
پرماتما کی بے پناہ مہربانی سے آج میں ساڑھے تین منزلہ کوٹھی کا مالک ہوں۔ کبھی ایک معمولی ملازم کی حیثیت سے دبئی گیا تھا، صنعتکار اور کروڑپتی بن کر واپس آیا۔ میری کئی فیکٹریاں ہیں، گھر میں خوبصورت اور نیک بیوی ہے، لائق بچے ہیں، نوکر چاکر ہیں، دروازے پر دو دو گاڑیاں کھڑی ہیں، لیکن میرے لیے سب سے بڑی نعمت گھر میں ٹی وی ہے، امپورٹڈ۔ ٹی وی میں کم ہی دیکھتا ہوں لیکن جب بھی بیٹھتا ہوں، بچپن کا ایک واقعہ ٹی وی اسکرین پر چلنے والے پروگرام کے ساتھ ساتھ میرے دماغ میں چلتا رہتا ہے۔
دسمبر کا مہینہ تھا، اتوار کی شام تھی، تاریخ یاد نہیں، داخلی دروازے سے گزرتے ہوئے بائیس سیڑھیاں چڑھ کر میں برساتی والے کمرے تک پہنچا۔ بند دروازے پر دستک دیتے ہوئے میں نے آہستہ سے پکارا: ”آنٹی۔۔۔“ چند لمحوں کے انتظار کے بعد دوبارہ زور سے دستک دی۔ اندر سے کوئی ردعمل محسوس نہ ہوا تو میں بے چین ہو گیا۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، جس کی آواز مجھے خود سنائی دے رہی تھی۔ دل میں بےچینی سی ہونے لگی۔
”آنٹی جی۔۔۔۔“ میں نے بڑی بےقراری سے پکارا، مگر دروازے کے پیچھے سے نہ کسی کے قدموں کی آہٹ آئی، نہ کسی کی آواز یا چوڑیوں کی کھنک سنائی دی۔ سیڑھیوں پر میرے اور بھی کئی ساتھی بچے جمع ہو گئے تھے۔ میں نے ہمت کرکے دوبارہ دروازہ زور سے کھٹکھٹایا۔ رتن جو نچلی سیڑھی پر کھڑا تھا، سب کو دھکیلتا ہوا اوپر آیا اور بلند آواز میں چیخا: ”آنٹی جی!“ اس کی حمایت میں جیون بھرائی ہوئی آواز میں بولا: ”آنٹی!“ پھر دس بارہ بچوں کی آوازیں ملیں: ”آنٹی۔۔۔ آنٹی۔۔۔ آنٹی! دروازہ کھولو، آنٹی!“
دروازہ کھلا، لیکن ساتھ والے کمرے کا۔ ایک بوڑھی اور کرخت آواز سنائی دی:
”بچے ہیں کہ توبہ! کتنا شور مچاتے ہیں؟“ جیسے یہ بات صرف سنانے کے لیے کہی گئی ہو اور پھر دروازہ زور سے بند کر دیا گیا۔
اسی دوران قدموں کی آواز سن کر کچھ امید بندھی۔ ”یہ لو، آنٹی آ گئی ہیں!“ سب آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے، ”اب وہ دروازہ کھول دیں گی۔“ لیکن انہوں نے اندر سے ہی کہا: ”تم لوگ اب مت آیا کرو۔“
”بس آج آنے دو آنٹی، پلیز۔ پھر ہم کبھی نہیں آئیں گے۔“ سب کی طرف سے چھوٹے کیرت نے کہا۔
”کہا نا، دروازہ نہیں کھلے گا۔ تم لوگ اپنے اپنے گھر جاؤ،“ آنٹی نے دروازے کی دراز سے جھانکتے ہوئے کہا۔
”چھے بجنے ہی والے ہیں، آنٹی جی۔ بڑی اچھی فلم ہے۔ بس آج دیکھ لینے دو۔“ رمو نے تقریباً روتے ہوئے کہا۔
”ارے کیسے لڑکے ہو؟“ بائیں طرف کے فلیٹ سے نکل کر ایک سفید پوش نے بڑے ڈرامائی انداز میں سمجھایا، ”جب گھر والے نہیں چاہتے کہ تم لوگ ان کے یہاں آؤ تو کیوں ضد کرتے ہو؟ بھائی، وہیں جانا چاہیے جہاں تمہیں بلایا جائے۔“ آواز میں نہ ناراضی تھی، نہ غصہ۔ نہ ڈانٹ، نہ طنز۔۔ لیکن چبھن اتنی تھی کہ دل درد سے کراہ اٹھا۔ دماغ میں جیسے سینکڑوں مکھیوں کی بھنبھناہٹ شروع ہو گئی۔
