دنیا کا واحد شخص، جو چاند پر دفن ہوا

ویب ڈیسک

کراچی – چاند قدرت کی ان خوبصورت نشانیوں میں سے ایک ہے، جو دنیا کے نظام کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جبکہ چاند کا زمین کا سیٹلائیٹ بھی ہے، جو اس کے گرد مدار میں گردش کرتا رہتا ہے

چاند پر زندگی موجود نہیں ہے اور نہ ہی یہاں پر انسان بستے ہیں، لیکن پھر بھی ایک ایسے شخص کی چاند پر تدفین کی گئی جو چاند پر جانے کے لئے نہایت متجسس تھا

ممکن ہے یہ بات جان کر آپ کو عجیب لگے لیکن حقیت یہی ہے کہ اس دھرتی پر جنم لینے والا ایک شخص ایسا بھی ہے، جو چاند پر دفن ہوا

چاند پر دفن ہونے والے دنیا کے اس واحد شخص کا نام یوجین شومیکر ہے، جو 1928 میں پیدا ہوئے

چاند پر قدم رکھنے والے دنیا کے پہلے شخص نیل آرم اسٹرانگ کے بارے میں تو سب ہی جانتے لیکن یوجین میکر کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں جو چاند پر دفن ہونے والا واحد شخص ہے

یوجین شومیکر مشہور امریکی ماہرِ فلکیات اور ماہرِ ارضیات تھے، جنہیں سیاروں خصوصاً چاند کے بارے میں جاننے اور معلومات حاصل کرنے کا جنون تھا، وہ امریکا میں خلاء بازوں کو تربیت بھی دیا کرتے تھے

اگر یہ کہا جائے کہ یوجین نے چاند کے بارے میں تحقیق کرنے کو اپنی زندگی کا ایک بڑا مقصد بنا لیا تھا تو غلط نہ ہوگا، یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس چاند کے متعلق بہت معلومات بھی تھی اور انہوں نے چاند پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے ساتھ مل کر چاند کا نقشہ بھی تیار کیا تھا کہ چاند اندر سے کیسا اور اس کی سطح کس طرح کی ہے

یوجین نہ صرف چاند کے بارے مکمل آگاہی رکھتے تھے بلکہ وہ چاند پر جانا ان کا ایک خواب بھی تھا. پھر وہ وقت بھی آیا، جب انسان نے چاند پر جانے کے لئے شروعات کی، تب یہ سوچ کر یوجین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، کہ اب چاند نوردی کا ان کا خواب بھی پورا ہوجائے گا

یوجین کو یقین تھا وہ چاند کے سفر میں ضرور شامل کیے جائیں گے. لیکن بدقسمتی سے یوجین کو ایک ایسی بیماری لاحق تھی، جسے ایڈیسن کہا جاتا ہے. اس میں بخار کے ساتھ کئی اور علامات بھی ہوتی ہیں، جس کی وجہ وہ چاند کا سفر نہیں کر سکتے تھے

یہ 1997ع کی بات ہے، جب آسٹریلیا میں موجود یوجین ایک کار حادثے کے نتیجے میں زندگی کی بازی ہار گئے ، لیکن ان کے انتقال کے بعد جو کچھ ہوا، وہ حیران کن تھا

امریکی ماہرِ فلکیات یوجین کی خدمات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کی لاش کی باقیات کو چاند پر بھیجا جائے گا، کیونکہ وہ اپنی زندگی میں چاند پر جانے کا خواب پورا نہیں کر سکے

اسی مقصد کے لیے سیلیسٹر نامی ایک کمپنی سامنے آئی، جو لوگوں کی لاشوں کی باقیات کو خلا میں بھجوانے کا کام کیا کرتی تھی، اسی کمپنی نے ناسا کے ساتھ مل کر یوجین کی باقیات کو ناسا کے لیونئر پروسپیکٹس اسپیس کرافٹ میں رکھ دیا، اس اسپیس کرافٹ نے چاند پر جاکر یوجین کی باقیات کو چاند پر پھینک دیا

یہ اسپیس کرافٹ 6 جنوری 1998ع کو دنیا سے چاند کی طرف روانہ ہوا۔ اور یوں چاند پر جانے کا خواب دیکھنے والا یوجین دنیا کا وہ واحد انسان بن گیا، جو چاند پر دفن ہوا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close