تاریخی لمحہ: ناسا نے کامیابی کے ساتھ خلائی جہاز ایک سیارچے سے ٹکرا دیا!

ویب ڈیسک

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے خلا میں ایک تجربے کے دوران انتہائی مہارت اور کامیابی کے ساتھ اپنا ایک خلائی جہاز ایک سیارچے سے ٹکرا کر تباہ کر دیا ہے

اس مشن سے ناسا کا مقصد یہ جاننا تھا کہ ایک بڑے حجم کے خلائی پتھر کو زمین سے ٹکرانے سے روکنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟

خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا

جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا، اس کو ’ڈیمورفوس‘ کا نام دیا گیا ہے، جبکہ اس مشن کو ’ڈارٹ مشن‘ کہا جاتا ہے

یہ خبر بھی پڑھیں: وہ جو ہم فلموں میں دیکھتے تھے، سیارچے سے ٹکرانے کے لیے ناسا کے خلائی جہاز کی روانگی

واضح رہے کہ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق اس وقت یہ خلائی پتھر زمین سے ٹکرانے کے راستے یا مدار پر نہیں تھا اور نہ ہی یہ تجربہ اس پتھر کو حادثاتی طور پر یا غلطی سے زمین کی طرف بھیجے گا

یہ تجربہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 4 بجے کر 14 منٹ پر کیا گا، جب ناسا کا خلائی جہاز اس سیارچے سے جا ٹکرایا اور اس سارے عمل کی اس خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گئی، جب تک کہ وہ تباہ نہیں ہو گیا

اس خلائی جہاز نے اس تمام تجربے اور سیارچے سے ٹکرانے کے سفر کی ہر سکینڈ تصاویر زمین پر بھیجی ہیں

خلا میں موجود سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ جیمز ویب سمیت دیگر خلائی دور بینوں کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا گیا ہے

ہم نے ہالی وڈ کی سائنس فکشن فلموں میں کئی مرتبہ ایسے مناظر دیکھے ہیں، جب وہ خلا بازوں اور ایٹمی ہتھیاروں سے ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں۔ لیکن یہ واقعہ اس بات کا مظہر تھا کہ حقیقت میں ایک خطرناک سیارچے سے زمین کو کیسے بچایا جا سکتا ہے

ناسا کا یہ ڈارٹ نامی مشن اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش تھا۔ اس کے خیال میں اس کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ خلائی جہاز کو ہی اس سیارچے کے ساتھ ٹکرا دیا جائے

اس عمل کے پیچھے یہ سوچ یا خیال ہے کہ آپ کو اس سیارچے کی زمین کی جانب بڑھنے کے رخ کو معمولی سا تبدیل کرنے کے لیے اس کی رفتار کو کم کرنا ہو گا تاکہ زمین ان کا ہدف نہ بن سکے۔ بشرطیکہ آپ یہ کارروائی زمین سے کافی فاصلے سے کر لیں

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی اپلائیڈ فزکس لیبارٹری میں موجود کنٹرولرز اس تجربے کے مکمل ہوتے ہی خوشی سے اچھل پڑے کیونکہ اس خلائی جہاز کے ٹکراؤ سے چند لمحے قبل اس کے کیمرے میں ڈیمورفوس سیارچے کے منظر سے بھر دیا تھا

سائنسدانوں کے ابتدائی حساب کتاب کے مطابق اس تجربے میں خلائی جہاز، سیارچے کے مرکز سے صرف سترہ میٹر ہٹ کے ٹکرایا ہے

البتہ ناسا کے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں کچھ وقت لگے گا کہ کیا ان کا تجربہ کامیاب رہا یا نہیں؟ تاہم ناسا میں خلائی سائنس کی ڈائریکٹر لوری گلیز کو یقین ہے کہ کچھ اہم نتائج حاصل ہو گئے ہیں

انہوں نے رپورٹروں کو بتایا ”ہم بنی نوع انسان کے ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں، ایک ایسا دور، جس میں ہم ممکنہ طور پر اپنے آپ کو کسی خطرناک سیارچے کے اثرات سے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کتنی حیرت انگیز بات ہے۔ ہمارے پاس اس سے پہلے کبھی یہ صلاحیت نہیں تھی“

