کھوجی پیروں کے نشان سے چور تک کیسے پہنچتے ہیں؟ کھوجیوں کی دنیا پر ایک نظر

ویب ڈیسک

واردات قتل کی ہو یا چوری ڈکیتی کی، گاؤں دیہات میں آج بھی کھوجی پر انحصار کیا جاتا ہے کہ وہ کْھرا اٹھا کر یا پاؤں کے نشان کی مدد سے اپنے ہدف کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔ ماضی میں تو ماہر کھوجیوں کو سرکاری سرپرستی بھی میسر تھی۔ ہر گاؤں میں نمبردار، تھانیدار کی طرح ایک سے زائد کھوجیوں کا ہونا لازمی تھا، لیکن عہدِ جدید نے جہاں اور دیگر اقدار، ویلیوز اور دیگر ضروری چیزوں کو اذکار رفتہ قرار دیا، وہیں کھوجی بھی غیرضروری ٹھہرے

شہروں میں پیدا ہونے والی نسل شاید آگاہ نہ ہو کہ محض پاؤں کے نشان کی مدد سے کھوج لگانے والے نہ صرف کھوجی کے تن و توش، معذوری اور دیگر علامات کی نشان دہی بھی کر دیا کرتے تھے

جس طرح ہم سب کے فنگر پرنٹس ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اسی طرح انسانوں کے قدموں کے نشانات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، یہ فرق ماہر کھوجی ہی پہچان سکتے ہیں اور ان کی مدد سے چور یا قاتل تک پہنچ جاتے ہیں

نواب شمس الدین خان آف لوہارو اور فیروزپور جھرکہ نے جب عزت و ناموس پر نگاہ ڈالنے والے انگریز افسر کو قتل کرایا تو اس کے وفادار ملازم نے گھوڑے کو الٹے نعل لگوائے تھے کہ وہ آتے ہوئے جاتا ہوا محسوس ہو، لیکن ماہر کھوجی نے نعل کے ساتھ خون کے قطروں سے اندازہ لگالیا تھا کہ یہ محض دھوکا دینے کی کوشش ہے ورنہ گھوڑا جا نہیں، آ رہا تھا

برسوں پہلے ایک کھوجی دینو کی باتیں آج بھی یاد ہیں اس کا کہنا تھا کہ سائیں یہ علم اسکول کالج سے نہیں ملتا۔ اچھے استاد کی صحبت کامل بناتی ہے۔ میرے ایک استاد تھے، جن سے میں نے کْھرا اٹھانا سیکھا تھا۔ وہ اتنے ذہین تھے کہ ایک واردات کے ملزم کا پتا چلاتے چلاتے کئی پرانے ملزموں کی بھی نشان دہی کر دیتے تھے

دینو کے مطابق ”سنجھورو کے اطراف میں مویشی چوری کی ایک واردات کو اندھے قتل کی طرح پولیس نے بھی سرد خانے میں ڈال دیا تھا۔ استاد ایک کھرے کو تلاش کرتے جارہے تھے کہ پاؤں کے ایک نشان پر چونکے اور سامنے جاتے شخص کو رکنے کا اشارہ کیا۔ اس کے پاؤں ناپا، جوتے اتروا کر چلایا، اس کے بعد کہا کہ یہ فلاں واردات میں کبھی جوتے پہن کر کبھی ننگے پاؤں چل کر ہمیں دھوکا دے گیا تھا لیکن آج پکڑا گیا۔ خاص بات یہ تھی کہ مال مسروقہ اس شخص کے گھر سے نہ صرف برآمد ہوا بلکہ اس نے کئی دیگر وارداتوں کا بھی اعتراف کر لیا۔“

