کیا محمود خان اچکزئی کی جماعت تقسیم ہونے جا رہی ہے؟

زین الدین احمد

کیا محمود خان اچکزئی کی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہونے جارہی ہے؟ کیا محمود خان اچکزئی نے طالبان اور افغانستان کے حوالے سے اپنا دیرینہ بیانیہ اور پارٹی کی چار دہائی پرانی پالیسی تبدیل کرلی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں، جو آج کل پشتون قوم پرست سیاست میں دلچسپی لینے والے حلقوں میں زیر بحث ہیں

ان سوالات کو پارٹی کے اندر موجود اختلافات اور تنظیمی بحران میں شدت کے بعد تقویت ملی ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میں اختلافات تو طویل عرصے سے تھے، لیکن حالیہ دنوں میں ان میں شدت اس وقت آئی جب محمود خان اچکزئی نے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل سمیت تین مرکزی سیکریٹریوں اور ایسے عہدے داروں کو بھی پارٹی سے نکال دیا، جو چالیس سال سے بھی زائد عرصہ سے ان کی جماعت سے وابستہ رہے اور ان کے والد کے بھی دیرینہ ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے

فارغ کیے گئے افراد میں پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل مختیار خان یوسفزئی، مرکزی سیکریٹری اطلاعات سابق و سینیٹر رضا محمد رضا، مرکزی سیکریٹری و سابق صوبائی وزیر عبید اللہ بابت، پارٹی کے خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر خورشید کاکا جی، سینیئر نائب صدر حیدر خان مومند، صوبائی ڈپٹی سیکریٹری عمر علی یوسفزئی اور ڈپٹی سیکریٹری اشرف علی ہوتی اوراحمد شاہ خان شامل ہیں

محمود خان اچکزئی نے منحرف اراکین پر پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی، پارٹی کے اندر تقسیم پیدا کرنے اور علیحدہ جماعت بنانے کی کوششوں کا الزام لگایا ہے۔ اپنے دو الگ الگ بیانات میں ان کا کہنا تھا کہ نکالے گئے افراد پارٹی کے بعض سینیئر رہنماؤں سے اپنی علیحدہ پارٹی بنانے یا کسی دوسری جماعت میں شامل ہونے کے لیے رابطوں میں رہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے ذمہ داروں میں غلط فہمیاں پیدا کیں بلکہ کہیں تو علیحدہ پارٹی بنانے یا اپنی پارٹی کے اندر تخریب کاری کے عمل کو مسلسل جاری رکھا۔
تاہم مختیار خان یوسفزئی اور رضا محمد رضا سمیت منحرف رہنماؤں نے محمود خان اچکزئی کو پارٹی کی چالیس سالہ پالیسی سے انحراف کرنے، اقتدار کی سیاست کرنے اور پارٹی کو من مانے طریقے سے چلانے کا الزام لگایا ہے اور تنظیم میں جاری بحران کا ذمہ دار قرار دیا ہے

باغی گروپ کا مطالبہ ہے کہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس طلب کر کے 2013 سے لے کر اب تک کیے گئے ان شخصی فیصلوں پر بحث کی جائے جو پارٹی کے آئینی اداروں کی منظوری کے بغیر صرف من مانے طور پر لیے گئے، خاص طور پر اس وقت جب 2013 سے 2018 تک پارٹی بلوچستان میں حکومت کا حصہ اور مرکز میں نواز شریف حکومت کی اتحادی رہی

پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل مختیار خان یوسفزئی کے مطابق پہلے اختلافات تنظیمی شکل میں تھے اب نظریاتی بن گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا افغانستان اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے حوالے سے کئی دہائیوں سے ایک واضح مؤقف ہے، لیکن پارٹی کے چیئرمین نے ایک دم اس دیرینہ مؤقف کو تبدیل کرکے نیا بیانیہ اختیار کر لیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی پالیسیوں میں تبدیلی کے لیے آئینی فورمز موجود ہیں جس پر بحث و مباحثے کے بعد ہی نئی پالیسی اختیار کی جاسکتی ہے۔ ’ہمیں نئے بیانیے پر اختلاف تھا اور ہم نے پارٹی کی مرکزی کمیٹی بلانے کا مطالبہ کیا تو اجلاس بلانے کی بجائے یکطرفہ طور پر سینیئر قیادت کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔‘