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اپلائیڈ فزکس لیبارٹری میں ہی مشن سسٹم انجینئر ڈاکٹر ایلینا ایڈمز کا کہنا تھا ”ہم زمین کے باسیوں کو سکون کی نیند سونا چاہیے کیونکہ انہیں علم ہونا چاہیے کہ اب ان کے پاس خلائی حملے سے دفاعی نظام موجود ہے“

یہ مشن اس نظریہ کا تجربہ کرنا تھا کہ 160 میٹر چوڑے ڈیمورفوس نامی سیارچے سے ایک خلائی جہاز تقریباً بیس ہزار سے بائیس ہزار کلومیٹر کی رفتار سے جا ٹکرائے

یہ توقع ہے کہ اس تجربے کے بعد یہ سیارچہ اپنے قریبی موجود اپنے سے کافی بڑے ڈیڈیموس نامی سیارچے کے مدار کی جانب روزانہ چند منٹ بڑھنا شروع ہو جانا چاہیے

ناسا نے وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی خلائی جہاز 570 کلوگرام وزنی سیارچے سے ٹکرائے گا، اس تمام تجربے کی شاندار تصاویر حاصل کی جائیں گی

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اپلائیڈ فزکس لیبارٹری کی ڈاکٹر نینسی چابوٹ نے اس مشن کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ”ڈارٹ مشن خلا میں پہلا دفاعی تجربہ ہے، جس میں ایک خلائی جہاز کو سیارچے سے ٹکرانے کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تاکہ خلا میں اس سیارچے کی سمت کو تھوڑا سا تبدیل کیا جا سکے“

زمین پر موجود تقریباً دو درجن سے زیادہ خلائی دوربینوں نے اس تجربے کا مشاہدہ کیا اور اب وہ باریکی سے ڈیمورفوس اور ڈیڈیموس نامی سیارچے کے مداروں کے درمیان فاصلے کا مشاہدہ کریں گی

انہوں نے بتایا ”یہ ایک ایسا عمل ہے کہ ضرورت پڑنے پر آپ برسوں پہلے ہی کسی سیارچے کو اس کے مدار سے تھوڑا سا ہٹانے کے لیے ایک جھٹکا دیں تاکہ مستقبل میں زمین اور وہ سیارچہ آپس میں ٹکرانے سے بچ سکیں“

اس ڈارٹ مشن سے قبل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ خلائی جہاز کے لیے ڈیمورفوس نامی اس سیارچے کو نشانے بنانا کافی مشکل ہوگا، کیونکہ ناسا کا خلائی جہاز تقریباً آخری 50 منٹ میں اس سیارچے کے قریب موجود 780 میٹر چوڑے ڈیڈیموس سیارچے اور ڈیمورفوس میں تفریق کر پائے گا اور اپنے اصل ہدف کو نشانہ بنا پائے گا

مشن کے بعد ان کا کہنا ہے کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا اور ڈارٹ مشن نے ڈیمورفوس نامی سیارچے اور ڈیڈیموس سیارچے میں تفریق کر کے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا

خلائی جہاز میں موجود نیویگیشن سوفٹ ویئر کو اس طرح سے پروگرام یا تیار کیا گیا کہ خلائی جہاز سفر کرتے ہوئے سیدھا اپنے ہدف کو ہی نشانہ بنائے

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اپلائیڈ فزکس لیبارٹری میں اس مشن کے سربراہ ڈاکٹر اینڈی ریوکن نے بتایا ”بالکل ایسا ہی ہوا، جیسا یہ پروگرام تیار کیا گیا تھا، یہ ایسا ہی ہے کہ جو ڈبے پر لکھا تھا اندر بھی وہی ملا“

ناسا میں اس ڈارٹ مشن کے سائنسدان ڈاکٹر ٹوم اسٹاٹلر کا کہنا ہے ”روشنی کی رفتار جتنی رفتار اور فاصلے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ کوئی پائلٹ زمین پر بیٹھ کر اس خلائی جہاز کو کنٹرول کر سکے یا چلا سکے“

انہوں نے مزید کہا ”ہمیں ایک ایسا سوفٹ ویئر تیار کرنا پڑا ہے، جو اس خلائی جہاز سے لی گئی تصاویر کو فوری طور پر جانچ سکے، یہ تعین کر سکے کہ اصل ہدف کون سا ہے اور اپنے ہدف کے تعاقب میں سیدھا راستہ لے سکے“

