مردم شماری کی ٹیموں کو شہریوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟

ویب ڈیسک

پاکستان ادارہِ شماریات کے شمار کنندگان کو گھر گھر جا کر مردم شماری کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے کام کی راہ میں کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ عملے کی طرف سے عام شکایت یہ سامنے آئی ہے کہ لوگ ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے

عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اپنے مسائل ڈان اخبار کے ساتھ شیئر کیے

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مردم شماری کی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا ”ٹھیک ہے کہ وہ ذاتی معلومات مانگنے والے اجنبی پر بھروسہ نہیں کرتے لیکن وہ ہماری طرف سے ہماری شناخت کے ثبوت پیش کرنے کے بعد بھی تعاون نہیں کرتے“

انہوں نے مزید کہا ”وہ کہتے ہیں کہ وہ واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر پیغامات دیکھتے ہیں جو انہیں کسی کے ساتھ ذاتی معلومات شیئر کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہیں“

عملے کے رکن نے بتایا ”ہم سب اساتذہ ہیں، سرکاری ملازم، کیا ہمارا رویہ ہمارا برتاؤ انہیں یہ نہیں بتاتا کہ ہم لٹیرے نہیں ہیں؟“

مردم شماری کی ایک اور خاتون اہلکار نے انہیں فراہم کردہ ٹیبلیٹ کے بارے میں شکایت کرتے ہوئے بتایا ”ٹیبلیٹس یا تو ناقص ہیں یا کسی ناقص نظام پر چل رہے ہیں، سسٹم ہر آدھے گھنٹے بعد کریش ہو جاتا ہے، پھر ہمیں دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ہمیں اپارٹمنٹ کی عمارت میں اوپر جانے کی ضرورت ہے، تو بھی سسٹم پہلی منزل سے ہی کریش ہو جاتا ہے“

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں عمارتوں کے مکینوں سے درخواست کرنی پڑی کہ وہ اپنا ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے مہربانی کر کے نیچے آئیں اور یہ آسان نہیں ہے، کیونکہ لوگ ویسے بھی بہت شکی ہیں اور پھر انہیں ہم سے ملنے کے لیے نیچے آنے کے لیے کہنا ناممکن کے قریب ہے

خاتون رکن نے بتایا ”ایسا نہیں ہے کہ صرف میرا ٹیبلیٹ ہی خراب ہے، دیگر ساتھیوں کو بھی سسٹم کے ساتھ اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے“

ایک اور اہلکار نے کہا کہ اسے خود یقین نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے، ان کا کہنا تھا ”میں ان لوگوں پر الزام نہیں لگا سکتا جن کے ساتھ اعتماد کے مسائل ہیں، ہمیں تجارتی علاقوں اور شاپنگ مالز کے دکانداروں سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کو بھی کہا جا رہا ہے، پھر جب وہ اس خط کو دیکھتے ہیں، جو ہم لے کر جا رہے ہیں تو وہ اس کے مواد کو دیکھنے کے فوراً بعد اعتراض کرتے ہیں“

مردم شماری ٹیم کے رکن نے مزید کہا ”مجھے بتایا گیا کہ چونکہ ان کی دکانیں اور کاروبار رجسٹرڈ ہیں اور وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کے پاس پہلے سے موجود ہیں“

ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ ہمارے سی این آئی سی نمبر نہ مانگنے یا نوٹ نہ کرنے پر بھی قدرے حیران ہیں، اس کے بجائے ہمیں ان کے فون نمبرز کا ریکارڈ بنانے کو کہا گیا ہے

ان کے مطابق لوگ پوچھتے ہیں کہ ’یہ کس قسم کی مردم شماری ہے؟‘ اور ہم بھی دل میں اپنے آپ سے یہی سوال پوچھ رہے ہیں’

شماریاتی ٹیم کے ایک اور رکن نے کہا کہ ہم سب حکومت کے لیے کام کرتے ہیں اور ہم اپنے لیے غیر ضروری پریشانی نہیں چاہتے

ان کا کہنا تھا ”ہم نے محسوس کیا کہ یہ بتانا ضروری ہے کہ یہاں مردم شماری کے انعقاد میں ہمارے خیال میں کیا عجیب یا غلط ہے کیونکہ مناسب مردم شماری اس سرزمین کے تمام ٹیکس دہندگان اور معزز شہریوں کی ضرورت ہے.“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close