جب مینار پاکستان کے احاطے میں اس کے معمار کا داخلہ روک دیا گیا۔۔

سید صفدر گردیزی

قیام پاکستان کے بیس برس بعد تعمیر ہونے والا مینار پاکستان کئی حیثیتوں اور جہتوں کا مالک ہے۔ تاریخی طور پر یہ قرارداد پاکستان کی منظوری کے مقام اور دن کی یادگار کو مجسم صورت میں بیان کرتا ہے

ثقافتی اور سماجی طور پر یہ اہلِ لاہور اور بیرونِ شہر سے آنے والوں کی تفریح طبع کا ذریعہ ہے

حالیہ برسوں میں سیاسی اتار چڑھاؤ کے ہنگاموں میں یہ جگہ سیاسی اور عوامی مقبولیت ماپنے کا پیمانہ بن چکی ہے

منٹو پارک سے اقبال پارک اور یادگار قرارداد پاکستان سے مینار پاکستان تک کے سفر کے بہت سارے سنگ ہائے میل ہیں

پہلوانوں کی کشتی سے سیاسی دنگل تک
برصغیر کے سابق وائسرائے لارڈ منٹو کے نام سے موسوم منٹو پارک بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں اہل پنجاب کی توجہ کا مرکز بنا

لاہور شہر کے قدیم دروازوں سے باہر قائم اس پارک میں آم کے درختوں میں گھرے ہوئے اکھاڑے واقع تھے، جن میں کُشتی کے معرکہ خیز دنگل ہوا کرتے تھے

اپنے دور کے ناقابلِ شکست شہزور رستمِ ہند امام بخش پہلوان اور گوگا پہلوان کا تاریخی دنگل اسی منٹو پارک میں ہوا تھا، جس میں گوگا پہلوان نے رستمِ ہند کو چاروں شانے چت کر دیا تھا

تقسیمِ ہند سے قبل ہر سال دسمبر کے آخری دس دن یہاں کرکٹ کا میلہ سجتا تھا۔ اس دور کے مقبول کرکٹ کلب کریسنٹ کلب کے کھلاڑی یہی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے تھے۔ انہی میں سے لالہ امر ناتھ اور حفیظ کاردار نے کرکٹ کے بین الاقوامی میدانوں میں اپنے ہنر کا سکہ جمایا

معلوم نہیں کہ یہ محض اتفاق تھا یا کچھ اور کہ 30 اکتوبر 2011 کو کرکٹ سے سیاست میں آنے والے عمران خان نے اسی میدان میں تہلکہ خیز جلسہ کر کے سیاست کے کھیل میں ہلچل مچا دی

آنے والے برسوں میں ان کا مقابلہ امام بخش پہلوان کے خاندان کے داماد میاں نواز شریف سے ہوا۔ جو دہائیوں سے پنجاب کے سیاسی دنگل کے فاتح چلے آ رہے تھے

مینار پاکستان پر سیاسی جلسوں اور ریلیوں کی ایک تاریخ ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے اپریل 2018 میں اقتدار میں آنے سے قبل اور ایوان اقتدار سے رخصتی کے بعد اپریل 2022 میں اپنے سیاسی پیغام کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا

اس پر ان کے حمایتیوں نے تحریک انصاف کو اقبال پارک میں تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے والی جماعت قرار دینا شروع کر دیا

مینارِ پاکستان کے میدان میں سیاسی جلسوں کا احوال جانیے کے لیے ہمیں تاریخ کا سفر کرنا پڑے گا

یادگار قرارداد پاکستان سے مینارِ پاکستان

اپریل 1986 میں بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس لوٹیں اور مینارِ پاکستان پر ان کے تاریخی جلسے نے پیپلز پارٹی کو حیاتِ نو بخشی

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر کئی کتابوں کے مصنف اور سینیئر صحافی منیر احمد منیر کے خیال میں بے نظیر بھٹو کا جلسہ پاکستان کے سیاسی جلسوں اور احتجاج کے کلچر میں ایک تبدیلی لے کر آیا۔
اس سے قبل لاہور میں ناصر باغ، بھاٹی گیٹ اور چیئرنگ کراس میں جلسے ہوا کرتے تھے۔ بے نظیر بھٹو کے استقبال کے لیے ملک بھر سے جیالوں کی شرکت نے ریلی اور جلسے کے امتزاج سے عوامی اجتماع کا نیا انداز متعارف کروایا