دینو ہی کی طرح ایک اور کھوجی سرہاری کے رہائشی لال بخش نے اپنے فن کے کچھ اسرار و رموز بتائے۔ اس سوال پر کہ تمام پاؤں کم و بیش ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں، انہیں ہزاروں یا درجنوں میں علیحدہ کیسے شناخت کر لیا جاتا ہے؟ ان کا کہنا تھا ’’نہ سائیں نہ۔ ہر پاؤں دوسرے سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ اسکول میں سب بچے ایک جیسے یونیفارم میں ہوتے ہیں لیکن ٹیچر اور چوکی دار انہیں بہ آسانی دور ہی سے پہچان لیتے ہیں اور اگر وہ گھر کے کپڑوں میں ہوں تو واقعی انہیں مشکل ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک ماہر کھوجی اپنے ہدف کو کبھی نہیں بھلاتا۔ ہر شخص کا پاؤں دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔آج سائنس بھی یہی بتاتی ہے کہ انگلیوں کے نشان، آنکھوں کی پتلیاں اور چہرے کی ساخت مشابہت کے باوجود مختلف ہے، تو یہی حال پیروں کے نشان کا بھی ہے۔ کوئی شخص چلتے ہوئے ایڑی پر زور دیتا ہے تو کوئی پنجے پر دباؤ ڈالتا ہے، بعض لوگ پاؤں جماکر چلتے ہیں تو بعض اسے زمین پر رگڑتے ہوئے گھسیٹے ہیں۔ نشان واضح ہو تو اندازہ ہوتا ہے کہ چور لحیم شحیم ہے، تن و توش بھاری ہے اور اگر کھرا غیر واضح ہو تو یہ چور کے دبلے پتلے اور اکہرے جسم کی علامت ہوتا ہے۔ چور نے لمبے ڈگ بھرکر بھاگنے کی کوشش کی ہو تو اسے خوفزدہ یا بدحواس تصور کرتے ہیں، جو اسی علاقے کا ہے اور شناخت کے خوف سے جلدازجلد دور جانے کا خواہاں ہوتا ہے۔“

ماضی میں راستے کچے ہوتے تھے اور چوروں کی کھوج آسان، اب پختہ سڑکوں نے مشکل کر دی ہے، اس کے باوجود اس فن کے ماہر اپنے ہدف کو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ یہی ان کی خوبی ہے جو انہیں دوسروں سے ممتاز ممیزاور منفرد بناتی ہے

سراغ رسانی کا یہ روایتی فن آج بھی ملک کے کئی حصوں میں زندہ ہے، لیکن کیا اسے عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے؟

چوروں بلکہ یہاں تک کہ قاتلوں کو تلاش کرنے کے لیے ان کے قدموں کے نشانات سے سراغ لگانے کا فن افغانستان میں بھی خاصہ مشہور ہے۔ خاص طور پر جنوبی افغانستان اور ڈیورنڈ لائن کے افغان اور پاکستانی علاقوں میں آباد پشتون اور بلوچ قبائل میں یہ ایک ایسا پیشہ ہے، جس کا معاوضہ بھی ملتا ہے

اگرچہ اس خطے میں کھوجیوں کی بہت مانگ ہے لیکن کم از کم افغانی علاقوں کی حد تک یہ خطرات سے خالی نہیں، جیسا کہ افغانستان اینالسٹ نیٹ ورک کو کھوجیوں، وکلا اور جرائم سے متاثر ہونے والے افراد سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا

ولات خان ایک کھوجی ہیں، جن کا تعلق صوبہ قندھار کے ضلع زیرے سے ہے۔ ان کی عمر ستر سال کے لگ بھگ ہے اور وہ گذشتہ پچیس برس سے بطور کھوجی کام کر رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں ”میں مٹی اور ریت سے بنے رستوں پر قدموں کے نشانات کا کھوج لگا سکتا ہوں لیکن تارکول کی سڑکوں پر نہیں۔ اگر کوئی ڈاکو کسی پکی سڑک پر قدم رکھ دے تو ہر سمت سے پتہ لگانے کی کوشش کرتا ہوں کہ وہ کس طرف گیا لیکن اگر وہ کچے راستے پر نہ اترے تو پھر میرے ہاتھ نہیں آتا“

