یکجہتی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)

ایتالو کلوینو (ترجمہ: خالد فرہاد دھاریوال)

میں انہیں دیکھنے کے لیے رُک گیا۔

وہ رات کے وقت، سنسان گلی میں ایک دکان کے شٹر کے ساتھ کچھ کر رہے تھے۔ دکان کا شٹر تھوڑا بھاری تھا۔ اسے اٹھانے کے لیے انہوں نے ایک لوہے کا ڈنڈا نیچے لگایا ہوا تھا،لیکن شٹر اُٹھ ہی نہیں رہا تھا۔

میں ادھر ویسے ہی چہل قدمی کر رہا تھا۔ مجھے کہیں خاص نہیں جانا تھا۔

میں نے ان کی دست گیری کے لیے لوہے کا ڈنڈا اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ انہوں نے میرے لیے جگہ بنائی۔ وہ سب ایک ساتھ زور نہیں لگا رہے تھے۔

میں نے کہا ”ارے زور لگاؤ اوپر!“

میرے دائیں طرف کھڑے آدمی نے مجھے کہنی ماری اور کہا، ”چپ رہو، پاگل ہو کیا؟ کیا تم چاہتے ہو کہ وہ ہمیں سن لیں؟“

میں نے اپنا سر کچھ یوں ہلایا کہ گویا وہ لفظ میں نے قصداً نہیں بولے بلکہ میری زبان سے پھسل گئی تھی۔

اس میں ہمیں کچھ وقت لگا۔ ہم پسینے میں شرابور تھے لیکن آخرکار شٹر کو ہم اتنا اوپر اٹھانے میں کامیاب ہو گئے کہ کوئی اس کے نیچے سے دکان کے اندر گھس سکے۔

ہم نے خوشی سے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر سبھی اندر چلے گئے۔ مجھے ایک بورا پکڑا دیا گیا۔ دوسرے لوگ سامان اٹھا اٹھا کر لاتے اور اس بورے میں ڈالتے جاتے۔

”جب تک کہ بدمعاش پولیس والے نہ آ جائیں۔۔۔“ وہ کہہ رہے تھے۔

”بالکل۔“ میں نے کہا، ”وہ واقعی بدمعاش ہیں۔“

”خاموش! کیا تمہیں کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی نہیں دیتی؟“ انہوں نے ہر چند منٹ بعد کہا۔۔ میں نے کان لگا کر سنا اور قدرے خوف محسوس کیا۔ پھر کہا، ”ارے نہیں، یہ ان کے بوٹوں کی آواز نہیں ہے۔“

”وہ تبھی ٹپکتے ہیں جب ان کی کوئی توقع بھی نہیں کر سکتا۔“ ان میں سے ایک بولا۔

میں نے اپنا سر ہلایا اور کہا، ”مارو کمینوں کو۔۔۔ اور کیا۔“

پھر ان لوگوں نے مجھے باہر سڑک کے موڑ تک جا کر دیکھنے کے لیے کہا کہ کہیں کوئی آ تو نہیں رہا۔ میں چلا گیا۔

باہر موڑ پر کچھ دوسرے لوگ تھے۔ دیوار کے ساتھ دم سادھے وہ چھپ کر کھڑے تھے۔

میں ان میں شامل ہو گیا۔

”ان دکانوں کے پاس سے آوازیں آ رہی ہیں۔“ میرے بغل والے آدمی نے مجھ سے کہا۔

میں نے ادھر دیکھا۔

”بیوقوف! سر نیچے کرو، انہوں نے ہمیں دیکھ لیا تو وہ بھاگ جائیں گے۔“ اس نے فوراً سرگوشی کی۔

”میں تو بس دیکھ رہا تھا۔“ میں نے وضاحت کی اور پھر دیوار کی اوٹ میں ہو گیا۔

”اگر ہم انہیں اچانک گھیر لیں“ دوسرے نے کہا، ”تو ہم انہیں پکڑ سکتے ہیں۔ وہ زیادہ نہیں ہیں۔“

اپنی سانس روک کر پنجوں کے بل چلتے ہوئے ہم دھیرے دھیرے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکتے پیش قدمی کرنے لگے۔

”وہ اب بھاگنے نہ پائیں۔“ میں نے کہا۔

”آخرکار ہم انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ ہی لیں گے۔“ کوئی دوسرا بولا۔

”ان کا وقت آ گیا ہے۔“ میں نے کہا۔

”حرامی دکانوں میں چوری کرتے ہیں۔“ کسی نے کہا۔

”حرامی چور۔“ میں نے غصے سے دہرایا۔

انہوں نے جائزہ لینے کے لیے مجھے آگے بھیج دیا۔ اب پھر سے میں دکان کے اندر تھا۔

”وہ اب ہمیں نہیں پکڑ سکیں گے۔“ ایک نے اپنے کندھے پر بورا اٹھاتے ہوئے کہا۔

”جلدی۔“ کسی اور نے کہا، ”پیچھے سے نکل چلو۔ اس راستے ہم ٹھیک ان کی ناک کے نیچے سے رفوچکر ہو جائیں گے۔“

اب ہم سب کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔

”وہ ضرور کفِ افسوس مَلیں گے۔۔۔“ میں نے کہا اور ہم عقبی دروازے سے باہر نکل گئے۔

”ہم نے بیوقوفوں کو پھر چکمہ دے دیا۔“ وہ بولے۔

لیکن تبھی ایک آواز نے ہمیں چونکا دیا؛ ”رکو! کون ہے وہاں؟“

اور پھر روشنیاں جگمگا اٹھیں۔ ہم دَم سادھے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے کسی چیز کے پیچھے جھک گئے۔۔ اور کسی طرح چھپتے چھپاتے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

”ہم نے کر دکھایا۔“ بہ یک زبان ہم سبھی چلائے۔

دوڑتے ہوئے میں ایک دو بار پھسلا اور پیچھے چھوٹ گیا۔ میں نے خود کو ان چوروں کا تعاقب کرنے والوں کے ساتھ پایا۔

انہوں نے مجھ سے کہا، ”آؤ، اب ہم ان کو پکڑنے ہی والے ہیں۔“

اور میں ان کے ساتھ دوڑنے لگا اور بیچ بیچ میں وہ للکارتے، ”دوڑو، وہ اب نہیں بچ پائیں گے۔“

ادھر ادھر بھاگ دوڑ کے دوران میں نے ایک کو دبوچ لیا۔

اس نے کہا: ”شاباش! تم انہیں چکمہ دینے میں کامیاب رہے۔ ادھر آؤ، یہاں سے وہ ہمیں نہیں دیکھ پائیں گے۔“

اور میں اس کے ساتھ دوڑنے لگا۔

تھوڑی دیر بعد میں ایک پتلی گلی میں اکیلا رہ گیا۔ تبھی موڑ پر کوئی آیا اور اس نے ہانپتے ہوئے مجھ سے کہا: ”ادھر آؤ، میں نے انہیں دیکھا ہے۔ وہ زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے۔“ اب میں اس کے ساتھ دوڑنے لگا۔

کچھ دیر بعد پسینے میں شرابور ہوکر میں ٹھہر گیا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ کسی کی آواز نہیں آ رہی تھی۔

میں نے اپنے ہاتھ جیبوں میں ڈالے اور اپنے طور پر ٹہلنے لگا۔ مجھے کہیں خاص نہیں جانا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close