”ہںہ۔۔۔ بلائیں گے؟ کون بلائے گا ہمیں؟ ہمارے بیٹھنے سے ان کے فرش گندے ہو جاتے ہیں اور کمرے بدبو دینے لگتے ہیں۔ ہم ان کے ’اسٹیٹس‘ کے نہیں ہیں نا! ان کی عزت گھٹ جاتی ہے۔“
”جاؤ بچوں، جاؤ۔ تمہارے اندر کچھ تو خودداری ہونی چاہیے۔“ وہی کرتے والا شخص بڑی رعب دار آواز میں کہہ رہا تھا۔
میں نے منہ بنا لیا، ”خودداری ضرور ہونی چاہیے۔ ہماری خودداری کی حفاظت کے لیے آپ لوگ کتنا کچھ کرتے ہیں۔ روز روز دعوتیں اڑاتے ہیں، جبکہ ہمیں دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر نہیں ملتی۔ قیمتی قیمتی کپڑے پہنتے ہیں اور اکڑتے پھرتے ہیں۔ ہمارے ادھ ننگے جسموں پر آپ کی نظر بھی نہیں جاتی۔ آپ لوگ جائز و ناجائز سب باتیں کر لیتے ہیں، اور ہم اپنی خودداری کی خاک چاٹیں۔“
کرتے والا شخص اندر چلا گیا تھا۔
سیڑھیوں پر کھڑے بچوں کا دل بےچین ہو رہا تھا۔ وہ بار بار ہلکے سے دروازہ کھٹکھٹا دیتے تھے۔
”تم لوگ ایسے نہیں مانو گے!“ ایک مردانہ آواز کانوں میں پڑی۔ اسی کے ساتھ برساتی والے کمرے کا دروازہ پوری طرح کھل گیا۔ ہاتھ میں پتلی سی چھڑی تھامے انکل کھڑے تھے۔ ان کا رعب دار انداز دیکھ کر بچے سہمی ہوئی حالت میں نیچے اترنے لگے، اور میں بھی ان کے پیچھے پیچھے۔ آخر ’خودداری‘ کی حفاظت تو کرنی ہی تھی۔
”جھناں۔۔۔ لو، فلم شروع ہو گئی۔ کیا دلکش موسیقی ہے۔ اب کرداروں کا تعارف کرایا جائے گا۔“ سیڑھیوں کے موڑ پر جو چوکھٹا نما چبوترا تھا، ہم سب وہیں کھڑے ہو کر صورتحال پر غور کرنے لگے۔
”آج آنٹی غصہ کیوں ہو گئیں؟ ہم تو کتنی بار، بلکہ ہر ہفتے ان کے یہاں فلم دیکھتے ہیں۔“ میں نے صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔
”آنٹی تو خوش ہوتی ہیں۔ درمیان میں چنے، مونگ پھلی اور ریوڑیاں بھی دیتی ہیں۔“ راجو کہہ رہا تھا۔
”لگتا ہے آج انکل اور آنٹی کی لڑائی ہو گئی ہے۔“ رمو نے رائے دی۔
”پچھلے ہفتے مکان مالک نے آ کر کہا تھا نا کہ آپ لوگ جانے کہاں کہاں کے بچوں کو بلا کر بٹھا لیتے ہیں۔ اگر کسی کی کوئی چیز چوری ہو گئی تو کون ذمہ دار ہوگا؟“ رمو نے اپنی بات ظاہر کی۔
”ہاں، اور وہ نیچے والی بکو کی ممی بھی تو شور مچا رہی تھیں کہ بچے اوپر سے اترتے ہوئے اتنا شور کرتے ہیں کہ سر درد ہونے لگتا ہے۔“ رتن نے کہا۔
”اور بیچ والی کوٹھی میں جو شاید ڈاکٹرنی ہے یا ماسٹرنی، انہوں نے بھی شکایت کی تھی کہ بچے سیڑھیوں پر مونگ پھلی کے چھلکے، ٹافی کے ریپر اور جانے کیا کیا بکھیر دیتے ہیں۔“ رتن نے مزید کہا۔
”بس تو پھر مزے کرو!“ کیرت بولا۔
