گوگل کے ’ڈیپ مائنڈ‘ نے صرف ایک تصویر سے تھری ڈی وڈیو بنا ڈالی

ویب ڈیسک

دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کا ’ڈیپ مائنڈ نیورل نیٹ ورک‘ اب ایک ہی تصویر سے تیس سیکنڈ کی وڈیو تیار کرنے کے قابل ہو گیا ہے

اس نئے ٹول کو ٹرانسفریمر کا نام دیا گیا ہے، جسے کام کے لیے صرف ایک تصویر کی ضرورت ہوگی کیوں کہ وہ اس شے کی شناخت کرتا ہے، جو تصویر کے فریم میں آتی ہے

یہ تصویر کے مواد کا تجزیہ کرنے کے بعد پیشگوئی کرتا ہے کہ ’سیاق و سباق والی اس تصاویر‘ کے ساتھ کیا کیا جا سکتا ہے

بڑی مقدار میں تربیتی ڈیٹا کی بنیاد پر نیٹ ورک قیاس کرتا ہے کہ مختلف زاویوں سے چیزیں کیسے دکھائی دیں گی

ڈیپ مائنڈ کی ٹیم نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے ’متعلقہ تشریحات (ٹائم اسٹیمپس، کیمرے کا ویو پوائنٹ وغیرہ) کے ساتھ سیاق و سباق والی تصاویر کے مجموعے اور ایک سوالیہ تشریح کو دیکھتے ہوئے، کام مخصوص تصویر پر تقسیم کی پیش گوئی کرنا ہے۔

’یہ فریم ورک بصری پیشگوئی کے کاموں کو ایک حد کی سپورٹ کرتا ہے، جن میں وڈیو ماڈلنگ، ناول ویو سنتھیسز اور ملٹی ٹاسک ویژن شامل ہیں۔‘

یہ ممکن ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو تھری ڈی ڈجیٹل ماحول بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے، بجائے اس کے روایتی استعمال کے، جو اس وقت وڈیو گیمز اور دیگر آن لائن مقامات پر استعمال ہوتی ہے

یاد رہے کہ گوگل کی مصنوعی ذہانت کی ٹیم نے ماضی میں دوسری حیران کن پیش رفت بھی کی ہے۔ گذشتہ ماہ سسٹم نے سائنس میں جانی جانے والی تقریباً ہر پروٹین کی شکل کا نقشہ بنایا

یہ ایک پیش رفت ہے جو ملیریا کی ویکسین تیار کرنے اور پلاسٹک کی آلودگی سے لڑنے جیسے بڑے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد کرے گی

علاوہ ازیں ٹیم نے جوہری فیوژن ری ایکٹر میں انتہائی گرم پلازمے کو کنٹرول کرنے کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پروگرام بھی تیار کیا ہے، جس کی بدولت لا محدود صاف توانائی کی آمد میں پیشرفت کی راہیں کھل گئی ہیں

مصنوعی ذہانت کے پروگرام کے لیے سب سے بڑا چیلنج انتہائی درجہ حرارت والے پلازما کی تشکیل اور اسے قائم رکھنا ہے۔ ستاروں میں یہ کام کشش ثقل کے ذریعے ہوتا ہے لیکن زمین پر یہ زیادہ مشکل ہے۔ انتہائی گرم مواد کو کنٹرول کرنے کے لیے لیزر یا مقناطیسوں ضرورت ہوتی ہے

ان تمام باتوں کے باوجود ڈیپ مائنڈ کی مصنوعی ذہانت ایک سیکنڈ میں دس ہزار مرتبہ نوے مختلف پیمائشیں اور ان کے مطابق مقناطیسی میدان میں تبدیلی کر کے پلازما کو مسلسل کنٹرول کرنے کے قابل تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close