”پاؤں کے نشان سے میں ڈاکو کے وزن کا تعین کر سکتا ہوں اور اگر وہ دو لوگ ہوں تو میں پہچان سکتا ہوں کہ ان میں سے بھاری جسامت والے کا قدم کون سا ہے۔ ڈکیتی کے تقریباً بیس دنوں بعد تک میں پاؤں کے نشانات پڑھ سکتا ہوں، بشرطیکہ انہیں ہوا یا کسی اور چیز نے خراب نہ کیا ہو“

ولات خان بتاتے ہیں ”یہ ایک فطری جوہر ہے جو خدا نے ہمارے خاندان کو عطا کیا۔‘ ان سے پہلے ان کا بڑا بھائی کھوجی تھا اور اب ان کا بھتیجا بھی یہ پیشہ اختیار کر چکا ہے

ڈیورنڈ لائن کے دوسری طرف کوئٹہ کے ضلع قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والے کھوجی عبد اللہ جان، جو تیس برس سے یہ کام کر رہے ہیں، بتاتے ہیں ”میں میدانی علاقوں میں کھوج لگا سکتا ہوں لیکن پہاڑیوں اور پتھریلے علاقوں میں قدموں کا سراغ لگانا مجھے زیادہ پسند ہے۔ جب کوئی شخص وہاں گزرے تو پتھر پھسل جاتے ہیں یا وہ جھاڑیوں پر قدم رکھتا ہے اور اس طرح میں پہچان لیتا ہوں کہ وہ کہاں گیا“

”البتہ اگر جائے واردات پر پہنچنے کے بعد مجھے پتہ چلے کہ جرائم پیشہ افراد نے فرار ہونے کے لیے گاڑی یا موٹر سائیکل کا استعمال کیا ہے تو مجھے شدید شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔ میں ٹائروں کے نشانات کا کھوج نہیں لگا سکتا کیونکہ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں ایک ہی طرح سے سفر کرتی ہیں۔ لیکن اگر آپ لاکھوں انسانوں کے قدموں کے نشانات کو دیکھیں تو سب کے ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے“

کھوجیوں نے بتایا کہ ہر واردات کے بعد اگلے مراحل عام طور پر ایک ہی طرح سے طے ہوتے ہیں۔ اگر چور نے قدموں کے نشان چھوڑے ہیں تو کھوجیوں کو ڈکیتی کی جگہ پر بلایا جاتا ہے۔ متاثرہ فرد کے گھر یا جائیداد سے کھوجی قدموں کے نشانات کی پیروی شروع کرتا ہے اور اس موقع پر بالعموم متاثرہ فرد کے علاوہ تماش بین افراد کا بھی ٹھٹھ لگ جاتا ہے

جب نشانات کسی گھر تک لے جائیں تو کھوجی متاثرہ شخص کو بتاتا ہے کہ اس گھر کے مالک نے یا اس کے کسی مہمان نے واردات کی ہے

پھر متاثرہ شخص گھر کے مالک سے کہتا ہے کہ ’یا مجھے دکھاؤ کہ تمہارے گھر سے قدموں کے نشان آگے کہاں جاتے ہیں یا تم ہی وہ شخص ہو جس نے مجھے لوٹا‘

مشتبہ چور الزام قبول کرتا ہے یا اس سے اختلاف کرتا ہے۔ اس دوسری صورت میں وہ اپنے گھر سے قدموں کے نشانات کی پیروی کرنے کے لیے دوسرا کھوجی لا سکتا ہے

کبھی کبھی جرم ڈکیتی نہیں بلکہ قتل جیسا سنگین معاملہ ہوتا ہے، تب جس شخص کے قدموں کے نشانات کی پیروی کی جاتی ہے وہ کوئی چور نہیں بلکہ ایک مشتبہ قاتل ہوتا ہے

ولات خان کے لیے قدموں کے ذریعے سراغ رسانی ایک خاندانی پیشہ ہے لیکن عبداللہ جان کو پاکستانی حکومت نے معمولی تربیت دینے کے بعد ایک سرکاری کھوجی کے طور پر مقرر کیا تھا۔ یہ تیس سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کی بات ہے

