موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہجرت، آج کی دنیا کی ایک حقیقت

ویب ڈیسک

جنوبی ایشیا میں کئی ممالک و خطے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں ہمالیہ کے خطے سے نقل مکانی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے اور کئی خاندان بھارت میں بنگلور کی جانب ہجرت کر رہے ہیں

یہ جولائی سن 2019ع کا بات ہے، جب دریائے برہم پترا بھارتی ریاست آسام کے ایک علاقے میں سب کچھ بہا کر لے گیا تھا

اس علاقے سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ ظریفہ اسلام کو بس اتنا ہی یاد ہے کہ ایک دن دریا بہت بپھرا ہوا تھا اور ان کا گھر اور کھیت بہا کر لے گیا تھا

ظریفہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بھارتی ریاست آسام کے ضلع درانگ میں رہتی تھی۔ ان کا گاؤں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کی آغوش میں دریا کنارے آباد تھا۔ شمال مشرقی بھارت کے دیگر بہت سے حصوں کی طرح یہ علاقہ بھی اکثر شدید بارشوں اور سیلاب کی زد میں رہتا تھا

ظریفہ کے والد زید الاسلام اور والدہ پنجیرہ خاتون ویسے تو قدرتی آفات کے خطرے سے آگاہ تھے، لیکن انہیں بھی شاید اس قدر تباہی کی امید نہیں تھی

لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ انہوں نے محسوس کیا کہ کچھ بدل گیا ہے۔ بارشیں کافی بے ترتیب آنے لگی تھیں، سیلاب زیادہ کثرت سے اور غیر متوقع طور پر آنا شروع ہو گئے تھے

ایک اندازے کے مطابق ریاست آسام میں 2.6 ملین لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے اور زید الاسلام کا خاندان بھی ان میں سے ایک تھا اور جنہوں نے اَسی لاکھ سے زیادہ آبادی و
پر مشتمل شہر بنگلور جانے کا فیصلہ کیا۔ اس شہر کو بھارت کی سیلیکون ویلی کے نام سے جانا جاتا ہے

حالات نے ظریفہ اور اس کے بارہ سالہ بھائی راجو کو بالآخر دو ہزار میل دور بنگلور میں ایک اسکول تک پہنچا دیا۔ بھارت کے اس شہر میں لوگ کنڑ زبان بولتے ہیں، وہ زبان جو بچوں کی مقامی بنگلہ زبان سے بہت مختلف ہے

یہاں آنے کے بعد ظریفہ اور اس کے بھائی راجو کے لیے ابتدائی دن بہت مشکل تھے۔ ریاست کے زیر انتظام اسکولوں میں کنڑ زبان میں پڑھایا جاتا تھا۔ ابتدائی دنوں میں تو راجو ایک لفظ بھی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اس نے بہرحال حالات کا سامنا کرتے ہوئے تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا

آسام میں اکثر اوقات پانی میں ڈوبی سڑکوں نے راجو کو کئی کئی ماہ تک تعلیم سے دور رکھا۔ اس کا کہنا ہے ”شروع میں مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر اساتذہ نے مجھے آہستہ آہستہ چیزیں سمجھائیں اور میں نے سیکھنا شروع کر دیا‘‘

یہ خاندان نشیبی علاقے ضلع دارنگ سے نقل مکانی کر کے بنگلور پہنچا تھا۔ شدید بارشیں، سیلاب اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس ہجرت کی وجہ بنا۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے اس حصے میں مون سون کی بارشوں کو بے ترتیب بنا دیا ہے

بھارتی انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی کے ریسرچ ڈائریکٹر انجل پرکاش کہتے ہیں ”سیلاب اور خشک سالی اکثر ایک ساتھ آتے ہیں۔ ان کے بقول ہمالیہ کے خطے میں پانی کے قدرتی نظام، جن پر لوگوں کا ہزاروں سالوں سے انحصار تھا، اب ٹوٹ چکے ہیں۔ پچھلی دہائی میں موسمیاتی وجوہات کی بنا پر نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد بڑھی ہے۔ پھیلتے ہوئے سمندروں، خشک سالی اور ناقابل برداشت گرمی کی لہروں کی وجہ سے اگلے تیس سالوں میں دنیا بھر میں 143 ملین افراد ممکنہ طور پر ہجرت پر مجبور ہو سکتے ہیں“

تخمینہ ہے کہ بھارت میں تقریباً 139 ملین مہاجرین ہیں، گو یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نقل مکانی کر کے کہیں اور آباد ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لیکن اندازہ ہے کہ سن 2050ع تک بنگلورو جیسے شہر ہجرت کرنے والوں کی ترجیحی منزل بن چکے ہوں گے

ظریفہ اور راجو اکیلے ایسے بچے نہیں، جنہیں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نقل مکانی کر کے کہیں اور آباد ہونا پڑا بلکہ جنوبی ایشیا میں کئی مقامات پر ایسی ہی کہانیاں عام ہیں

