ملالِ دروں

شاہین کمال (کیلگری)

آنکھیں کھلیں اور ہاتھ میکانیکی انداز میں بیڈ سائیڈ پر پڑے سیل فون کی طرف بڑھا۔ تازہ خبروں کی شہ سرخیاں پڑھتے ہی مجھے گویا چار سو چالیس وولٹ کا جھٹکا لگا۔ یہ متوقع تو تھا مگر پھر بھی مجھے یہ خبر لرزا گئی۔

ہائے کیا دنیا کو میری بد دعا لگ گئی!!!

میں عالمِ اضطراب میں کمرے کے طول کو ماپنے لگا اور میری کنپٹیوں میں درد کی شدید ٹیس اٹھنے لگی.

ابھی راتیں ٹھنڈی مگر دن ریت میں بھنے مکئی کے دانوں کی طرح گرم اور سوندھے تھے۔ میں روزانہ کی طرح، صبح جاگ کر کچھ دیر بستر پر لیٹے لیٹے، بے مقصد چھت سے لٹکتے پنکھے کے پروں کو تکتا رہا، پھر کسلمندی سے پیر گھسیٹا ہوا غسل خانے کا رخ کیا۔ جاتے وقت کو بمشکل پکڑ کر جلدی جلدی بے روح نماز ادا کی اور باورچی خانے کی راہ لی

میں اکثر دنیا و مافیہا سے بے خبر چائے کے ابلتے پانی کو اتنی دیر تک تکتا کہ پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ، جانے کیوں مجھے پانی کے بلبلوں میں بنتی مٹتی شکلیں نظر آیا کرتی ہیں۔ موڈ ہوتا تو رات کی بچی نان اور چائے حلق سے اتار لیتا ورنہ اکثر خالی پیٹ ہی دفتر کے لیے نکل پڑتا۔

میرے فلیٹ سے مرکزی شہر تک کا فاصلہ بائیک سے یہی کوئی پندرہ بیس منٹ کا ہے۔ راستے میں پل کے نیچے درجنوں نشئی نظر آتے ہیں، جنہیں دیکھ کر پہلے تو مجھ گھن آیا کرتی تھی، پر اب ان پر رشک آتا ہے۔ وہ بن داس، اپنے اطراف سے بے خبر، اپنی دنیا میں مست و مگن کہ ان کی دنیا میں کوئی تغیر و ابتلا ہے ہی نہیں..

میں اپنی ابتری و اضطراری کے باوجود دفتری کام پوری تندہی سے نپٹاتا ہوں، نو شورٹ کٹ، نو کٹ کارنرز! کبھی کبھی تو یہ دل اتنا الجھ جاتا کہ جی چاہتا کہ کسی بن میں جا بسرام کروں۔ شروع میں ایسا کیا بھی، مگر زندگی کے اپنے پھندے ہیں اور یہ کبھی شکنجہ کستی اور کبھی ڈھیل دیکر مضروب کے ساتھ بالکل بلی چوہے والا کھیل کھیلتی ہے۔ آتش فشاں بھی تو بظاہر عام پہاڑوں ہی جیسا، بلند و بالا اور خوشنما مگر اندر ہی اندر ابلتے ہوئے لاوے سے کھولتا ہوا۔ میں بھی عین مین ایسا ہی، ظاہری طور پر متعدل اور اندر تلاطم ہی تلاطم… میں باتونی کبھی بھی نہیں رہا پر اب میری خاموشی مزید گہری اور آنکھیں شاید دہکتی ہوئی ہیں کہ لوگ باگ مجھ سے کتراتے ہیں اور میں بھی
لوگوں سے وحشت زدہ ہوں۔

میری زندگی کا یہ رخ بڑا غیر یقینی ہے۔ میرا بڑا جی چاہتا ہے کہ یہ سب بس ایک خواب ہو ، بے شک طویل اور بھیانک ہی سہی پر محض ایک خواب… کہ خواب کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، بالآخر ختم ہو جاتا ہے