وہ بتاتے ہیں ’یہ تقریباً دو ماہ پر مشتمل ایک مختصر کورس تھا جس نے مجھے کچھ بنیادی چیزوں سے آگاہ کیا، مثال کے طور پر یہ کہ ڈاکو کبھی کبھی ڈکیتی والی جگہ چھوڑنے کے بعد یا کبھی اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد اپنے جوتے تبدیل کر لیتے ہیں۔ باقی سب کچھ میں نے خود سیکھا۔‘

تاہم عبد اللہ جان کا کہنا تھا کہ وہ چور کے جوتوں کی چال کبھی نہیں بھولتے

وہ کہتے ہیں ’کچھ عرصہ پہلے میرا پاور ٹرانسفارمر چوری کر لیا گیا۔ چور نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے اپنے ایک پاؤں کے پیچھے کپڑا باندھا تھا تاکہ قدموں کے نشان ساتھ ساتھ مٹتے جائیں۔ مگر کچھ نشانات باقی رہ گئے۔‘

جب عبداللہ جان نے تین ماہ بعد قدموں کے وہی نشانات دوبارہ دیکھے تو وہ مشتبہ شخص کے گھر تک جا پہنچے جہاں انہیں اپنا چوری شدہ ٹرانسفارمر مل گیا

چور کی شامت اعمال کہ اس نے ایک ایسے شخص کی چوری کرنے کا سوچا تھا، جس نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران دو ہزار چوروں کا سراغ لگا رکھا تھا

عبداللہ جان کہتے ہیں ’اگر میں پاؤں کا نشان ایک بار دیکھ لوں تو اسے ہمیشہ دوبارہ پہچان لوں گا چاہے اسی چور نے کوئی دوسری واردات ڈالی ہو۔‘

دونوں افراد کھوجی کے طور پر وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان کی بہت مانگ ہے۔ تاہم دونوں کے ساتھ معاشرے، قانون اور حکام کا رویہ بہت مختلف رہا۔

قندھار سے تعلق رکھنے والے ولات خان کے مطابق کھوج لگانے کا فن خطرناک ہو سکتا ہے اور ممکنہ خطرات کی ایک جھلک پیش کرنے کے لیے وہ ایک واقعہ سناتے ہیں

’ایک دفعہ کسی نے کچھ طاقتور لوگوں کا گھر لوٹ لیا۔ یہ ان کے لیے عزت و ناموس کا مسئلہ تھا۔ انہوں نے میرے بڑے بھائی سے کہا کہ وہ چور تلاش کریں۔ یہ 1990 کی دہائی میں طالبان کی حکومت کے دوران کی بات ہے۔‘

’میرے بھائی کو چور مل گیا جو اس خاندان کا بہت قریبی رشتہ دار تھا۔ میرے بھائی نے بہانہ کیا کہ وہ پاؤں کے نشان نہیں بوجھ پا رہا۔ تاہم متاثرین نے دھمکانا ڈرانا شروع کیا اور بالآخر میرے بھائی نے بتا دیا کہ چور ان کا قریبی رشتہ دار ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ایک یا دو ماہ بعد رات کو کوئی ’ہمارے گھر آیا اور میرے بھائی کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ میں نے قاتل کے قدموں کے نشانات کا سراغ لگایا اور اسے ڈھونڈ لیا۔ یہ وہ شخص تھا جس کی شناخت میرے مرحوم بھائی نے چور کے طور پر کی تھی۔ لیکن وہ طاقتور لوگ تھے جن سے بدلہ لینا ہمارے بس سے باہر تھا۔ آخر کار ثالثی کے ذریعے معاملہ حل کیا گیا۔‘

ضلع زرمت سے تعلق رکھنے والے ایک متاثرہ شخص محمد امین نے گفتگو کرتے ہوئے اس پیشے کو درپیش خطرات سے پردہ اٹھایا

