتون 522 گیلن؛ مکھن 2,044 گیلن؛ چاکلیٹ 2,847 گیلن؛ اور گائے کا گوشت 2,500 سے 5,000 گیلن

روٹی کے ایک ٹکڑے کی قیمت 10 گیلن ہے لیکن اگر آپ اسے پنیر کے ٹکڑے کے ساتھ کھاتے ہیں تو اس میں مزید 13 گیلن لگتے ہیں

ایک گلاس بیئر میں 20 گیلن پانی لگتا ہے، اور چائے کے صرف ایک معیاری کپ کی قیمت 120 ایک ہی سائز کے کپ پانی ہے

ایک سوتی ٹی شرٹ میں گائے کے گوشت جتنا پانی لگتا ہے، جینز کا ایک جوڑا اس سے بھی زیادہ۔ درحقیقت، ہماری روزمرہ زندگی کے تمام پہلوؤں کو کسی نہ کسی شکل میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کہاوت کہ ”کچھ بھی مفت نہیں ہے“ پانی پر ان سب سے زیادہ لاگو ہوتی ہے، جو ہم استعمال کرتے ہیں، اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ دنیا کا صرف تین فیصد پانی پینے کے قابل ہے اور ہم اسے پہلے سے کہیں زیادہ استعمال کر رہے ہیں

موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافے اور آلودگی کا عنصر اور ہمارے پاس غیر پائیدار صورتحال ہے۔ اگر ہم اپنے موجودہ راستے پر چلتے رہے تو بہت سے ماہرین پانی کی شدید قلت کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ہمارے واٹر فوٹ پرنٹ تیزی سے بڑھنے والے riveting ہے. اس کے انکشافات سے ہر عمر کے صارفین دنگ رہ جائیں گے

پانی کا ضیاع روکنا اہم کیوں؟

یہ ایک حقیقت ہے کہ تازہ پانی محدود ہے۔ اس وقت محتاط اندازوں کے مطابق زمین پر 1,386 بلین کیوبک کلومیٹر پانی موجود ہے اور اس میں صرف تین فیصد تازہ پانی ہے اور اس کی یہ مقدار بھی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اس تین فیصد میں سے بھی انسانی بستیوں کو صرف ایک فیصد تازہ پانی دستیاب ہے، جب کہ بقیہ تازہ پانی برف کی صورت میں گلیشیئرز یا برفانی چوٹیوں پر موجود ہے

ماحولیاتی تبدیلیوں نے عالمی آبادی پر پانی کی بچت کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے اور اب احتیاط کا تقاضہ ہے کہ اس قدرتی دولت کی قدر کی جائے۔ دنیا میں دو بلین افراد کو صاف پانی تک رسائی میسر نہیں اور 2.3 بلین افراد ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں پانی کی کمی پائی جاتی ہے

ایک بحرانی صورت حال

واٹر فٹ پرنٹ نیٹ ورک کے محقق ایرٹوگ ایرسین کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا پانی کے بحران کا سامنا کر رہی ہے، جو پریشان کن صورتِ حال کی غمازی کرتی ہے۔ دستیاب پانی کی کیفیت بھی تبدیل ہوتی جا رہی ہے اور جہاں اس کی اشد ضرورت ہے، وہاں اس کی کمیابی ہے

ایرٹوگ ایرسین کہتے ہیں کہ جن مقامات پر پانی کی قلت کی وجہ سے قحط سالی پیدا ہو چکی ہے، اس تناظر میں پانی کا تحفظ اور استعمال میں بہت احتیاط درکار ہے اور صرف ایسا کرنے سے انسان پانی کے فٹ پرنٹ کو بہتر کر سکیں گے

ممالک کا تقابلی جائزہ

امریکا کی اگر مثال لیں تو وہاں ایک انسان کے پانی کے استعمال کی اوسط سات ہزار آٹھ سو لٹر ہے، یہ مقدار عالمی اوسط کا دوگنا ہے۔ امریکا میں گھروں میں پانی کا استعمال کُل خرچ ہونے والے پانی کا ساڑھے تین فیصد یا دو سو ستر لٹر فی فرد ہے۔ امریکا میں پانی کے زیادہ استعمال کی وجہ گوشت خوری بھی ہے