بے نظیر بھٹو کے والد ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب ایک سیاسی دھمکی کا بھی ذکر کیا جاتا ہے، جس میں انہوں نے اسمبلی کے اجلاس میں ڈھاکا جانے والوں کی ’ٹانگیں توڑنے‘ کی بات کی تھی

ذوالفقار علی بھٹو نے جس جلسے میں مذکورہ جملے بولے تھے، وہ 28 فروری 1971 کو مینارِ پاکستان کے گراؤنڈ میں ہی ہوا تھا۔
منیر احمد منیر بتاتے ہیں کہ بھٹو کا جلسہ مینارِ پاکستان پر ہونے والا پہلا بڑا سیاسی جلسہ تھا۔ ان دنوں اس جگہ کا نام ’یادگار قرارداد پاکستان‘ ہوا کرتا تھا۔ جسے عام لوگ مختصر کر کے ’یادگار‘ بولا کرتے تھے

سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد اس جگہ کو یادگار قرارداد پاکستان کے بجائے مینارِ پاکستان کہا اور لکھا جانے لگا

اس یادگار کی تعمیر کی کہانی اپنے اندر قوم کی خاطر ایثار اور سرکاری مشینری کی روایتی بے حسی کے مختلف اور متضاد جذبے سموئے ہوئے ہیں

دسمبر 1959 تک اس جگہ صنعتی میلہ منعقد ہوا کرتا تھا۔ لاہور میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر عبداللطیف خان نے کارپوریشن کے اجلاس میں پاکستان ڈے کی یادگار تعمیر کرنے کی قرارداد پیش کی۔ حکومت نے اس کام کے لیے ’پاکستان میموریل ڈے‘ کمیٹی قائم کی۔ اس بائیس رکنی کمیٹی کے سربراہ لاہور کے کمشنر تھے، جنہوں نے قراردادِ پاکستان ڈے کی یادگار کی تعمیر کے لئے ڈیزائن کا انتخاب کرنا تھا

مینار کے دو ڈیزائن کیوں مسترد ہوئے؟

مغربی پاکستان کے گورنر اختر حسین نے سنہ 1960 میں یادگار کی تعبیر کا سنگ بنیاد عین اسی جگہ رکھا جہاں قرارداد منظور ہوئی تھی۔ جگہ کی نشان دہی میاں امیر الدین نے کی

کمیٹی نے روسی نژاد نصرالدین مرات خان کی کمپنی کو یادگار کا ڈیزائن بنانے کی غرض سے چیف آرکیٹیکٹ تعینات کیا۔ لینن گراڈ یونیورسٹی سے انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے آرکیٹکٹ اس سے قبل بہت ساری اہم عمارتوں کے ڈیزائن بنا چکے تھے۔
ان کے تیار کردہ ڈیزائن کی عمارت ایک ہلال نما سبزہ زار کے وسط میں ستارے کی شکل کے چبوترے پر ایستادہ تھی۔ 99 فٹ بلند اس ڈیزائن کی تعمیر کا تخمینہ 58 لاکھ روپے لگایا گیا تھا

اسی دوران نواب آف کالا باغ مغربی پاکستان کے گورنر بن چکے تھے۔ نصرالدین مرات نے جب یہ ڈیزائن انہیں دکھایا تو گورنر نے لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے مسترد کر دیا۔ آرکیٹیکٹ نے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ ایک اور ڈیزائن گورنر کی خدمت میں پیش کیا، اس بار بھی نتیجہ پہلے والا ہی تھا۔
نواب آف کالا باغ کسی طور مینار کی تعمیر کے لیے مطلوبہ رقم مہیا کرنے کو تیار نہ تھے۔ نصرالدین مرات کو کہا گیا کہ حکومت اس یادگار کے لیے صرف 14 لاکھ روپے خرچ کر سکتی ہے، اس لیے ان کا نیا ڈیزائن اس لاگت کے اندر ہونا چاہیے