مگر میری یہ حسرت، حسرت ہی رہی…

میری اور ماہ پارہ کی پسند کی شادی تھی، ماہ کی پسند اور میری جنوں خیزی… ان دنوں محبت کی تاپ سے میرا پنڈا پھنکتا تھا۔ میرا کوئی آگے پیچھے تو تھا نہیں، سو اپنی نازوں کی پالی بیٹی کا ہاتھ میرے اکیلے کے ہاتھوں میں دینے میں انہیں سو سو وسوسے ستاتے تھے، مگر شوریدہ جذبات کے آگے بھلا کب بند بندھے ہیں۔ ماہ نے بھی بھوک ہڑتال اور ہزار جتنوں سے انہیں میرے حق میں راضی کر ہی لیا اور یوں ماہ کی ہمراہی نے مجھے اس دنیا کا خوش نصیب ترین انسان بنا دیا۔ شادی کے اوائل دنوں میں ہمارے وسائل بہت کم تھے، اتنے کم کہ ہم دونوں ایک ہی کون آئس کریم کو انجوائے کرتے اور پیدل چلتے ہوئے ایک دوسرے کی سنگت سے لطف اندوز ہوتے۔ ماہ کی باتیں بھی اس کی صورت کی طرح موہنی اور دلآویز تھیں پر ہاتھوں میں ذائقہ کم کم۔ میں ٹھہرا بلا کا چٹورا اور میرے ہاتھوں میں قدرتی ذائقہ بھی.. ماہ کو بہترین کھانا پکانا میں نے ہی سکھایا تھا، پر پکانے میں ماہر ہو جانے کے باوجود بھی ظالم پیاز مجھ ہی سے کتروایا کرتی تھی۔

وقت تو سرپٹ مشکی گھوڑے کی طرح بھاگتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ میرے اور ماہ کے تیرہ سالہ ساتھ نے ہم دو، کو پانچ کر دیا۔ میرے ماشاءاللہ تین خوب صورت و ذہین بچے اور ماہ کی غیر مشروط محبت.. انسان خدا سے بھلا اس سے زیادہ اور کیا مانگ سکتا ہے؟؟
گزرتا وقت ہمیں معاشی استحکام سے بھی نوازتا چلا گیا، اتنا کہ اب خواہشات میری جیب کی دسترس میں تھیں۔
اب سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ مجھے زندگی میں اتنی آسانیاں اور سہولتیں ماہ کی فراہم کردہ تھیں۔ اس نے مجھے ہمیشہ بچوں کی پڑھائی اور گھریلو ذمہ داریوں سے دور رکھا۔ میں کامل یکسوئی سے دفتر نپٹاتا اور پھر بچا ہوا سارا وقت بھر پور طریقے سے ماہ اور بچوں پر خرچ کرتا۔ ہم لوگ گھومنے پھرنے کے بہت شوقین تھے اور اس چکر میں ہم لوگوں نے اپنی ہنڈا سیوک پر تقریباً پورا سندھ اور جزوی طور پر بلوچستان دیکھ رکھا تھا۔

ماہ پارہ کو اسلام آباد میں اپنے چھوٹے بھائی کے بیٹے کے عقیقے کی تقریب میں شرکت کرنی تھی. تقریب چوں کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں تھی، اس لیے ماہ اور بچوں نے ٹرین سے جانے کا فیصلہ کیا۔ بچوں کا بذریعہ ریل گاڑی یہ پہلا سفر تھا، لہٰذا ان کی خوشی دیدنی بھی، خاص طور پر دونوں بڑے بچوں کی.. سیف تو خیر چھوٹا تھا مگر قسیم اور خولہ کے جوش و خروش کا عالم ہی اور تھا۔ کزنز سے ملنے کی خوشی تو تھی ہی مگر سب پر سوا ریل گاڑی کا سفر تھا۔ میں نے ان کی آسانی کو مدنظر رکھتے ہوئے سلیپر بک کیا تھا۔ میرا اپنا ارادہ یہی تھا کہ تقریب سے دو دن پہلے پہنچوں گا، پھر بچوں کو مری اور لاہور گھماتا ہوا کراچی واپس۔ اسٹیشن پر بچوں سے ہنسی مذاق اور کھیل چلتا رہا۔ سلیپر کے ڈبے میں سب خوش تھے، سیف ایک برتھ سے دوسری برتھ پر چھلانگیں لگانے میں مشغول اور خولہ نے تو جھٹ اوپر والی برتھ پر قبضہ کر لیا تھا۔ میں نے قسیم کو دروازے اور کھڑکیاں بند کرنے کا طریقہ اور خدا نہ خواستہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں زنجیر کھینچنا بھی سمجھا دیا۔ قسیم ہے تو گیارہ سال کا مگر ماشاءاللہ بہت سمجھ دار، کوئی بھی بات اسے صرف ایک دفعہ بتانی پڑتی ہے۔ اسے ہدایت دی کہ ماں، چھوٹی بہن اور بھائی کا بہت دھیان رکھنا ہے اور کسی بھی اسٹیشن پر بھول کر بھی نہیں اترنا۔ احتیاطاً پانی کی بوتلوں کا کریٹ بھی لے آیا اور ماہ پارہ کی پسندیدہ میگزین بھی۔

