جعلی ایجنٹ کا پاکستانی خفیہ ایجنسی سے تعلقات کا دعویٰ: امریکی استغاثہ

ویب ڈیسک

واشنگٹن – امریکی سیکرٹ سروس نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے، ان میں سے ایک نے پاکستانی خفیہ ایجنسی سے تعلقات کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ خود کو وفاقی سکیورٹی اہلکار ظاہر کرکے صدر بائیڈن کی حفاظت پر مامور سیکرٹ سروس تک رسائی کی کوشش کررہے تھے

یہ بات امریکی تفتیش کاروں نے واشنگٹن میں عدالت کو بتائی۔ محکمہ انصاف کے اسسٹنٹ اٹارنی جوشوا روتھسٹین نے جمعرات کو جج سے استدعا کی کہ عدالت چالیس سالہ آریان طاہرزادہ اور پینتیس سالہ حیدر علی کو رہا نہ کرے

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ملزمان کو بدھ کے روز اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ خود کو ہوم لینڈ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے اہلکار ظاہر کر رہے تھے

امریکی حکام نے ان افراد پر سیکرٹ سروس کے ارکان کو رشوت دینے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ خفیہ ادارے میں امریکی خاتون اول جِل بائیڈن کی سکیورٹی پر مامور ایک ایجنٹ بھی شامل تھا

روتھسٹین نے عدالت کو بتایا کہ 2019ع میں دونوں ملزمان نے واشنگٹن میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں سکیورٹی پروفیشنلز کی معلومات اکٹھی کرنے سے چند ماہ قبل حیدر علی نے پاکستان، ترکی، ایران اور قطر کا سفر کیا خاص طور پر وہ کئی بار دوحہ میں دیکھے گئے

تفتیش کار کے بقول، حیدر علی نے ’گواہوں کے سامنے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے پاکستان کی سب سے فعال خفیہ ایجنسی سے رابطے تھے

اگرچہ امریکی محکمہ انصاف اس کیس کو قومی سلامتی کے بجائے ایک فوجداری معاملے کے طور پر دیکھ رہا ہے، تاہم سیکرٹ سروس نے چار امریکی ایجنٹس کو ان مشتبہ افراد کے ساتھ ملوث ہونے پر معطل کر دیا ہے

سیکرٹ سروس نے ایک بیان میں کہا: ’اس معاملے میں ملوث تمام اہلکار انتظامی چھٹی پر بھیج دیے گئے ہیں اور ان پر سیکرٹ سروس کے دفاتر، آلات اور نظام تک رسائی حاصل کرنے پر پابندی ہے۔‘

عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے کے مطابق آریان طاہر زادہ اور حیدر علی دونوں ہی امریکی شہری ہیں، جو واشنگٹن کی ایک ایسی عمارت میں رہائش پذیر تھے، جہاں وفاقی سکیورٹی سروسز کے متعدد ملازمین بھی رہائش پذیر ہیں

انہوں نے ان میں سے کچھ ایجنٹس کو قائل کیا کہ وہ خود بھی ہوم لینڈ سکیورٹی کے خصوصی اہلکار ہیں اور ان دعووں کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے یونیفارم اور دستاویزات بھی دکھائے تھے

دونوں پر ابتدائی طور پر خود کو جعلی امریکی سکیورٹی اہلکار ظاہر کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، جس کی سزا تین سال تک ہو سکتی ہے

لیکن روتھسٹین نے عدالت کو بتایا ”اس الزام کو ملک کے خلاف سازش تک بڑھایا جا سکتا ہے، جس میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔“

امریکی حکام کے مطابق، ان دونوں افراد کے مقاصد واضح نہیں تھے، تاہم ایک موقعے پر انہوں نے ایک تیسرے شخص کو کام کے لیے بھرتی کیا اور اسے ہدایت دی کہ وہ محکمہ دفاع اور انٹیلیجنس کمیونٹی کو مدد فراہم کرنے والے کسی فرد کے بارے میں معلومات حاصل کرے

حلف نامے کے مطابق آریان طاہر زادہ نے اس دوران کئی سیکرٹ سروس اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے ملازمین کو کرایہ کے بغیر فلیٹس فراہم کیے، جن کا کرایہ چار ہزار ڈالر ماہانہ ہے

حلف نامے کے مطابق طاہر زادہ نے انہیں آئی فون، نگرانی کا نظام، ایک ٹیلی ویژن اور دیگر سکیورٹی آلات بھی فراہم کیے

طاہر زادہ نے خاتون اول کی سکیورٹی ٹیم میں کام کرنے والے سیکرٹ سروس ایجنٹ کو دو ہزار ڈالر مالیت کی ایک رائفل کی بھی پیشکش کی اور ایجنٹ کی بیوی کو گاڑی سمیت کئی اور مراعات فراہم کیں

حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ آریان طاہر زادہ اور حیدر علی اپارٹمنٹ کمپلیکس میں کئی یونٹس کو کنٹرول کرتے نظر آئے اور طاہر زادہ کو عمارت کے پورے سکیورٹی سسٹم تک رسائی حاصل تھی

قانون نافذ کرنے والے بہت سے اہلکاروں طرح دونوں ایمرجنسی لائٹس کے ساتھ جی ایم سی کمپنی کی سیاہ ایس یو ویز چلاتے ہوئے بھی نظر آئے

طاہر زادہ کے پاس ایک ہینڈگن تھی جو امریکی وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے استعمال کرتے ہیں اور انہوں نے دوسروں کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ انہیں ہوم لینڈ سکیورٹی کے کمپیوٹر سسٹم تک رسائی حاصل ہے

ملزمان کی عدالت میں پہلی پیشی کے موقعے پر استغاثہ نے عدالت سے ان کی ضمانت روکنے کی استدعا کی، لیکن دونوں کو مکمل قانونی نمائندگی حاصل نہیں تھی جس پر جج نے یہ فیصلہ جمعے کو دوسری سماعت تک کے لیے موخر کر دیا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close