”آج فلم دیکھنے کا موقع مل جائے، پھر ہم کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیں گے۔“ میں مایوس لہجے میں بولا۔
اسی وقت رمو بول پڑا، ”نکڑ والی کوٹھی والوں کے یہاں بھی تو ٹی وی ہے۔ چلو کھڑکی سے کھڑے ہو کر دیکھ لیں گے۔“
بچے ’ہو ہو‘ کرتے سیڑھیوں سے اتر گئے۔ اداس دل کے ساتھ میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا۔
سیڑھیوں سے نیچے اترے ہی تھے کہ نچلی منزل کے بائیں طرف والے فلیٹ میں کچھ لوگوں کو جاتے دیکھا۔ عورتیں تھیں، اور ان کے ساتھ کئی بچے بھی۔ میزبان عورت دروازے پر کھڑی استقبال کر رہی تھی: ”آؤ جی، آؤ!“
ہم نے سوچا، اچھا موقع ہے، بہتی گنگا میں ہم بھی ہاتھ دھو لیں، لیکن درمیان میں ہی روک دیے گئے۔
”ارے ارے، کہاں گھسے آ رہے ہو؟ جگہ نہیں ہے!“
”ہم زمین پر بیٹھ جائیں گے۔“ میں نے کہا۔
”نہیں، اندر کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہیں ہے۔“ میزبان نے ہمیں دھکیلتے ہوئے کہا۔
اسی دوران پانچ سات عورتوں اور بچوں کا ایک اور جتھا آ گیا۔ میزبان کی آواز میں یکدم مٹھاس آ گئی۔ مسکرا کر بولی: ”آؤ جی، آؤ! تسی بڑے دیر سے آئے ہو۔۔۔“ اور پھر دروازہ بےرحمی سے بند کر لیا گیا۔
ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ سب کی آنکھوں میں سوال تھا: ’اب کیا کریں؟‘
”تیسری گلی میں لال کوٹھی والوں کے ہاں کوشش کریں؟“ بنٹو بولا۔
”آج جب برساتی والی آنٹی نے اندر نہیں آنے دیا تو کوئی اور کیوں آنے دے گا؟“ رمو نے جیسے ہار مانتے ہوئے کہا۔
سب بچے مایوس دل کے ساتھ گیٹ کے باہر آ گئے۔ چاروں طرف سے دلکش موسیقی کی آواز آ رہی تھی۔ کئی گھروں سے، بلکہ ایک ہی عمارت کے کئی کمروں سے ایک جیسا موسیقی کا جادوئی آہنگ فضا میں گونج رہا تھا۔ کوئی جوڑی گیت تھا۔ ہر فلم میں ایک جوڑی گیت ضرور ہوتا ہے۔ ایک آواز آشا بھونسلے کی لگ رہی تھی اور دوسری شاید رفیع یا مہندر کپور کی تھی۔
میں مسحور ہو کر وہ موسیقی سنتا رہا۔ دو منٹ کا گانا جلدی ختم ہو گیا۔ باقی بچے اس دوران جانے کہاں کہاں بکھر گئے تھے۔ میں گلی کے ایک مکان کی کھڑکی کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔ کچھ نظر تو نہیں آ رہا تھا، لیکن آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
پتہ نہیں لوگ دروازے کے ساتھ ساتھ کھڑکیاں کیوں بند رکھتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہم جیسے ’آوارہ‘ اور ’لفنگے‘ ان کا ٹی وی نہ دیکھ لیں! میاں بیوی آرام سے بیٹھ کر دیکھتے رہتے ہیں، اور ہم باہر سے صرف آواز سنتے رہ جاتے ہیں۔
ان لوگوں کے ساتھ اکیلے بیٹھا بھی کیسے جا سکتا ہے؟ کہتے ہیں، خوشی بانٹو تو دوگنی ہو جاتی ہے، لیکن آج کا خود غرض معاشرہ اپنی تمام خوشیاں صرف اپنے لیے رکھنا چاہتا ہے۔ کہیں غلطی سے بھی دوسروں کا بھلا نہ ہو جائے!