ڈبے سے اترنے سے پہلے بچوں کو باری باری گلے لگایا، اب سب اداس تھے، سیف تو مجھ سے چمٹ گیا، میری گود سے اتر ہی نہیں رہا تھا۔ میری نو سالہ خولہ نے گلے لگتے ہوئے چپکے سے ایک پرچہ میری جیب میں سرکا دیا۔ اس کی محبت کا انداز ہی دل ربا اور مختلف تھا۔ بیٹیاں واقعی اللہ کی رحمت ہوتی ہیں اور مجھے جتنی خوشی خولہ کی پیدائش پر ہوئی تھی ، اتنی تو قسیم اور سیف کی پیدائش پر بھی نہیں ہوئی تھی۔ اترنے سے پہلے ماہ کو گلے لگایا تو اس کی خوب صورت آنکھیں بھی لبالب بھری ہوئی تھیں۔ میرا شدت سےجی چاہا کہ یا تو میں بھی ان لوگوں کے ہمراہ ہی چلا جاؤں یا پھر ان سب کو ٹرین سے اتار لوں۔ اپنی جذباتیت پر سر کو جھٹکتے ہوئے، میں رینگتی ہوئی ٹرین سے نیچے اتر آیا اور تا حد نظر جاتی ہوئی ٹرین کو ہاتھ ہلاتا رہا۔ دھندلائی آنکھیں ماہ کے الوداع کہتے ہاتھوں پر جمی رہیں، حتیٰ کہ ٹرین نقطہ بھی نہ رہی۔

میں بھرے دل سے گھر لوٹا۔ یہ تیرہ سالہ ازدواجی زندگی کی پہلی عارضی جدائی تھی کہ ماہ تو کبھی اکیلے میکے بھی نہیں جاتی تھی۔ خالی گھر بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ ماہ گھر کو سمیٹ کر گئی تھی، بس صوفے پر سیف کا fidget spinner پڑا ہوا تھا۔ مجھے چائے کی شدید طلب تھی۔ باورچی خانے میں چولہے پر کیتلی رکھی تھی، چائے کی پتی کے لیے کیبنٹ کھولی تو وہیں چائے کی پتی کے ساتھ ہی ایک پرچی بھی تھی۔ میں ایک دم مسکرا دیا، یہ ماہ کی بڑی پیاری عادت تھی۔ وہ اکثر میرے پرس میں، ٹفن باکس یا پھر تکیے کے نیچے پرچی رکھ دیتی تھی، جس میں کبھی کوئی شعر یا ایک دو محبت بھرے جملے لکھے ہوتے۔ پرچی پر لکھا تھا، ”خالی چائے مت پینا، ساتھ بسکٹ بھی ضرور کھا لینا اور پھر سر درد کی گولی بھی۔“

مجھے جانے کیا ہوا، میں نے چولہا بند کیا اور لیونگ روم میں آ کر اونچی آواز سے رونے لگا۔ تھوڑی دیر رونے کے بعد دل جیسے ٹھہر سا گیا۔ مجھ کچھ خیال آیا اور میں نے شرٹ کی پاکٹ چیک کی۔ خولہ کی پرچی میں پھولوں کے درمیان ”لو یو پاپا“ لکھا ہوا تھا۔ میری آنکھیں ایک بار پھر بھیگ گئیں

ایک دم گھونٹتی اداسی تھی جس نے مجھے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا تھا اور جانے رات کے کس پہر میں وہیں صوفے پر ڈھے گیا۔ صبح معمول کے مطابق آنکھ کھلی اور اپنے آپ لیونگ روم میں صوفے پر پا کر میں حیران ہی ہو رہا تھا کہ پھر ایک دم سے سب کچھ یاد آ گیا۔ میں بے دلی سے ٹی وی آن کرتا ہوا منہ ہاتھ دھونے کے لیے باتھ روم کی جانب بڑھ ہی رہا تھا کہ ٹی وی پر چلتی بریکنگ نیوز کی چنگھاڑ نے میرے پیر جکڑ لیے۔ انہونی ہو چکی تھی، میری قیامت کا صور پھونکا جا چکا تھا کہ ماہ پارہ کی ٹرین پٹری سے اتر گئی تھی۔ اس سے آگے کی سب یادیں گڈمڈ ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ میں جائے
حادثہ پر کیسے پہنچا؟ بس اتنا یاد ہے کہ ہسپتال والوں نے میرے پیاروں کی باقیات ، مجھے سیاہ بڑے بڑے سے بیگز میں دیں اور کہا کہ انہیں کھولے بغیر کفن دفن کر دیجیے گا۔ ماہ پارہ کے دونوں بھائی اور میرے کچھ دوست بھی میرے ساتھ ہی تھے۔ میں نے ان بیگز کو بنا کھولے، اوپر سے پونچھ کر خوشبو اور کافور میں بسے کفن میں کفنا دیا۔ خود ہی ان چاروں کو باری باری قبر میں اتارا اور شاید خود بھی حصہ حصہ ان چاروں کے ساتھ دفن ہو گیا۔ میں ان چاروں کے آخری دیدار سے محروم رہا، مگر شاید یہ بھی میرے حق میں بہتر ہی ہے کہ وہ چاروں میرے خیالوں میں ہنستے، کھلکھلاتے ہی نظر آتے ہیں۔