انہوں نے بتایا کہ ایک رات ان کی تیس بھیڑیں چوری ہو گئیں اور اگلی صبح وہ ایک کھوجی لے آئے

’کھوجی چوروں کے قدموں کے نشانات کا تعاقب کرتے ہوئے ہمارے ایک قریبی رشتہ دار کے گھر پہنچا۔ کھوجی نے بتایا کہ اس سے آگے چور ٹریکٹر کا استعمال کرتے ہوئے بھیڑوں کو لے گئے تھے اس لیے وہ مزید کچھ نہیں بتا سکتا۔‘

’ہم نے اپنے رشتہ دار کو دھر لیا اور کہا کہ یا تو آپ چور ہیں یا ہمیں بتائیں کہ آپ کے گھر سے آگے مال کہاں گیا۔‘

محمد امین بتاتے ہیں کہ ’ڈرانے دھمکانے کے بعد اس نے اعتراف کیا کہ یہ وارادت اسی نے دو دیگر چوروں کے ساتھ مل کر کی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کے گھر سے آگے دوسرے دو چور ٹریکٹر کے ذریعے بھیڑیں لے گئے اور بیچ ڈالیں لیکن آج تک میرے حصے کی رقم مجھے نہیں دی۔‘

امین نے بتایا کہ دوسرے دو چور کیوں کہ طاقتور تھے اور ان کا رشتہ دار ان سے ڈرتا تھا اس لیے اس نے ان کے خلاف کبھی بات نہیں کی اور خاموش ہو گیا۔

جبکہ سرحد کی دوسری جانب عبداللہ جان بالکل مختلف صورت حال بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کبھی چور اچکوں کی طرف سے ایسے خطرات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں اور لوگ جانتے ہیں کہ مجھے سرکاری پشت پناہی حاصل ہے

تاہم ’افغانستان میں کھوجی نجی شہری ہیں، جنہیں ایسے ماحول میں کام کرنا پڑتا ہے جہاں بات بات پر بندوق اٹھا لینا معمول کی بات ہے۔ مذکورہ حقائق سرحد کے دونوں جانب معاوضے پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔‘

پاکستان سے تعلق رکھنے والے عبداللہ جان کہتے ہیں کہ ان کی خدمات حاصل کرنے والے دو سے پندرہ ہزار تک کے درمیان ادائیگی کرتے ہیں۔ جبکہ قندھار سے تعلق رکھنے والے ولات خان بتاتے ہیں کہ انہیں اکثر ادائیگی نہیں کی جاتی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دیں گے لیکن یا تو دیتے ہی نہیں یا طے شدہ رقم سے کم دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک تازہ مثال بیان کی

’افغانی اور پاکستانی روپے کی صورت میں تقریباً ایک لاکھ پچپن ہزار امریکی ڈالرز کابل میں طالبان کے ایک اعلیٰ عہدے دار کے گھر سے چوری ہو گئے۔ میری خدمات حاصل کی گئیں اور میں نے متعلقہ عہدے دار کو بتا دیا کہ اس کے دو بھتیجوں کا کیا دھرا ہے۔ اس نے مجھے بدلے میں بالکل معمولی سی رقم دیتے ہوئے کہا آپ نے محض چور بتائے ہیں کون سا ہمیں پیسوں تک پہنچایا ہے۔ ان کے بھانجوں نے اعتراف کیا تھا کہ پاؤں کے نشان انہی کے ہیں۔‘

کھوجیوں کے بقول بعض واقعات میں وہ چور کی پردہ پوشی کرتے ہیں لیکن اس طرح کہ دونوں جانب کسی سے زیادتی نہ ہو

عبد اللہ جان بتاتے ہیں کہ ’کبھی کبھی جب چور کو معلوم ہوتا ہے کہ میں اس کے قدموں کے نشانات کی کھوج لگانے جا رہا ہوں تو وہ چوری کا سامان لے کر میرے گھر آتا ہے اور کہتا ہے ’براہ کرم اسے مالک کو واپس کر دو لیکن میرا نام مت بتانا کہ میں نے چوری کی تھی۔‘