اوہ! یہ کیسی آوازیں آنے لگیں؟ شاید فلم میں ہیرو اور ولن کی لڑائی کا سین ہے۔ مکے بازی اور گھونسے بازی ہو رہی ہوگی۔ مجھے لڑائی کے مناظر بہت پسند ہیں۔ ٹھینشو… ٹھینشو…! کتنا سسپنس ہوتا ہے! دل کیسی گھبراہٹ محسوس کرتا ہے، جیسے سانس روک کر بس دیکھتے رہو۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ آخر میں جیتنا تو ہیرو کو ہی ہے، پھر بھی دیکھنے میں کیسا عجیب لگتا ہے۔
عجیب عجیب آوازوں کے ساتھ تیز موسیقی، اور لوگوں کی ’چ…چ…‘ بھی۔۔۔ لگتا ہے اب کوئی سنسنی خیز منظر ہے۔ وہ فلم ہی کیا جس میں کوئی سنسنی خیز منظر نہ ہو! کبھی کشتی پر ہیرو اور ولن لڑ رہے ہوتے ہیں اور کشتی بھنور کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے۔ کبھی مکان کی چھت یا پہاڑ کی چوٹی پر مکے بازی ہو رہی ہوتی ہے، لگتا ہے کہ بس اب گرا کہ اب گرا!
پتہ نہیں اس فلم میں کیسا منظر ہے۔ میں نے کھڑکی کی درز میں دو انگلیاں ڈالیں۔ ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ کھڑکی تھوڑی سی کھل گئی۔ اپنی عقل پر مجھے فخر محسوس ہوا، لیکن دوسرے ہی لمحے منہ سے گندی گالی نکل گئی: ”کمینے!“
پیچھے پردہ بھی ڈال رکھا ہے، اتنا موٹا کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھو تو بھی کچھ نظر نہ آئے۔
یہ لو! سب ہنسی مذاق کر رہے ہیں۔ اگر ہال ہوتا تو سیٹیاں بج رہی ہوتی۔ یقیناً کوئی مزے دار واقعہ پیش آیا ہوگا۔ محمود ہے نا اس فلم میں؟ بہت ہنساتا ہے محمود۔
میں نے پردے کا دھاگہ ہلکے سے اٹھایا۔ بس! اتنا سا کھلا رہنا کافی تھا۔ واہ! کیا خوبصورت منظر ہیں۔ شاید کشمیر کا ہو، اس لیے ہر طرف برف ہی برف ہے۔ یہاں ضرور کوئی خاص واقعہ پیش آئے گا۔ اکثر منظر کے ساتھ ساتھ کہانی میں بھی موڑ آتا ہے۔
۔۔۔۔دیکھا، میں نے صحیح سوچا تھا۔ ہیرو اور ہیروئن محبت میں غرق ہیں اور یہ تین چار اجنبی لوگ اچانک کہاں سے آ گئے؟
”ارے مسٹر! کیا ہو رہا ہے؟“ ایک نوجوان نے غصے میں کہا۔
”جی۔۔۔ جی۔۔۔ میں فلم۔۔“
”فلم دیکھنی ہے تو ادھر آؤ نا!“ بڑی ہمدردی اور پیار سے بولا۔
میں کھڑکی سے ہٹ کر دو سیڑھیاں ایک چھلانگ میں کود کر برآمدے میں پہنچ گیا۔ دل خوشی، امید اور جوش سے جھوم اٹھا۔
”ٹیلیویژن دیکھے گا؟“ اچانک تڑاک سے ایک تھپڑ میرے گال پر پڑا۔ ”تیرے باپ کا ٹیلیویژن ہے نا؟“
میرے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ لڑکے کو کسی نے اندر کھینچ لیا۔ میں گال سہلاتے ہوئے، ذلت کا گھونٹ پیتے ہوئے، سڑک پر آ گیا۔