چار پانچ مہینے دنیا سے بےگانہ رہا، مگر کب تک…. پھر دفتر کی روٹین شروع ہو گئی.

مجھے لوگوں سے وحشت ہوتی ہے اور ان کے تعزیتی جملے بناوٹی اور اوپری لگتے ہیں۔ جس پر بیتی ہی نہ ہو، وہ بھلا میرے درد کو کیسے جان سکتا ہے؟ جس اذیت کا کوئی انت نہیں، اسے بھلا کوئی دوسرا کیسے محسوس کر سکتا ہے؟ مجھے لوگوں کا موو آن move on کا مشورہ بہت ہی ظالمانہ لگتا ہے۔ جس کی دنیا ایک پل میں اجڑ گئی ہو اور اس کا کچھ بھی بچا ہی نہ ہو تو وہ موو آن کیسے کر سکتا ہے؟
بھلا وہ کس دل سے آگے بڑھ جائے اور دنیا میں کیوں کر رل مل جائے؟
میں تو اب تاحیات اسی لمحے میں حنوط ہوں۔ اسی مقتل کا زندہ مقتول۔
میں خود بھی اپنی کیفیات سمجھنے سے قاصر ہوں مگر مجھے بہت بہت غصہ آتا ہے؟
میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس سے پوچھوں کہ تُو، تو میرا سب سے اچھا دوست تھا؟
پھر یہ میرے ہی ساتھ کیوں؟
اس اربوں کھربوں کی دنیا میں اس آزمائش کے لیے فقط میں ہی کیوں؟
میں نے تو کبھی بھولے سے بھی مضبوطی کا دعویٰ نہیں کیا تھا؟
مالک!!! میں تو تیرا خاکی حقیر فقیر کمزور ترین بندہ ہوں۔ تیری مصلحتوں سے نا آشنا، ایک بے صبرا اور تھڑدلا شخص اور تو نے اس پر پورے کا پور K2 الٹ دیا!!!
میرا جی چاہتا ہے کہ میں اتنی شدت سے چیخوں کہ میری چیخ صور اسرافیل بن جائے اور یہ ہنستی مسکراتی دنیا پل کے پل میں بھسم ہو جائے۔ جب میں خوش نہیں تو اس دنیا میں بستے لوگ کیوں خوش ہَوں؟
مجھے اپنی سوچوں سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ میرا ایمان مجھے شعوری طور پر ان سلگتے سوالات سے باز رکھنے کی حتی المقدور کوشش بھی کرتا ہے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ میں تھک چکا ہوں، ان لوگوں کی یاد میں مجھے سانس سانس آزار ہے۔
ماہ میری زندگی!! یہ کیسا امتحان ہے؟
ہم تو جی بھی نہیں سکے ایک ساتھ
ہم کو تو ایک ساتھ مرنا تھا
میری زندگی کا واحد سہارا اب فوٹو البم اور فون کی گیلری میں محفوظ ان سب کی وڈیوز اور ماہ کے وائس میسیجز ہیں۔
میں نے گھر اور شہر سب بدل لیے، مگر اس دلِ مضطر کو نہ ہی کہیں سکون ہے نہ قرار ۔ میری دلی خواہش ہے کہ میری قیدِ حیات مختصر ہو جائے کہ مجھے ان چاروں کے بغیر جینا نہیں آتا۔ میں جینا چاہتا بھی نہیں کہ مجھ سے جیا ہی نہیں جاتا، مگر یہ ہٹیلی دنیا مجھے اپنے ساتھ گھسیٹے پھر رہی ہے اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ گھسٹنے پر مجبور۔

کبھی روئے کبھی تجھ کو پکارا
شب فرقت بڑی مشکل سے گزری
ہوائے صبح نے چونکا دیا یوں
تری آواز جیسے دل سے گزری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے شدت سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں دنیا کو میری آہ نہ لگ جائے اور آج صبح ٹیلی فون پر شہ سرخی دیکھی اور دل کانپ گیا:
”سینٹ پیٹرز برگ اور واشنگٹن ڈی سی دنیا کو بھسم کرنے پہ کمر بستہ۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close