ہر جرمن شہری روزانہ کی بنیاد پر ایک سو پچیس لٹر پانی استعمال کرتا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ بھارت ایک ایسا ملک ہے، جہاں روزانہ کی بنیاد پر پانی کا استعمال تین ہزار لٹر کے لگ بھگ ہے اور چین میں یہی مقدار قریب 2934 لٹر ہے

ایرٹوگ ایرسین کا کہنا ہے کہ بھارت اور چین میں پانی کے روزانہ استعمال میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو مغربی ملکوں کے افراد کے مساوی ہونے والا ہے

بڑھتی آبادی اور زرعی و صنعتی سیکٹر

دوسری جانب دنیا بھر میں زراعت کے لیے بھی پانی کی طلب بڑھتی جا رہی ہے اور اس کی وجہ دنیا کی مسلسل بڑھتی آبادی ہے۔ اسی طرح صنعتی شعبے کو بھی پانی کی ضرورت رہتی ہے۔ زمین پر زرعی سیکٹر ستر فی صد پانی کو استعمال کر جاتا ہے

فصلیں یا مال مویشیوں سے حاصل کی جانے والی مصنوعات بھی کثیر مقدار میں پانی کے استعمال کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ایک کلو گری دار میوے کو نو ہزار لٹر سے زائد پانی درکار ہوتا ہے۔ ایک کلو گرام بیف کے لیے پندرہ ہزار لٹر سے زائد پانی خرچ ہو جاتا ہے۔ البتہ عام استعمال کی سبزیاں بہت کم پانی میں زمین کے اندر پک کر تیار ہو جاتی ہیں۔ پانی استعمال کرنے والا ایک اور شعبہ کاٹن کی فصل اور کپڑے بنانے والی انڈسٹری ہے۔ مجموعی طور پر زمین کا بیس فی صد پانی صنعتی شعبہ استعمال کر جاتا ہے

پانی کا بحران: پاکستان خشک کیوں ہو رہا ہے؟

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق پانی کی سنگین قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی اور آبی ذخائر کے لیے پاکستانی کونسل برائے تحقیق (پی سی آر ڈبلیو آر) نے خبردار کیا ہے کہ سن 2025 تک پاکستان پانی کے شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے ہیومنیٹیرین کوآرڈینٹر نیل بوہنے کے مطابق پانی کے اس بحران کی وجہ سے پاکستان کا کوئی علاقہ بھی نہیں بچ سکے گا

محققین نے ایسے اندازے بھی لگائے ہیں کہ سن 2040 تک شہریوں کی پانی کی طلب کو پورا کرنے کے حوالے سے پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں کئی عالمی اداروں نے پہلی مرتبہ پاکستانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری ایکشن نہ لیا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ کئی ماہرین نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران دہشت گردی سے زیادہ بڑا خطرہ ہے

ماہرین کے مطابق پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری علاقوں میں وسعت پانی کے بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلیاں، پانی کی ناقص مینیجمنٹ اور سیاسی عزم کی کمی نے اس معاملے کو زیادہ شدید کر دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر حدت میں اضافہ ہو رہا ہے

پاکستان میں ماہر ماحولیات میاں احمد سلیم ملک کے مطابق ’’پاکستان میں گرمی کی لہروں اور قحطوں کی وجہ ماحولیاتی تبدیلیاں ہی ہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں سے مون سون کے موسم کی پیشن گوئی مشکل ہو گئی ہے جبکہ ملک کے کئی علاقوں میں موسمِ سرما مختصر ہو گیا ہے“

جنوبی ایشیائی امور کے ماہر میشائل کوگلمان کے مطابق پاکستان میں پانی کا بحران جزوی طور پر انسانوں کی طرف سے ہی پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کی خاطر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی رہنماؤں اور تمام فریقین کو اس چیلنج سے نمٹنے کی خاطر ذمہ داری اٹھانا ہوگی اور سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ کوگلمان نے اصرار کیا کہ اس بحران کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرنے سے اسے حل نہیں کیا جا سکتا

پاکستان میں پانی کے ذخائر قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کو ضائع ہونے سے روکنے کی ضرورت بھی ہے۔ آبی ماہر عابد سلہری کے مطابق پاکستان میں پانی کا غلط استعمال ہر سطح پر ہو رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close