چین کا چینگ-5 مشن کامیابی سے چاند کی سطح پر اتر گیا

چین نے چاند کی سطح پر تحقیق کے ایک اور خلائی مشن میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ چین کی جانب سے بھیجا گیا روبوٹک خلائی جہاز "چینگ-5” نے کامیابی سے چاند کی سطح پر لینڈنگ کر لی ہے

یاد رہے کہ یہ مشن چاند کی زمین سے مٹی اور پتھروں کے نمونے اکٹھے کر کے واپس زمین پر لانے کے مقصد کے تحت روانہ کیا گیا ہے

توقع کی جا رہی ہے کہ اس مشن کے دوران کیمرہ، سپیکٹرو میٹر، ریڈار وغیرہ جیسے آلات سے لیس یہ چاند گاڑی اگلے چند روز چاند کی سطح پر رہے گی اور علاقے کی ارضیاتی خصوصیات جانچنے کے لیے مواد اکٹھا کرے گی، یہ چاند گاڑی چاند کی سطح سے تقریباً دو کلو مٹی اکٹھا کر کے چاند کے مدار میں گردش کرتے روبوٹک خلائی جہاز کے دوسرے حصے کے ذریعے زمین کی طرف بھجوائے گی

یاد رہے کہ اس سے قبل 44 برس قبل یہ عمل کیا گیا تھا، جب سویت یونین کے لونا-24 مشن کے ذریعے چاند کی سطح سے صرف 200 گرام مٹی معائنے کے لیے اکٹھی کی گئی تھی، چند ہفتے قبل اس مشن کے لانچ کے برعکس اس مرتبہ مشن کی چاند کی سطح ہر لینڈنگ کو چین کے ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھایا گیا۔ جیسے ہی چاند کی سطح پر روبوٹک خلائی جہاز کے اترنے کی تصدیق ہوئی فوری طور پر اس خبر کو ٹی وی چینلز پر نشر کیا گیا

چاند کی سطح پر لینڈنگ کی تصاویر کو فوراً جاری کیا گیا جس میں چاند گاڑی کی ایک ٹانگ چاند کی گرد آلود سطح پر سایہ ڈال رہی ہے

امریکا کے خلائی ادارے ناسا کے اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر تھومس زربوچن نے اس مشن کی کامیابی پر چین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ عالمی تحقیقاتی برادری کو زمین پر بھیجے جانے والے نمونے کو بہتر طور پر جانچنے کا موقع ملے گا

اپنی ٹویٹ میں انہوں نے لکھا ہے کہ جب چاند سے نمونے اکٹھے کر کے زمین پر بھجوائے جائیں گے، ہم امید کرتے ہیں کہ سب اس اہم مواد کا جائزہ لینے سے مستفید ہوں گے جو بین الاقوامی سائنس برادری کو ترقی کرنے میں مدد دے گا

چین کا 8.2 ٹن وزنی چینگ-5 خلائی جہاز جنوبی چین کے وینچنگ خلائی اڈے سے 24 نومبر کو خلا میں چھوڑا گیا تھا۔ یہ مشن اتوار کو چاند پر پہنچ گیا تھا اور پھر اس نے دو ٹکڑوں میں بٹنے سے قبل چاند کے مدار میں گھومنا شروع کر دیا تھا،

اس خلائی جہاز کے دو حصے ہیں، ایک حصہ چاند کے مدار میں گردش کرتا رہے گا جب کہ دوسرا حصہ جس میں چاند گاڑی موجود تھی اسے چاند کی سطح پر اتارنے کے لیے تیار کیا گیا

چین کی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ چاند گاڑی چین کے مقامی وقت کے مطابق رات 11:11 منٹ پر چاند کی سطح پر اتری ہے

چین کے چینگ-5 مشن سے قبل بھی دو مشن کامیاب ہو چکے ہیں، جن میں چینگ-3 مشن سنہ 2013ع میں اور گذشتہ برس چینگ-4 کامیابی سے چاند کی سطح پر اتر چکے ہیں

اس سے قبل امریکہ کے اپولو خلا بازوں اور سویت یونین کے لونا پروگرام کے ذریعے چاند کی سطح سے تقریباً چار سو کلوگرام تک کے پتھر اور مٹی اکٹھے کیے گئے تھے۔ لیکن یہ تمام نمونے بہت پرانے تھے، ان میں سے چند کی عمر تین بلین سال سے زیادہ تھی. جب کہ چاند کی سطح مونز رمکر میں موجود مواد کی عمر 1.2 یا 1.3 بلین برس سے زیادہ نہیں ہوگی، اور اس سے چاند کی ارضیات کی تاریخ کے متعلق مزید جاننے میں مدد ملے گی۔

یہ نمونے سائنسدانوں کو نظام شمسی کے سیاروں کی سطح کی عمر کو زیادہ واضح طور پر جانچنے کی بھی سہولت فراہم کریں گے

چین سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق چاند کی سطح سے نمونے حاصل کرنے کی کوشش کچھ دن سے زیادہ جاری نہیں رہ سکتی۔ کسی بھی طرح کے حاصل کردہ مواد کو چاند گاڑی کے ذریعے مدار میں گردش کرتے حصے میں منتقل کیا جائے گا اور پھر اسے واپسی کے ماڈیول میں رکھا جائے گا۔

روبوٹک خلائی جہاز کا یہ حصہ پھر اس موڈیول کو زمین کے مدار میں بھیجے گا اور زمین کی خلا میں داخل ہونے کے بعد یہ خلائی جہاز منگولیا کے خودمختار حصے پر لینڈنگ کرے گا، یہ وہی مقام ہے جہاں چین کے خلا باز بھی زمین پر واپس آئے تھے

یورپیئن سائنس ایجنسی کے روبوٹک مہمات کے سنئیر اہلکار ڈاکٹر جیمز نے چین کے چینگ-5 مشن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چینگ-5 ایک بہت پیچیدہ مشن ہے

ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں جو وہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ بہت متاثر کن ہے۔ اور جو میں سمجھتا ہوں کہ بہت دلچسپ ہے وہ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ بہت ترتیب سے ہے۔ پہلے چینگ مشن سے لے کر حالیہ مشن تک مرحلہ وار اس کھوج کی صلاحیت بڑھائی گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close