’جہنم میں جائے ایسی فلم! ایک گھنٹے سے سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے کھڑے ہیں، اور اوپر سے یہ توہین!‘ مجھے سچ میں فلم کا کوئی شوق نہیں ہے، لیکن کل اسکول میں یہ ہی فلم سب بچوں کا موضوعِ گفتگو ہوگی۔
سب بولیں اور میں خاموش رہوں۔ کوئی کہیں، کوئی کہیں جا کر دیکھ آتے ہیں اور ایسی دھنیں مارتے ہیں جیسے گھر میں ٹی وی خرید رکھا ہو۔ اب کل سب بچوں کے سامنے نکو بننا پڑے گا۔ جو تھوڑا سا بھی دیکھ لیتا تو بحث میں شامل ہو جاتا، بڑھ چڑھ کر بولتا۔
میرا گال سنسنا رہا تھا۔ میں غمگین دل کے ساتھ گھر کی طرف چل پڑا۔ قدم آگے بڑھتے جا رہے تھے اور دماغ میں کشمیر کی وادیاں لہراتی جا رہی تھیں۔ اب ہم لوگ کشمیر گلمرگ تو جانے سے رہے، لیکن پِکچر کے مناظر سے ہی تو اندازہ لگا سکتے ہیں۔
واہ، کیا ہریالی ہے، کیا جھرنے ہیں، قدرتی خوبصورتی کی کیسی دلکش جھلک۔
’ٹھہرو، سکون۔۔۔‘ ایک گونجتی ہوئی بے چین آواز سنائی دی۔ ساتھ ہی ریل گاڑی کی سیٹی اور انجن کی گھرر گھرر۔
ہائے! پتہ نہیں کیا ہونے جا رہا ہے۔ شاید ہیروئن ناراض ہو گئی ہے اور ریل کی پٹریوں پر دوڑ رہی ہے — خودکشی کے ارادے سے۔ تب ہی ہیرو کو اتنی بے چینی سے پکار رہی ہے۔ سمجھ گیا، بس یہی ہوگا۔ کاش! میں دیکھ پاتا۔
ایک آہ ہیروئن کی۔۔۔ اور اب ریل کے نیچے بے چاری۔ اور اپنے آپ کو میں روک نہ پایا۔ پھر سے کھڑکی پر جا کر کھڑا ہو گیا۔
ارے، یہاں تو حالات بدل گئے ہیں لگتا ہے۔ ہیروئن خون میں لتھڑے ہیرو کے جسم سے چمٹی چلا رہی ہے، اور روتے ہوئے مارے مارے جا رہی ہے۔
مجھے نہیں پتا کیوں رونے والے مناظر اچھے نہیں لگتے۔ پس منظر کی موسیقی اتنی غمگین ہوتی ہے کہ ساتھ ہی مجھے بھی رونا آ جاتا ہے۔ پھر چھپ کر آنکھوں کے کٹتے ہوئے آنسو پونچھنے پڑتے ہیں۔ لڑکا ہوں نا، لڑکے روئے تو اچھے نہیں لگتے۔
میں اسکرین سے آنکھیں ہٹا لیتا ہوں۔ میری نظر لوگوں پر جاتی ہے۔ ہاؤس فل ہے۔ عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں اون اور سلائیاں ہیں۔ ہاتھ فلم کی رفتار کے مطابق چل رہے ہیں۔ گھریلو مالکہ کتنی اکڑی ہوئی بیٹھی ہے۔ فخر ان کے پور پور سے پھوٹ رہا ہے۔ گھر میں ٹی وی ہے، یہی ان کی حیثیت بتانے کے لیے کافی ہے۔ مردوں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔ جو ہیں، ان کی آنکھیں تو ٹی وی پر ہیں، لیکن وہ ملکی اور عالمی موضوعات پر بولتے جا رہے ہیں۔ یا پھر کرکٹ پر یا۔۔۔ بچوں کو شاید ٹافیاں دی گئی ہیں۔ کیسے چباتے جا رہے ہیں، کٹ کٹ۔