نصر الدین مرات کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے والے آرکیٹیکٹ اعجاز حسین کاظمی نے 1997 میں روزنامہ جنگ کو مینار پاکستان کی تعمیر کی تفصیلات کے بارے میں طویل انٹرویو دیا تھا

انہوں نے بتایا کہ وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جنہوں نے چیف آرکیٹیکٹ کی زیر نگرانی 192 فٹ طویل مینار کا ڈیزائن تیار کیا تھا

23 مارچ 1962 کو اس مینار کا ماڈل عوام کے مشاہدے کے لیے اقبال پارک میں رکھوایا گیا۔ اپریل 1962 میں سرکاری منظوری کے بعد مینار تعمیر کی آغاز ہوا۔
تعمیراتی کام کا ٹھیکہ تحریک پاکستان کے کارکن میاں عبدالخالق کی کمپنی کو دیا گیا۔ انہوں نے دوسرے ٹھیکیداروں کی نسبت تین لاکھ روپے کم کا ٹینڈر جمع کروایا تھا۔
اعجاز حسین کاظمی کے بقول ابھی مینار کی تعمیر 50 فٹ تک نہیں پہنچی تھی کہ اس کے لیے مختص رقم ختم ہو گی

سینما کے ٹکٹوں پر ٹیکس

پاکستان میموریل ڈے کمیٹی میں اس دور کے سرکردہ صنعت کار بھی شامل تھے۔ جن میں سر آدم جی، سیٹھ حبیب، سعید سہگل اور مراتب علی شاہ نمایاں نام تھے۔ جب مینار کے لیے مزید رقم کی ضرورت پڑی تو ان متمول لوگوں سے توقع تھی کہ وہ عطیات کے ذریعے اس کمی کو پورا کریں گے مگر ایسا نہ ہو سکا

لاہور کے اہم واقعات کے بارے میں کتاب کے مصنف نعیم مرتضٰی کے مطابق یہ صنعت کار اور کاروباری شخصیات صرف اس شرط پر پیسے دینے کو تیار تھیں کہ ان کا نام مینار پر لکھا جانا چاہیے۔
مینار کی تعمیراتی کام کے نگران نصرالدین مرات نے اس مطالبے سے اختلاف کیا، جس پر بطور احتجاج یہ صاحب ثروت شخصیات مینار کی تعمیر کے لیے مالی تعاون سے پیچھے ہٹ گئیں

حکومت یہ معاملہ مغربی پاکستان کی اسمبلی لے گئی جہاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مینار کی تکمیل کے لیے درکار 65 لاکھ روپے پورے کرنے کے لیے سینما کی ٹکٹ پر 5 پیسے کا ٹیکس لگایا جائے۔
اسی طرح گھڑ دوڑ پہ بھی ٹیکس لگا کر رقم اکٹھی کرنے کا فیصلہ کیا گیا

معمار کا داخلہ بند

کہا جاتا ہے کہ تاج محل تعمیر کرنے والے معماروں کے ہاتھ اس خدشے کے پیش نظر کاٹ دیے گئے تھے کہ وہ اس جیسی دوسری عمارت نہ تعمیر کر سکیں

خدا جانے اس حکایت میں کتنی صداقت ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ مینار پاکستان کے ڈیزائنر اور تعمیراتی کام کی نگرانی کرنے والے نصرالدین مرات خان کا داخلہ مینار پاکستان کے احاطے میں اس وقت بند کر دیا گیا، جب اس کی تعمیر مکمل ہونے والی تھی

اس واقعے کی راوی ان کی بیٹی مرال مرات خان ہیں، جو اب بھی لاہور میں رہائش پذیر ہیں

انہوں نے انجم مرتضیٰ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ان کے والد نے مینار کی تعمیر قومی فریضے کے طور پر کی۔ ان کا آبائی تعلق روس کے علاقے کاکیشیا سے تھا اور 1955 میں انہوں نے پاکستان کی شہریت اختیار کی تھی۔
میرال مرات خان کے بقول ان کے والد نے مینار پاکستان کی تعمیر اور ڈیزائن کی فیس لینے سے انکار کر دیا تھا۔ لاکھوں روپے کی رقم انہوں نے قوم کے لیے عطیہ کر دی تھی