عبداللہ جان کے بقول وہ اس معاملے میں بھی احتیاط برتتے ہیں کہ ان کے کسی انکشاف سے دشمنی نہ بھڑک اٹھے ’کچھ معاملات شہرت اور عزت کے ہوتے ہیں جہاں چور کا نام بتانا لوگوں کے قتل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ایسی صورت میں میں کچھ بھی ظاہر نہیں کرتا۔ میں نہیں چاہتا خون خرابہ ہو۔‘

تاہم عبداللہ جان کے مطابق وہ قتل جیسے سنگین مقدمات میں کبھی بھی مجرم کی شناخت نہیں چھپاتے بلکہ اس کے خلاف گواہی دینے کے لیے عدالت میں جا کھڑے ہوتے ہیں

وہ بتاتے ہیں ’قتل کا ایک مقدمہ تھا اور میں قاتل کا سراغ لگانے گیا۔ میں نے اسے ڈھونڈ نکالا جس کے بعد پولیس نے تفتیش کی اور اس شخص نے قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔ میری سراغ رسانی کو عدالت نے قبول کیا۔‘

’قدموں کے نشانات سے پکڑے جانے کے بعد بعض چور اعتراف کر لیتے ہیں جبکہ بعض نہیں کرتے۔ دوسری صورت درپیش ہو تو میں عدالت بطور گواہ حلف اٹھاتے ہوئے بتاتا ہوں کہ انہوں نے چوری کی ہے۔‘

کھوجیوں کی سراغ رسانی کی قانونی حیثیت

عبد اللہ جان نے عدالتوں کی طرف سے گواہی کے لیے بلائے جانے کا ذکر کیا جبکہ کوئٹہ اور پشاور سے تعلق رکھنے والے دو وکلا نے اے اے این کو بتایا کہ پاکستانی قانون یا پاکستانی عدالتوں میں روایتی سراغ رسانی کو قبول نہیں کیا جاتا

تاہم کوئٹہ کے وکیل نے ایک ایسے ملک میں حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کھوجی رکھنے کے تضاد کی وضاحت پیش کی جو روایتی سراغ رسانی کو بطور ثبوت تسلیم نہیں کرتا

وہ کہتے ہیں کہ ’شاید حکومت نے وہاں کے لوگوں کی قبائلی روایت کا احترام مدنظر رکھتے ہوئے کھوجی مقرر کیا۔‘

دوسری طرف افغانستان میں بھی کھوجی کی گواہی عدالتیں بطور ثبوت قبول نہیں کرتی ہیں تاہم پرانی حکومت کے دور میں اگر قدموں کے نشانات کا پتہ چلانے والا کھوجی کابل پولیس اکیڈمی کی فوجداری تکنیک کا تربیت یافتہ ہے تو ایسے پولیس افسر کی گواہی مدعا علیہ کے خلاف ثبوت کا حصہ بن سکتی ہے

متعلقہ افسر کو مشتبہ چور کو لانا پڑتا تھا تاکہ اس کے پیروں کا متعلقہ نشانات سے موازنہ کر کے فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا وہ ایک جیسے ہیں یا نہیں۔

کابل میں ایک وکیل کے مطابق نہ تو طالبان کی حکومت نے روایتی سراغ رسانی کے فن کو عدالت میں قابلِ قبول ثبوت فراہم کرنے کے طور پر اہمیت دی نہ سابقہ حکومت نے۔ یہاں تک کہ طالبان کی حکومت کابل پولیس اکیڈمی کے فوجداری تربیت یافتہ افسران کو بھی کوئی حیثیت نہیں دیتی

اس کی ایک مثال ضلع ناد علی سے تعلق رکھنے والے جان محمد نامی شخص نے اے اے این کو بتائی

انہوں نے بتایا کہ تقریباً چار ماہ قبل ان کے گاؤں کے ’ایک مولوی کے گھر سے ایک کلو افیون کا پاؤڈر چوری ہوا۔ اگلے دن مولوی ایک کھوجی لانے کے لیے صوبہ ہلمند کے ضلع گرمسیر چلے گئے۔‘