یاد رہے کہ قبل ازیں کہا گیا تھا کہ اس مشن کے دوران جب خلائی جہاز اس سیارچے کی جانب ‘ٹکراؤ’ کے لیے بڑھ رہا ہو گا تو اس کارروائی اور منظر کی ہر سکینڈ ایک تصویر زمین پر بھیجے گا۔ اور ان تصاویر میں پہلے ایک چمکتا نقطہ دکھائے دینے والا سیارچہ ایک دم بڑھ کر پورے منظر پر چھا جائے گا اس کے بعد تصاویر آنے کا سلسلہ ایک دم منقطع ہو جائے گا کیونکہ اس وقت یہ خلائی جہاز اس سیارچے سے ٹکرا کر تباہ ہو چکا ہوگا

لیکن اس تمام تر مشن کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس ڈارٹ مشن میں شامل خلائی جہاز نے چند روز پہلے اٹلی کا تیارکردہ ایک 14 کلو وزنی سیٹلائٹ بھی خلا میں چھوڑا تھا۔ جس کا مقصد ہی یہ پتا لگانا تھا کہ جب ڈارٹ سیارچے سے ٹکرا جائے گا تو اس کے بعد کیا ہوگا۔ یہ سیٹلائٹ اس تمام عمل کو ریکارڈ کرے گا

اس سیٹلائٹ کو اس مشن کے دوران تقریباً پچاس کلومیٹر دور سے اس تجربے کی تصاویر کھینچنی تھیں اور اگلے چند دنوں کے دوران اس کی تصاویر زمین تک واپس پہنچانی تھیں

اس سیٹلائٹ کو لیسیا کیوب کا نام دیا گیا ہے۔ اطالوی خلائی ایجنسی کے سیمون پیروٹا کا کہنا تھا ”یہ ڈارٹ کے سیارچے سے ٹکرانے کے تقریباً تین منٹ بعد اس مقام سے گزرے گا“

انہوں نے کہا ”تین منٹ کا وقت اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس وقت تک خلائی جہاز کے ٹکرانے سے سیارچے کو پیش آنے والے اثرات مکمل ہو جائیں گے اور اس ٹکراؤ سے اس کے مدار میں ہونی والی تبدیلی کو وقت مل سکے گا۔ کیونکہ لیسیا کیوب سیٹلائٹ کا دوسرا بڑا اہم کام یہ ہے کہ وہ اس بات کا مشاہدہ کرے کے خلائی جہاز کے سیارچے سے ٹکرانے کے بعد اس کے مدار میں کتنی تبدیلی آئی اور وہ کس حد تک اپنے مدار سے سرکا ہے“

واضح رہے کہ خلا کے جائزوں اور شماریاتی اعداو و شمار کے مطابق ہم نے خلا میں 95 فیصد ایسے دیوہیکل سیارچوں کی نشاندہی کی ہے جو اگر زمین کے ساتھ ٹکرا جائیں تو زمین پر انسانی زندگی مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں (مگر وہ ایسا نہیں کر سکتے، ان کے مدار کا حساب لگایا گیا ہے وہ زمین کے قریب نہیں آ سکتے۔)

لیکن ان کے باوجود خلا میں ایسے بہت سے چھوٹے سیارچے موجود ہیں، جو زمین سے ٹکرانے کے بعد تباہی مچا سکتے ہیں۔ چاہے وہ تباہی علاقائی یا کسی ایک مخصوص شہر کی سطح پر ہی کیوں نہ ہو

سائسندانوں کے مطابق اگر ڈیمورفوس جیسا سیارچہ زمین سے ٹکرا جائے (جو کہ نہیں ٹکرائے گا) تو یہ ایک کلومیٹر چوڑا اور سینکڑوں میٹر گہرا گڑھا بنا سکتا ہے اور اس ٹکراؤ کے نتیجہ میں آنے والے جھٹکے سے اس کے قریبی علاقوں پر شدید اثر پڑ سکتا ہے

آج سے چار برس بعد یورپی خلائی ایجنسی کے پاس تین خلائی جہاز ہونگے، جن کو مشترکہ طور پر ہیرا مشن کا نام دیا جائے گا اور وہ ڈیٹیموس اور ڈیمورفوس پر اس تجربے کے بعد کے حالات پر تحقیق کریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close