میرا دل بغاوت کرنے لگتا ہے۔ آخرکار میں بھی تو بچہ ہوں۔ مجھے بھی تو یہ سب سہولتیں حاصل کرنے کا پورا حق ہے۔ لیکن ہم غریبوں کی سہولت اور مشکلات کا کس کو خیال؟ ہمیں تو بس بدبودار نالیوں کے ساتھ یا فٹ پاتھوں پر بنی جھگیوں میں رہنے کا ہی حق ہے۔ کہنے کو ہم ملک کا مستقبل ہیں، ملک کے رہنما ہیں، مگر ہمارے اوپر ترس دکھانا بھی گناہ ہے، مدد کرنا بھی جرم ہے۔ اگر حکومت کسی عوامی مقام پر ٹی وی لگا کر ہمارا تفریحی انتظام بھی کر دیتی، تو ہم گھروں گھروں کیوں جا کر گڑگڑاتے؟
یک دم میرے دماغ میں ایک خیال آیا۔ کیوں نہ روشن دان سے دیکھنے کی کوشش کروں؟ اوپر سے اچھا دکھے گا۔ لیکن اتنی اونچائی! نہیں، کوئی خاص اونچا بھی نہیں۔ ایک پاؤں فٹکے پر، دوسرا فٹکے کی پٹی پر۔۔ تیسرا قدم کھڑکی پر، چوتھا کینوپی پر، اور تب یہ روشن دان کی ریلنگ پکڑ میں آ گئی۔ میں اس سے لٹک گیا۔ تھوڑی دیر لٹک کر دیکھتا رہا۔ مزہ آ گیا۔ لیکن جلد ہی ہاتھوں میں تکلیف ہونے لگی۔ پھر لگنے لگا کہ بازو جوڑوں سے نکل جائیں گے۔ پاؤں کو صحیح جگہ پر رکھنے کی جگہ نہیں تھی، تو ٹانگیں بھی الگ ٹوٹتی جا رہی تھیں۔ بڑی ہمت سے، میں روشن دان کی پٹی کا سہارا لے کر بیٹھنے میں کامیاب ہو گیا۔ بس اب کوئی فکر کی بات نہیں۔ آرام سے پوری پکچر دیکھ لی جائے گی۔ پٹھوں میں تھوڑا درد ہو گا، لیکن یہ تو برداشت کیا جائے گا۔
میں بڑی آرام سے پکچر دیکھ رہا ہوں۔ دل ہی دل میں اُس کاریگر کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے اتنی مہارت سے اس جھروکے کی بناوٹ کی۔ اُس انجینئر کو دعائیں دیتا ہوں جس نے اس عمارت کا نقشہ بنایا اور جس نے کمرے کے باہر ایک روشن دان کی ترتیب بھی رکھی۔ خوش ہو کر دیکھ رہا ہوں مار دھاڑ، چیخ و پکار، لڑائی جھگڑا۔ کبھی محبت کا ڈرامہ، کبھی مزاحیہ نوٹنکی، کبھی رقص، کبھی ہیرو کے بڑے بڑے کرشمے۔۔ اکیلا دس دس کو پچھاڑ رہا ہے۔ جیتندر پر ایسے رول بہت اچھے لگتے ہیں—شاباش! دیکھا، سب تالیاں بجا رہے ہیں۔ میں بھی دونوں ہاتھوں سے تالیاں بجانے لگا۔ دھڑاک۔ پل بھر کے لیے دماغ کی سرگرمی ختم ہو گئی، زبان گونگی ہو گئی، ہاتھ پاؤں اکڑ گئے۔
کمرے میں ابھی بھی خوشی بھرے قہقہے سنائی دے رہے تھے۔ گلیوں میں رونق ہو گئی تھی، بتیوں کی چمک بڑھ گئی تھی، ہاف ٹائم ہو گیا تھا۔ باہر جانے والے تبصرے کر رہے تھے، کوئی کہہ رہا تھا وہ گانا کتنا پیارا تھا، کوئی کہہ رہا تھا فلاں کی اداکاری کمال کی ہے، اور میں خاموش، درد کو پیے ہوئے گلی میں پڑا رہا۔ نہ زبان سے کوئی بات نکل رہی تھی کہ کسی کو بلا لوں، نہ پاؤں اُٹھتے تھے کہ گھر چلا جاؤں، بس پڑا رہا جب تک کہ ایک انسان کی نظر مجھ پر نہیں پڑ گئی۔
