اپنی ’آزادی برقرار‘ رکھنے کے خواہشمند مصطفیٰ نواز کھوکھر کن اختلافات کے باعث مستعفی ہوئے؟

ویب ڈیسک

ان دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے سینیٹ کی رکنیت سے استعفے اور پارٹی کو خیر آباد کہنے کا معاملہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ ان کے اس فیصلے کی وجہ پارٹی قیادت کی ان کے سیاسی بیانات سے ناراضی ہے اور اسی لیے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا، جب تحریک انصاف کی جانب سے خفیہ اداروں پر تشدد کروانے، مبینہ وڈیوز اور سیاستدانوں کی نجی گفتگو لیک کروانے کے الزامات کا ایک سلسلہ جاری ہے، جس کی تازہ ترین مثال سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے ان کی اہلیہ کو مبینہ طور پر ایک ذاتی وڈیو بھجوانے کا معاملہ ہے

حیرت انگیز طور پر اعظم سواتی کی جانب سے درخواست دیے بغیر ہی ایف آئی اے نے اس وڈیو کو جعلی قرار دیا، جس نے مزید سوالات کو جنم دیا

مصطفیٰ نواز کھوکھر ان چند سیاست دانوں میں شامل تھے، جنہوں نے یہ معاملہ سامنے آتے ہی اعظم سواتی کی حمایت میں بیان دیا کہ ’اعظم سواتی صاحب کا یہ کلپ چیئرمین سینیٹ اور تمام پارلیمان کے منہ پر طمانچہ ہے۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ہماری انٹیلیجینس والے اس حد تک جائیں گے اور ہماری دینی، معاشرتی اخلاقیات کی اس طرح دھجیاں بکھیر دیں گے۔‘

اس ٹویٹ کے تین دن بعد مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اعلان کیا کہ پارٹی قیادت کی جانب سے ہدایات پر وہ مستعفی ہو رہے ہیں اور بحیثیت سیاسی ورکر وہ عوامی مفاد کے معاملات پر اپنی رائے کے اظہار کے حق سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے

باوجود اس بات کے کہ وہ اب بظاہر پیپلز پارٹی کا حصہ نہیں رہے، تاہم وہ اس معاملے پر مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتے تھے

ان کا کہنا ہے ’میری ٹویٹس سب کے سامنے ہیں۔ اور اب جبکہ میں سینیٹ کی رکنیت چھوڑ چکا ہوں تو کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا جو مزید خفگی کی وجہ بنے۔اچھے نوٹ پر بات ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی طرف سے بھی اس معاملے پر کوئی بات نہیں کی جا رہی

واضح رہے کہ مصطفیٰ نواز کھوکھر کی یہ ٹویٹس اپنی جگہ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کے دیگر جاننے والے کہتے ہیں کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ان کے پارٹی قیادت سے اختلافات ہوئے ہیں

اور ان کا اپنے استعفے کے متن میں یہ کہنا کہ انہوں نے ’سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی ہدایت پر استعفی پیش کیا ہے‘، اس بات کا امکان ہے کہ اُن پر پارٹی کی سینیئر قیادت کی طرف سے استعفیٰ دینے کا دباؤ بڑھ رہا تھا

زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اگرچہ جمہوری نظام کی بات کرتی ہیں لیکن ان تمام سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر جمہوری نظام رائج نہیں ہے۔ اور اس رویے کی مثالیں موجود ہیں جہاں سیاسی رہنماؤں کو کسی کانفرنس میں، یا سوشل میڈیا پر، یا پھر کسی ٹی وی چینل پر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کرنے پر نوٹس جاری کر دیا گیا ہے یا پھر رکنیت سے مستعفی ہونے کی ‘ہدایت’ دی گئی ہے

مصطفیٰ نواز کھوکھر کے پیپلز پارٹی کے ساتھ کن باتوں پر اختلافات رہے ہیں؟

نومبر 2020 میں مصطفیٰ نواز کھوکھر بلاول بھٹو کے ترجمان تھے۔ اور اس وقت وہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ بھی تھے۔ اس دوران انسانی حقوق کمیٹی میں وہ لاپتہ افراد کے معاملے پر بھی بات کرتے رہے

صحافی اعزاز سید کہتے ہیں ”ان تمام تر معاملات کی شکایتیں پی پی پی کے سینیئر ارکان کے پاس آتی تھیں۔ اسی دوران بلاول اور مصطفیٰ نواز کے درمیان قول و فعل کا تضاد بھی صاف ظاہر ہونے لگ گیا۔ جہاں بلاول انسانی حقوق کے کسی معاملے پر کوئی بیان دیتے، ان کے ترجمان کا بیان ان سے خاصا مختلف اور زوردار ہوتا“

اعزاز سید کا کہنا ہے ”پاکستان پیپلز پارٹی ایسی سیاست کرنا چاہتی تھی، جس سے انہیں کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے۔ لیکن مصطفیٰ نواز کھوکھر ان معاملات پر بات کرنا چاہتے تھے جس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا“

بہت جلد مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اس عہدے کو چھوڑ دیا

اعزاز سید کے مطابق ”جب سنہ 2018ع میں پاکستان تحریکِ انصاف کی نئی حکومت منتخب ہوکر آئی تب پیپلز پارٹی کی پوری کوشش تھی کہ انسانی حقوق کی کمیٹی مسلم لیگ نواز اپنے پاس رکھ لے۔ مشاہد حسین سید کا نام لیا گیا، انہوں نے انکار کر دیا، شیری رحمان نے بھی نہیں لی، تو آخر کار یہ کمیٹی پھر پی ٹی آئی کے سینیٹر ولید اقبال کے پاس گئی“

