خیمے میں رہنے پر مجبور پشتو لوک گلوکارہ زر سانگہ کے لیے عالمی ایوارڈ

ویب ڈیسک

پشتو لوک موسیقی کی ملکہ کہلانے والی منفرد آواز کی مالک زر سانگہ کو نہیں معلوم کہ وہ آغا خان موسیقی ایوارڈ کی حقدار ٹھہری ہیں

اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں سڑک کنارے رہنے والی زر سانگہ کو جب بتایا گیا کہ انہیں آغا خان میوزک ایوارڈ دیا جا رہا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک کے گلوکاروں میں سے انہیں منتخب کیا گیا ہے تو انہوں نے بڑی سادگی سے کہا ”نہیں مجھے تو کچھ معلوم نہیں ہے“

ان کا کہنا تھا ”میں تو یہاں خیمے میں رہ رہی ہوں، دنیا میں کیا ہو رہا ہے مجھے کیسے معلوم ہوگا“

پاکستان کی نامور پشتو گلوکارہ زرسانگہ نے نے بتایا کہ ان کی عمر لگ بھگ 77 برس ہو گئی ہے اور اب تک وہ اپنے لیے ایک چھت حاصل نہیں کر پائیں، اس لیے مجبوراً اس خیمے میں رہتی ہیں

ان کے بیٹے ہجران کے مطابق: جمعے کو دوپہر کے وقت ان سے رابطہ ہوا ہے اور انہیں اس ایوارڈ کے بارے میں بتایا گیا ہے لیکن اس بارے میں انھیں مزید تفصیل معلوم نہیں ہے

زر سانگہ اپنے فنِ گلوکاری کا مظاہرہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں بھی کر چکی ہیں۔ بنیادی طور پر خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھنے والی زر سانگہ کا نام زلوبئی ہے۔ وہ لکی مروت اور نورنگ کے قریب ایک دیہات میں 1946ع میں پیدا ہوئی تھیں

زرسانگہ کے مطابق: وہ جب بیس سال کی تھیں تو ان کے علاقے میں کچھ گلوکار رہتے تھے اور ان کا ان کے گھر آنا جانا تھا، وہاں انہیں شوق پیدا ہوا اور پھر موسیقی میں دل لگ گیا

وہ بتاتی ہیں ”یہ بات میرے والد کو پسند نہیں تھی اور اس پر انہوں نے بہت برا منایا لیکن مجھے موسیقی کا شوق تھا اور اپنا شوق پورا کرنا چاہتی تھی“

اس وقت ان کے ساتھ موسیقی میں شیر افگن، دلفراز اور رشید اللہ تھے، جنہوں نے گلنار بیگم سے ان کی ملاقات کروائی، جو اپنے وقت کی ایک مقبول گلوکارہ تھیں

زرسانگہ کہتی ہیں ”گلنار بیگم نے میری آواز سنی تو بہت تعریف کی اور پھر مجھے ریڈیو پاکستان میں گانے کا موقع ملا اور یوں میں اس میدان میں داخل ہو گئی“

انہوں نے بتایا کہ وہ 1965 سے گانے گا رہی ہیں اور اب تک تو انہیں یاد نہیں ہے کہ وہ کتنے گانے گا چکی ہیں لیکن دنیا کے مختلف ممالک میں انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے

اس سال ’آغا خان میوزک ایوارڈ‘ کے لیے پاکستان سے زرسانگہ اور سائیں ظہور کے علاوہ افغانستان سے داؤد خان سادوزئی، بھارت سے ذاکر حسین اور برطانیہ، ایران، انڈونیشیا، تنزانیہ اور دیگر ممالک سے موسیقی کے میدان میں اپنے نام روشن کرنے والے کل گیارہ فنکار منتخب ہوئے ہیں

اس ایوارڈ کا آغاز 2018ع میں کیا گیا تھا اور یہ ہر تین سال بعد دیا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کی مجموعی انعامی رقم پانچ لاکھ امریکی ڈالر ہے، جو کامیاب فنکاروں میں تقسیم کی جائے گی

اس ایوارڈ کی تقریب اس ماہ کے آخر میں مسقط عمان میں منعقد ہو گی۔ ایوارڈ جیتنے والے فنکار اپنی اپنی فیلڈ میں مہارت رکھتے ہیں

بنیادی طور پر خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھنے والی زرسانگہ کا کہنا ہے ”اس عمر میں میری خواہش ہے کہ میرا اپنا مکان ہو، جس میں مَیں رہ سکوں۔“

مقامی لوگوں کے مطابق کچھ عرصہ پہلے زرسانگہ کو ایک مکان کسی ادارے کی جانب سے دیا گیا تھا لیکن پھر وہ مکان واپس لے لیا گیا۔ ان دنوں وہ کوہاٹ میں انڈس ہائی وے پر سڑک کے کنارے خیمے میں رہائش پذیر ہیں

زر سانگہ کے کل چھ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے اپنے ہی قبیلے سے تعلق رکھنے والے لعل جان سے شادی کی تھی، جبکہ شوہر کے کزن کے ساتھ متعدد گانے بھی گائے ہیں

ان کے تین بیٹے بہوئیں اور پوتے بھی ان کے ساتھ ہیں، جبکہ تین بیٹیوں کی وہ شادی کروا چکی ہیں اور وہ اپنے اپنے گھروں میں رہتی ہیں۔ ان کے دو بیٹے طبلہ نواز اور ایک بیٹا ہارمونیم پلیئر ہے

ان کے بیٹے ہجران نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں اور اکثر موسیقی کی تقریبات میں وہ والدہ کے ہمراہ طبلہ اور ہارمونیم پر ہوتے ہیں جبکہ ان کی ٹیم میں دیگر ساتھی بھی شامل ہیں

کہا جاتا ہے کہ 2017ع میں جب وہ نوشہرہ کے قریب رہائش پذیر تھیں۔ ان دنوں ان کے گھر میں چوری ہوئی تھی، جہاں ان کی لگ بھگ ساری جمع پونجی چور لے گئے تھے

زر سانگہ نے بتایا کہ ماضی میں انہیں دیگر فنکاروں کے ساتھ وظیفہ یا ماہانہ معاوضہ ملتا تھا لیکن نو برسوں سے ان کا وظیفہ بند ہے جبکہ ملکی حالات کی وجہ سے اب لوگ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں بھی گلوکاروں اور فنکاروں کو نہیں بلاتے

وہ بتاتی ہیں کہ کورونا کی وبا کے دوران انہوں نے بہت برا وقت دیکھا، جب ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ ملک میں شدت پسندی کی وجہ سے انھوں نے ماضی میں اپنی موسیقی کی تقریبات ختم کر دی تھیں لیکن پھر حالات بہتر ہونے کے بعد انھوں نے اپنی موسیقی کی طرف توجہ دینا شروع کر دی تھی

ماضی کو یاد کرتے ہوئے زر سانگہ کہتی ہیں ”ماضی میں تو موسیقی کی محفلیں ہوا کرتی تھیں اور ان میں مرد اور عورتیں بھی موسیقی سننے آیا کرتے تھے ، لوگ چارپائیوں پر بیٹھے ہوتے تھے۔۔ ایک طرف مرد اور ایک جانب خواتین ہوتی تھیں، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close