اسی طرح مینار تعمیر کرنے والی کمپنی کے مالک میاں عبدالخالق کو پی ڈبلیو ڈی نے زچ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس سلوک کی سیاسی وجوہات تھیں۔
میاں عبدالخالق نے صدارتی الیکشن میں فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا۔ اس لیے انتقام کے طور پر ان کے بل روک دیے گئے۔ میاں صاحب کو اپنے واجبات کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا

مینار پاکستان کا افتتاح کیوں نہ ہوا؟

مینار کی تعمیر کی تکمیل کا ٹارگٹ 23 مارچ 1965 رکھا گیا تھا۔ پاک بھارت جنگ کی وجہ سے کام کی رفتار سست پڑ گئی۔ جولائی 1967 میں تعمیراتی کام مکمل ہوگیا لیکن تزئین و آرائش پر مزید سوا سال لگ گئے

معروف بیوروکریٹ اور مصنف مختار مسعود اس وقت لاہور کے کمشنر تھے۔ انہوں نے 21 اپریل 1968 کو یوم اقبال کے موقع پر اس کے باقاعدہ افتتاح کا کا پروگرام بنایا۔
اسی دوران روس کے وزیراعظم کے دورہ پاکستان کی وجہ سے افتتاح کا مجوزہ پروگرام ملتوی کرنا پڑ گیا۔ نئی تاریخ 23 مارچ 1969 رکھی گئی

یہ دور ایوب خان کے خلاف تحریک کے عروج کا زمانہ تھا۔ ابتر سیاسی حالات نے ایوب خان کو مینار پاکستان کا افتتاح کرنے کا موقع ہی نہیں دیا

23 مارچ کو ایک چھوٹی سی رسمی تقریب کے بعد مینار کو لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔ جس کے دو دن بعد ایوب خان بھی ایوان اقتدار سے رخصت کر دیے گئے

اعجاز حسین کاظمی کے صاحبزادے انجم کاظمی بتاتے ہیں ’ان کے والد کہا کرتے تھے کہ اس قومی یادگار کا باقاعدہ کوئی افتتاح نہیں ہو سکا تھا۔‘

انہوں نے ضیا الحق اور بے نظیر بھٹو کو اس کے رسمی افتتاح کے لیے خطوط تک لکھے

اعجاز کاظمی اپنے والد کے حوالے سے بتاتے ہیں ’لاہور کے کمشنر مختار مسعود مینار پاکستان پر اپنا نام لکھوانا چاہتے تھے۔ جس کے لیے انہوں نے نصرالدین مرات خان کو مجبور کیا کہ وہ مینار کی تعمیر میں حصہ لینے والوں کے ناموں میں ان کا نام بھی شامل کریں تاہم انکار پر انھیں رسمی افتتاح کی تقریب سے بھی دور رکھا گیا‘

نصر الدین مرات خان کا سنہ 1970 میں انتقال ہو گیا۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں 1982 میں انہیں تمغہِ امتیاز عطا کیا۔ ان کی بیوہ نے بھی ایک انٹرویو میں اپنے شوہر کے ساتھ روا رکھی جانے والی ناقدری کا دکھ بھرے انداز میں ذکر کیا تھا

مینار پاکستان کے ڈیزائنر کی بیٹی کی کوششوں سے 2017 میں والڈ سٹی لاہور کے چیئرمین کامران لاشاری نے نصرالدین مرات خان کا نام آرکیٹیکٹ کے علاوہ بطور انجینیئر بھی مینار پاکستان پر کندہ کروایا

تقسیم ہند کو 75 برس ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی برصغیر میں امن کی تلاش کی گولڈن جوبلی بھی مکمل ہو جائے گی۔
23 برس قبل بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر امن اور دوستی کی بات کی تھی۔ مگر حوادث زمانہ نے دونوں ہمسایوں کے درمیان کشیدگی اور دوری کی دیوار مزید بلند کر دی ہے، جو نہ جانے مزید کتنے برس تک ایسے ہی باقی رہے۔

بشکریہ: اردو نیوز

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close