’اس کھوجی نے ڈاکو کے قدموں کے نشانات کو ان کے گاؤں کے ایک گھر تک پہنچایا۔ اس کے بعد مولوی نے حکومت کو واقعے کی اطلاع دی۔‘

جان محمد کے بقول طالبان آئے اور مشتبہ ڈاکو اور اس کے بھائی کو پکڑ کر لے گئے۔ لیکن محض چند دن جیل میں رکھنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا کیونکہ ان کے رشتہ داروں نے طالبان سے کہا تھا کہ وہ چور نہیں ہیں، انہیں چھوڑ دیا جائے

ان کے بقول ’جج نے مشتبہ چوروں کو رہا کر دیا اور مولوی سے کہا کہ اسلامی شریعت میں مشتبہ فرد کے قدموں کے نشانات کو بطور ثبوت قبول نہیں کیا جا سکتا اور ان کا سراغ لگانا اسلام کے مطابق غیر قانونی ہے۔‘

’جج نے مولوی سے یہ بھی کہا کہ چونکہ اس بات کا کوئی اور ثبوت نہیں تھا کہ ان کی افیون ان دو افراد نے چرائی ہے اس لیے حکومت انہیں مزید قید میں نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی ان پر چور ہونے کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔‘

افغان عدالتیں چاہے روایتی سراغ رسانی کو قبول نہ کریں لیکن بڑی حد تک اسے عام لوگ تسلیم کرتے ہیں، جن میں اعلیٰ ترین سرکاری افسران بھی شامل ہیں جیسا کہ ولات خان ایک واقعے میں بتاتے ہیں:

’میرے پاس کوئی سرکاری ملازمت نہیں لیکن کئی بار حکام نے میری خدمات حاصل کیں۔ مثال کے طور پر سابقہ حکومت کے دوران صدر حامد کرزئی کے بھائی احمد ولی خان کی کوئی چیز چوری ہوئی تھی۔ انہوں نے میرے پاس لوگ بھیجے اور میں ان کے ساتھ قندھار شہر کے ایک محلے میں چلا گیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ احمد ولی کے گھر سے چوری ہوئی ہے یا یہ گھر ان کا ہے لیکن میں وہاں گیا اور چوروں کا سراغ لگایا۔‘

ولات خان کے مطابق طالبان کے اعلیٰ اہلکار بھی جب لوٹ لیے جائیں تو نجی طور پر کھوجیوں سے مدد لیتے ہیں

مثال کے طور پر صوبہ ہلمند کے ایک ضلع میں ڈکیتی کے بعد سرکاری اہلکاروں نے چوروں کی شناخت کے لیے ان سے مدد طلب کی

’میں نے صوبہ قندھار کے موجودہ گورنر سے ملاقات کی۔ انہوں نے مجھے سرکاری ملازمت میں بھرتی کرنے اور ایک گاڑی اور سکیورٹی اہلکار فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے چھ اضلاع کے سراغ رسانی سے متعلق معاملات میرے سپرد کیے۔ تاہم ابھی تک میری تقرری یا سکیورٹی اہلکار یا گاڑیاں فراہم کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘

عبد اللہ جان پچیس سال سروس کے بعد چھ سال قبل ریٹائر ہوئے۔ آج ولات خان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ریٹائر ہونا چاہتے ہیں مگر ہو نہیں سکتے

’جب علاقے میں کوئی چیز چوری ہو تو پورے قندھار میں میری ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ میں اب کافی بوڑھا ہو گیا ہوں۔ میں مزید سراغ رسانی نہیں کرنا چاہتا، لیکن وارداتوں کے متاثرین مجھے ریٹائر نہیں ہونے دیں گے۔ وہ مجھے قدموں کے نشان جاننے کے لیے اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔‘

نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں افغانستان اینالسٹس نیٹ ورک پر شائع علی محمد صباون کی تحریر سے مدد لی گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close