محمود خان اچکزئی نے پارٹی کے باقی کارکنوں اور رہنماؤں کو بھی منحرف اراکین سے دور نہ رہنے کی صورت میں تادیبی کارروائی کے لیے تنبیہ کی ہے، تاہم بلوچستان اسمبلی میں پشتونخوا میپ کے واحد رکن اسمبلی نصر اللہ زیرے، پارٹی کے مرحوم رہنما سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے بیٹے خوشحال کاکڑ سمیت کئی دیگر رہنما پارٹی کے مرکزی رہنما اور عثمان کاکڑ کے رشتہ دار یوسف خان کاکڑ کی رہائشگاہ پر بدھ جمع ہوئے

منحرف اراکین اس میٹنگ کو مرکزی کمیٹی کا اجلاس کہہ رہے ہیں، تاہم محمود خان اچکزئی نے مرکزی کمیٹی کی موجودگی پر سوال اٹھایا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ پارٹی کے سب سے اہم فورم ’قومی کانگریس‘ میں مرکزی کمیٹی تو تحلیل ہو گئی تھی اب اس کا وجود ہی نہیں۔
منحرف اراکین جمعرات دو بجے کو پریس کانفرنس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے

بعض اطلاعات کے مطابق رکن بلوچستان اسمبلی نصر اللہ زیرے کی پارٹی رکنیت بھی ختم کر دی گئی ہے، تاہم پشتونخوا میپ کے ڈپٹی چیئرمین عبدالرحیم زیارتوال نے اس خبر کی تردید کی ہے

پارٹی کے اندر اختلافات اور پالیسی میں تبدیلی سے متعلق سوال پر عبدالرحیم زیارتوال نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے اور اس پر پارٹی چیئرمین کا بیان آ چکا ہے

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت پارٹی کے بانی عبدالصمد خان اچکزئی کی انچاسویں برسی کے موقع پر 2 دسمبر کو کوئٹہ میں جلسے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اس جلسے سے خطاب میں اپنا تفصیلی مؤقف دیں گے

منحرف اراکین کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے مسلم باغ سے تعلق رکھنے والے پشتونخوا میپ کے رہنما باز محمد کا کہنا تھا کہ ان چار دہائیوں میں پارٹی نے ہمیں قوم کے جغرافیہ، وسائل، دوست اور دشمن بتائے، لیکن کابل کے سقوط کے بعد پارٹی کا وہ بیانیہ تبدیل ہوگیا جو چالیس سالوں سے کارکنوں کو ذہین نشین کرایا جا رہا تھا

ان کے بقول اب کہا جا رہا ہے کہ طالبان ہمارے مفاد میں ہیں اور ان کے خلاف افغان مزید جنگ برداشت نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے خلاف افغانستان میں تاجک، ازبک اور ہزارہ جنگ کی حالت میں ہیں اور جنگ تو ہو کر رہے گی

باز محمد کا کہنا تھا کہ ’2013 کے عام انتخابات میں پارٹی جب بڑی اکثریت کے ساتھ آئی تو مفاد پرست ٹولہ حاوی ہوگیا اور کرپشن کر کے جائیدادیں بنائیں۔ اس لیے پارٹی کے نظریاتی لوگ الگ ہو گئے اس دوران عثمان کاکڑ نے پارٹی کو صحیح سمت میں ڈالنے کی کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے وہ مار دیے گئے۔ آج ہم پارٹی کو بچانے کیے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔‘

کیا محمود خان اچکزئی نے افغانستان اور طالبان کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے؟ اس سوال پر سینیئر تجزیہ کار جلال نورزئی کہتے ہیں کہ پشتونخوا میپ نے اپنے قیام سے لے کر اب تک ہمیشہ افغانستان میں جہادی قوتوں اور طالبان کی مخالفت کی۔ سویت یونین اورامریکی قبضے کی حمایت کی۔ نوے کی دہائی میں بھی طالبان کے پہلے دور اقتدار میں ان کے سخت ناقد رہے، تاہم اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد خطے کے بدلتے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے محمود خان اچکزئی کے مؤقف میں تبدیلی آئی ہے

جلال نورزئی کے مطابق ’محمود خان موجودہ افغان حکومت سے متعلق اچھی رائے اور قبولیت والا رویے رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ افغانستان مزید جنگ و جدل کا شکار نہ ہو اور وہاں پر استحکام ہو۔ البتہ محمود خان اپنے اس مؤقف کو بھی دہراتے رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں صرف طالبان نہیں بلکہ تمام افغان جماعتوں کی شمولیت سے کثیر الجہتی حکومت اور متفقہ دستور چاہتے ہیں

جلال نورزئی کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کو اس بات کا بھی ادراک ہے کہ بیس سالوں میں شمال کے غیر پشتون گروہ افغانستان میں حاوی رہے۔ اب وہ موجودہ طالبان حکومت کو پشتون اکثریتی اور اسے افغانستان کو یکجا رکھنے اورامن و امان کے قیام پر قادر حکومت سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک افغانستان میں امن کے قیام کے پاکستان کے پشتون اکثریتی علاقوں پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے۔
ان کے بقول یہی وجہ تھی کہ محمود خان اچکزئی نے رواں سال 19 اگست کو افغانستان کے یوم استقلال کی مناسبت سے اسلام آباد میں افغان سفارتخانے میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔ اس طرح انہوں نے اس روایتی سیاسی جمود کو توڑا ہے جس کا شکار پشتون قوم پرست جماعتیں ان چالیس سالوں میں رہی ہیں

جلال نورزئی سمجھتے ہیں کہ اس پالیسی سے پشتون قوم پرست قیادت کے افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت سے روابط بڑھیں گے

لیکن کیا پشتونخوا میپ میں اختلافات صرف پالیسی کی تبدیلی پر ہے؟ تجزیہ کاروں کا اتفاق ہے کہ پشتونخوا میپ میں اختلافات نئے نہیں اور موجودہ اختلافات کی تاریخ بھی کم از کم ایک عشرہ پرانی ہے۔
کوئٹہ کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار سمجھتے ہیں کہ گروپ بندی پہلے بھی تھی، تاہم اس میں 2013 کے بعد شدت دیکھی گئی

ان کا کہنا تھا کہ 2013ء کے عام انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کی 10 جنرل نشستوں کے ساتھ پشتونخوا میپ نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی اور صوبے کی حکومت میں ایک بڑا حصہ لیا۔ اربوں روپے کے فنڈز خرچ کرنے کے باوجود پشتونخوا میپ اپنے کارکنوں اور عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اتری، شاید یہی وجہ ہے کہ 2018 کے انتخابات میں انہیں بری طرح شکست ہوئی اور بلوچستان اسمبلی کی صرف ایک نشست حاصل کر سکی

شہزادہ ذوالفقار کے مطابق 2013 میں بننے والی حکومت میں وزارتوں، مخصوص نشستوں اور عہدوں کی تقسیم کے بعد پارٹی کے اندر بعض لوگوں نے محسوس کیا کہ اقرباء پروری ہو رہی ہے۔ جب محمود خان اچکزئی نے پارٹی کے سینیئر رہنما اور قریبی ساتھی اکرم شاہ خان کو نظر انداز کر کے گورنر بلوچستان کے عہدے پر اپنے بھائی محمد خان اچکزئی کو لگایا تو اکرم شاہ خان ناراض ہوگئے۔ اختلاف رائے کے بعد انہیں بھی پارٹی سے فارغ کیا گیا۔ اب وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ محسن داوڑ کی جماعت کا حصہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ منحرف اراکین کا مؤقف ہے کہ پشتونخوا میپ نے ہمیشہ طالبان کو رجعت پسند اور شدت پسند سمجھا اور ان کے مقابلے میں لبرل لوگوں کا ساتھ دیا۔ اب موجودہ حالات میں بھی افغانستان کے بارے پارٹی مؤقف پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس صورت میں پارٹی قیادت پر اس بات کا بھی دباؤ ہے کہ وہ اپنے نظریات سے ہٹ گئے ہیں