”کیا ہوا؟ گر گئے، کیسے گرے؟“ مجھے اُٹھا کر کھڑا کرتے ہوئے اُس نے کہا—”چوٹ تو نہیں لگی؟“
”نہیں“ میں نے کہا۔ لیکن چوٹ لگی تھی، میرے جسم کو نہیں، میرے دل کو لگی تھی، میرے دماغ کو لگی تھی چوٹ۔
آہستہ آہستہ سب اپنے اپنے جگہ پر واپس آ گئے اور میں بھی اپنی سیٹ پر، اپنے روشندان پر پہنچنا چاہتا تھا لیکن جسم نے جواب دے دیا۔ میں پھر کھڑکی پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ میری نظر اسی نوجوان پر پڑی۔ ہنس ہنس کر دوستوں سے باتیں کر رہا تھا۔ میری کنپٹی پھر سے چٹخ اٹھی۔ ہاتھ پاؤں کا درد بھول گیا اور گال سہلانے لگا۔ تھوڑی دیر کے لیے وہ کمرہ، کمرے کا اچھا فرنیچر، فرنیچر پر بیٹھے مہذب ناظرین- سب مجھے چڑا رہے تھے۔ میری مجبوریوں پر ہنستے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ میرے دماغ میں ایک چالباز خیال آ گیا۔ لمحہ بھر کے لیے سوچے بغیر جیسے میں نے اپنا فیصلہ پکا کر لیا۔ میں نے کھڑکی کو تھوڑا زور سے کھڑکایا۔ پردے کے اندر تک دو انگلیاں ڈال کر اس کے تار کو اٹھایا۔ وہی لڑکا اٹھ کر فوراً کھڑکی تک آ گیا۔ پردہ ہٹایا اور کھڑکی کو مکمل کھول دیا۔ میں نیچے کی طرف سمٹ گیا۔
”کیا ہے بیٹے؟“ ایک نرم و ملائم آواز کانوں میں آئی۔ لڑکا سوال کرنے والے کی طرف مڑ کر جواب دینے لگا۔
میں نے پینٹ کی جیب میں رکھی کنچی کو بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی پر رکھ کر نشانہ لگایا اور سامنے رکھے ٹی وی پر دے ماری۔ کنچے کھیلنے میں میرا نشانہ کبھی نہیں چوکتا۔ تڑاک! اور شیشہ جھنک جھنک کرتا کمرے میں بکھر گیا۔ کمرے میں بیٹھے لوگ ہکّا بکا رہ گئے۔ کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ آخر کیا ہوا؟ کوئی سوچ رہا تھا کہ یہ فلم کا حصہ ہے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ شیشہ وولٹیج کے فلیکچویشن سے ٹوٹ گیا۔ میں دوڑ کر باؤنڈری وال کے پیچھے چھپ گیا۔
ناظرین اپنے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے۔ لڑکے ادھر ادھر پریشان ہو کر گھوم رہے تھے۔ گھریلو مالکہ نوکر کی مدد سے بکھرے شیشے جمع کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے سب تماشا دیکھ رہے تھے اور میں پریشان تھا۔ اب سب پریشان ہو رہے تھے اور میں تماشا دیکھ رہا تھا۔