ان کے مطابق ”مصطفیٰ نواز کھوکھر کا نام پیپلز پارٹی نے بھی نہیں دیا کیونکہ انہیں پتا تھا کہ یہ ایسی باتیں کرے گا، جو اسٹیبلیشمنٹ کو ناگوار گزریں گی“

مصطفیٰ نواز کھوکھر کی جب بات کی جاتی ہے تو زیادہ تر لوگ انھیں ’اپنے خاندان سے الگ‘ شخص بتاتے ہیں

مصطفیٰ نواز حاجی نواز کھوکھر کے بیٹے ہیں۔ حاجی نواز کھوکھر 1985ع میں پاکستان کی اسمبلی میں شامل ہوئے تھے اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بھی رہ چکے ہیں

حاجی نواز کھوکھر بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ تمام عمر پی پی پی کے حمایتی رہے

حاجی نواز کے بھائی امتیاز علی کھوکھر، جو اسلام آباد اور گرد و نواح میں تاجی کھوکھر کے نام سے مشہور تھے اور ایک متنازع شخصیت رہے۔ ان کے خلاف مختلف مقدمات درج ہوئے، جن میں زمینوں پر قبضوں سے لے کر اقدام قتل تک کے الزامات شامل تھے

مصطفیٰ نواز کھوکھر کے والد اور چچا تاجی کھوکھر کا جنوری 2021ع میں ایک ہی ہفتے میں انتقال ہوا تھا، جس کی وجہ کورونا بتائی گئی تھی

صحافی حامد میر نے مصطفیٰ نواز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’مصطفیٰ نواز کھوکھر کو آپ ان کے خاندان سے الگ دیکھیں۔ ان کی پڑھائی برطانیہ میں ہوئی، جہاں سے انہوں نے انسانی حقوق میں اسپشیلائیزیشن کی اور پھر پاکستان آئے‘

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سنہ 2002ع کے عام انتخابات میں اسلام آباد کے این اے 49 کے دیہی علاقے سے انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہ ہار گئے۔ اسی نشست سے پی پی پی کے رکن نئیر بخاری جیت گئے، جو بعد میں چیئرمین سینیٹ بھی رہے

سنہ 2008ع میں مصطفیٰ نواز کھوکھر پیپلز پارٹی کی حکومت میں بطور انسانی حقوق کے ایڈوائزر کے طور پر شامل ہوئے

اعزاز سید کا کہنا ہے ”اسی دوران انہوں نے جبری طور پر گمشدہ افراد کے معاملے کو بھی اٹھایا۔ آج کی طرح ان معاملات پر اس وقت بھی کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ لیکن مصطفیٰ نواز کھوکھر اس پر پارٹی پالیسی کے برعکس بات کیا کرتے تھے“

صحافی عمر چیمہ کے مطابق ’مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اسی دور میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجینس کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا کو لاپتہ افراد کے معاملے پر خط لکھا تھا۔‘ اپنے یوٹیوب چینل پر انھوں نے کہا کہ ’یہ خاص طور سے ایک ایسا معاملہ ہے جس پر کوئی بات کرنا نہیں چاہتا۔‘

مصطفیٰ نواز کا سیاسی مستقبل

اس حوالے سے خود مصطفیٰ نواز کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ کسی جماعت میں جانا نہیں چاہتے

مصطفی نواز کھوکھر کے حالیہ بیانات کے بعد ان کو پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے کافی سراہا گیا، جس کے بعد ایسی قیاس آرائیاں ہوئیں کہ وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو سکتے ہیں

تاہم خود مصطفی نواز کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آزادی برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے

صحافی حامد میر نے کہا ”مصطفیٰ نواز پی ٹی آئی پر خاصی تنقید کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ بمشکل ہی اس جماعت کو اپنے لیے چنیں گے۔ لیکن آخرکار یہ پاکستان ہے اور یہاں کچھ بھی ہوتا ہے“

حامد میر کہتے ہیں ”مصطفٰی نواز کا خاندان دیہی علاقوں میں جانا جاتا ہے۔ اس وقت مصطفیٰ نواز کو نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کو ان کی ضرورت ہے۔ ان تمام تر سیاسی جماعتوں میں یکساں اصول ہیں جو بالکل جمہوری نہیں۔ پارٹی پالیسی ہر چیز پر غالب ہو جاتی ہے۔ اور بطور رکن آپ کو انہیں ماننا پڑتا ہے ورنہ نوٹس جاری ہو جاتا ہے“

اس کی مثال حالیہ دنوں میں ہونے والے چند واقعات سے ملتی ہے جہاں مسلم لیگ نواز کے جاوید لطیف کو جماعت کی جانب سے موجودہ حکومت میں کسی وزارت کا چارج نہیں دیا گیا۔ یا پھر سابق وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ، جنہوں نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے انعقاد میں اپنا کردار ادا کرنے کے بعد اپنی رکنیت ’ذاتی وجوہات‘ کی بنا پر چھوڑ دی

تجزیہ کاروں کی جانب سے عندیہ یہی دیا جا رہا ہے کہ اگر اگلے چھ ماہ میں الیکشن ہوتے ہیں تو مصطفیٰ نواز بطور آزاد امیدوار لڑیں اور جیت کی صورت میں کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close