تجزیہ کاروں کے مطابق پشتونخوا میپ میں تین طرح کے یعنی تنظیمی، قبائلی اور نظریاتی اختلافات ہیں۔ جو لوگ تنظیمی عہدوں اور ٹکٹوں کی تقسیم وغیرہ پر ناراض ہیں یا قبائلی طور پر کاکڑ اچکزئی وغیرہ کی تقسیم کا شکار ہیں وہ بھی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
جلال نورزئی کہتے ہیں کہ محمود خان اچکزئی اور ان کے قریبی ساتھیوں پر پر اقرباء پروری اور کرپشن کے الزامات لگانے والے خود بھی ایسے الزامات سے مبرا نہیں اس لیے وہ نظریے میں تبدیلی کو اختلافات کے لیے جواز کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ اسی گروہ نے پشتون تحفظ موومنٹ کی کی کھلم کھلا حمایت کی اوراپنی پارٹی پر پی ٹی ایم کو ترجیح دی

بعض تجزیہ کار محمود خان اچکزئی کے بے لچک رویے کو بھی ان اختلافات کی وجہ سمجھتے ہیں۔ شہزادہ ذوالفقار کے مطابق محمود خان اچکزئی پشتونوں کی بڑی معتبر اور بھاری شخصیت ہیں۔ وہ کبھی اس بات کی توقع ہی نہیں رکھتے تھے کہ کوئی ان کے سامنے کھڑا ہوگا، لیکن 2013 کے انتخابات ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئے اور اس کے بعد لیے گئے پارٹی قیادت کے فیصلوں پر سوالات اٹھنے لگے

ان کا کہنا تھا کہ ’کانگریس پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا سب سے بڑا فورم ہے، لیکن اس کا انعقاد بھی تاخیر کا شکار ہوا، خود محمود خان نے اپنے بیان میں تسلیم کیا ہے کہ مرکزی کمیٹی وجود ہی نہیں رکھتی۔ یہ قیادت کی ذمہ داری تھی کہ وہ پارٹی کے آئینی ادارو ں کو فعال رکھتی تو اختلافات پارٹی کے اندر ہی رہتے۔ ان کمزوریوں نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے اور اب منحرف گروپ وجود میں آنے کے بعد پشتونخوا میپ مزید کمزور ہوگی۔‘

شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ پشتونخوا میپ میں تقسیم سے یقیناً پشتون قوم پرست سیاست کو دھچکا لگے گا اور اس کا فائدہ ان کی حریف پشتون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی، مذہبی جماعت جمعیت علماء اسلام اور باپ جیسی جماعتوں کو ہوگا

کیا باغی گروپ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے الگ ہوکر نئی جماعت بنائے گا؟ اس سوال پر منحرف رہنما سابق صوبائی وزیر عبید اللہ بابت نے کہا کہ ’ہم نئی جماعت نہیں بنائیں گے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ہماری جماعت ہے اور ہم سب نے مل کر اسے بنایا ہے اس جماعت میں رہ کر جدوجہد کریں گے۔‘