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہجرت کا مسئلہ

موسمیاتی تبدیلیاں انسان کی زندگی پر بہت تیزی سے اثر انداز ہو رہی ہیں، جیسا کہ طویل مدتی اور مستقل ہجرت بنیادی طور پر خشک سالی اور سیلاب کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہے، لیکن اگر ہم پچھلی دہائی کے اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ موسم کی انتہائی سختی، کم ہوتی ہوئی زراعت، سمندری کٹاؤ، خشک سالی اور سیلاب کے باعث پاکستان میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔ گویا سیلاب، خشک سالی، بارش میں کمی اور گرمی کی لہر جیسی آفات کے سلسلے میں گذشتہ دہائی کو پاکستان کے لئے بدترین دور کہا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ صرف 2010ع کے سیلاب میں تقریباً بیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے تھے- ان بے گھر ہونے والے افراد نے دیہی علاقوں سے بڑے شہروں میں نقل مکانی کو ترجیح دی اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ان میں سے ستر فیصد گھرانے اپنے آبائی علاقوں میں واپس نہیں گئے اور مستقل طور پر بڑے شہروں میں آباد ہوگئے کیونکہ ان کے آبائی علاقوں میں ان کے گھر اور کھیت مکمل تباہی کا شکار ہو چکے تھے۔ حالیہ سیلاب کے بعد یہ صورتحال مزید گھمبیر ہونے کا خدشہ ہے

عالمی ماحولیاتی خطرہ اشاریہ کےمطابق 2020ع میں موسمیاتی تبدیلیوں کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان کو پانچویں نمبر پر رکھا گیا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خطرے کے اعتبار سے ہم پہلے نمبر پر ہیں- اعداد و شمار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حکومت وقت، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے درپیش چیلنجوں اور خطرات سے نمٹنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی ہے، جس کی بدولت دیہی آبادیوں اور شہری پسماندہ طبقات کے لئے خطرہ بڑھتا جارہا ہے اور وہ مختلف طرح کے خدشات سے دوچار ہیں

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی بدولت خاندانوں کی نقل مکانی خطرناک صورتحال اختیار کرتی نظر آ رہی ہے، جس کے اثرات چاروں صوبوں یعنی سندھ، پنجاب، خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے خطے میں دیکھے جاسکتے ہیں

ماہرین کے مطابق ”پاکستان کی تقریباً پچاس فی صد آبادی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے غیر محفوظ ہوتی جارہی ہے“ جس سے مستقبل قریب میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی لہر دوڑ سکتی ہے

موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے وہ علاقے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں جن کا انحصار مکمل طور پر زراعت اور گلہ بانی پر ہے، کیونکہ یہ دونوں پیشے براہ راست موسم پر منحصر ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ گرمیوں کے موسم کا طویل دورانیہ، خشک سالی، بارشوں میں کمی، موسم کی سختی اور گرمی کی شدید لہر ایک عام معمول بنتا جارہا ہے، جس سے مقامی معیشت اور آبادیات کو نقصان پہنچ رہا ہے

سندھ کی مقامی آبادی کی نقل مکانی کی ایک بڑی وجہ دریائے سندھ کا انحطاط پذیر ڈیلٹا یا دوسرے الفاظ میں سمندری کٹاؤ ہے

موسمیاتی تبدیلیاں اور بدترین حکمت عملی پاکستان کےدریائے سندھ کے ڈیلٹا پر تباہی مچا رہی ہیں۔ ہمالیہ سے شروع ہو کر بحیرہ عرب کی طرف بہتا ہوا دریائے سندھ کاشتکاری اور ماہی گیری سے تعلق رکھنے والے طبقات کے لیے زندگی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اب یہ ڈیلٹا سست موت سے دوچار ہے، کیونکہ آب پاشی اور بجلی کے لئے ڈیموں کی تعمیر سے پانی کی فراہمی کا بہت بڑا حصہ ختم ہوگیا ہے۔جس کے نتیجے میں اس کی 17 بڑی کھاڑیاں خشک ہو رہی ہیں اور سمندر سے نمکین پانی مستقل طور پر بیسن میں داخل ہو رہا ہے

اس وقت حالت یہ ہے کہ دریا ئے سندھ کے آخری حصے میں پانی کی مقدار اتنی کم ہو چکی ہے کہ اُلٹا سمندر کا پانی واپس دریائے سندھ میں آنا شروع ہو گیا، جس کے باعث ماضی کے زرخیز علاقے کی زراعت مکمل طور پر تباہ ہو گئی کیونکہ زمین میں نمک کی زیادتی کی وجہ سے نہ تو پانی پینے کے قابل رہتا ہے اور نہ ہی زمین کاشت کے قابل نہیں رہ پاتی ہے۔ زمینی پانی کی سطح بھی کہیں نیچے جا چکی ہے اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ یہ وہ صورت حال ہے، جو ایک بڑی موسمیاتی ہجرت کی وجہ بن رہی ہے، جبکہ مستقبل میں اس کے مزید منفی اثرات سامنے آنے کا خدشہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close