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ایم کیو ایم کی طرح ایک مضبوط نظم و ضبط کے حوالے سے جانی جاتی تھی، لیکن حالیہ دنوں میں پارٹی کے حوالے سے قائم اس تاثر کو زک پہنچی ہے اور پارٹی کے اختلافات اندرونی صفوں سے باہر کھل کر سامنے آنے کے بعد بیان بازی کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کے ایک سرکاری کالج میں پشتونخوا میپ کے طلبہ ونگ کے دو دھڑوں میں تصادم بھی ہوا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی تاریخ
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی جسے مختصراً پشتونخوا میپ یا پی کے میپ کہا جاتا ہے، اپنی موجودہ شکل میں مارچ 1989 میں محمود خان اچکزئی نے قائم کی۔ یہ جماعت پہلے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے نام سے جانی جاتی تھی جس کی بنیاد محمود خان اچکزئی کے والد عبدالصمد خان اچکزئی نے 1970 میں رکھی۔
عبدالصمد خان اچکزئی برطانوی دور میں فعال سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے 1937ء میں انجمن وطن اور قیام پاکستان کے بعد 1954 میں ورور پشتون کے نام سے جماعتیں بنائیں۔ اس دوران طویل عرصہ جیل بھی کاٹی
عبدالصمد خان 1956 میں نیشنل عوامی پارٹی کا حصہ بنے، تاہم ون یونٹ کی تحلیل اور چاروں صوبوں کے قیام کے وقت بلوچستان کے نام اور پشتونوں کے لیے الگ صوبے کے معاملے پر اختلاف کی بنیاد پر نیپ سے الگ ہو کر نئی جماعت بنائی۔ دسمبر 1973 میں کوئٹہ میں اپنی رہائشگاہ پر ایک دستی بم حملے میں مارے جانے کے بعد ان کے بیٹے محمود خان اچکزئی ان کے سیاسی جانشین بن گئے۔
پشتونخوا میپ نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں تحریک بحالی جمہوریت میں فعال کردار ادا کیا اور اکتوبر 1983 میں کوئٹہ میں ایم آر ڈی کے جلسے کے موقع پر پولیس کی فائرنگ سے اس جماعت کے سات کارکن مارے گئے۔ اس کے بعد محمود خان اچکزئی نے جلاوطنی اختیار کرلی اور 1989 میں وطن واپس آئے

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ’بولان سے چترال تک‘ خیبر پشتونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے پشتونوں کے لیے مشترکہ صوبہ یا بلوچستان کے پشتون علاقوں پر مشتمل الگ صوبے کی تشکیل، پاکستان میں دیگر اقوام کے ساتھ پشتونوں کے لیے مساوی حقوق، بلوچستان کے اندر بلوچوں اور پشتونوں کے درمیان اسی طرح ملک کے صوبوں کے درمیان وسائل کی برابر تقسیم، زیادہ سے زیادہ صوبائی خود مختاری، سیاست میں فوج کی مداخلت اور افغانستان میں مداخلت کے خاتمے جیسے نعروں پر سیاست کرتی آ رہی ہے

تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ پشتونخوا میپ کی پشتون کاز کے لیے بڑی قربانیاں ہیں۔ پارٹی کے بانی عبدالصمد خان اچکزئی سمیت کئی کارکنوں اور رہنماؤں کی جانیں گئیں اور موجودہ قیادت کو جلاوطنی بھی اختیار کرنا پڑی۔
لسانی بنیادوں پر اختلافات کے نتیجے میں ماضی میں پشتونخوا میپ کے بلوچ قوم پرست جماعتوں کے ساتھ خون ریز تصادم بھی ہوئے ہیں، تاہم حالیہ عرصے میں ان اختلافات میں کمی آئی ہے

ماضی میں پنجاب مخالف نعروں پر سیاست کرنے والی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی بعد میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ مؤقف رکھنے کی وجہ سے میاں نواز شریف کے قریب آئی۔ 2013 کے انتخابات کے بعد بلوچستان میں ن لیگ کے ساتھ حکومت کا حصہ رہی، مرکز میں اتحادی رہی اور 2014 کے دھرنوں جیسے مشکل وقت میں بھی نواز شریف کا ساتھ دیا۔

بشکریہ: اردو نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close