گوادر میں بھی ناراض بلوچ؟

عفت حسن رضوی

بلوچستان کا ساحلی علاقہ گوادر ایک طرف تو بحیرہ عرب کے گہرے نیلے پانی اور دوسری جانب اپنے ناراض زمین زادوں سے گھرا ہوا ہے

نسل در نسل گوادر کو اپنی دھرتی ماننے والے بلوچ کیوں ناراض ہیں جبکہ وہ پاکستان سے گزرتی ترقی کی لکیر ’سی پیک‘ کے آخری سرے پہ بیٹھے ہیں؟

گوادر میں سینکڑوں ترقیاتی منصوبے بن رہے ہیں، گوادر کو سجایا جارہا ہے، گوادر کو دبئی بنانے کے خواب دیکھے جارہے ہیں، سمندری فرنٹ پہ فوڈ بزنس چمکنے کے امکانات ہیں پھر یہ گوادر کے مقامی بلوچ کیوں ناراض ہیں؟

گوادر کے دامن میں کوہ باطل ہے اور پڑوس میں بہترین سیاحتی مقام ہنگول نیشنل پارک ہے، یہاں قدرتی سیاحتی دلچسپی کا سارا سامان موجود ہے، اس علاقے کے حسن سے سیاحتی بزنس کھڑا کیا جاسکتا ہے، پھر گوادر کے مقامی لوگ ایسے ناراض کیوں؟

گوادر میں ہوائی اڈہ بنا ہے، یہاں سرمایہ کاری کرنے میں بین الاقوامی سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں، بڑی کمپنیاں، فیکٹریاں، ملز اور نجانے کیا کچھ منصوبے پائپ لائن میں ہیں، پھر مقامی بلوچ کیوں منہ پھلائے بیٹھے ہیں؟

گوادر کے علاقے پسنی، اورماڑہ، جیوانی، سربندر گہرے سمندر میں سی فوڈ کے شکار کے لیے گیٹ وے سمجھے جاتے ہیں، کئی اقسام کی مچھلی، جھینگے، کیکڑے، یہاں کے سمندر میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ پھر یہاں کے مچھیرے کیوں نہیں فائدہ اٹھاتے؟

اتنے ڈھیر سارے سوالات کا آسان جواب یہ ہے کہ گوادر کے بلوچوں کو اگر یہ سب حقوق مل رہے ہوتے، اگر گوادر کے بے پناہ معاشی وسائل آج ان کے ہاتھ میں ہوتے، اگر گوادر سے منسلک سمندر میں ان کی روزی محفوظ ہوتی، اگر گوادر کی ترقی کا کوئی ثمر انہیں بھی مل رہا ہوتا تو آج وہ گوادر کی سڑکوں کی خاک نہ چھان رہے ہوتے

گذشتہ ڈیڑھ برس سے وقتاً فوقتاً یہ گوادر کو ’حق دو تحریک‘ کئی کئی ماہ سڑکیں بلاک کرکے بیٹھ چکی ہے لیکن بے سود۔۔

رواں برس کا آخری ماہ ’حق دو تحریک‘ کے لیے تنگ آمد بجنگ آمد نوعیت کا رہا

سوشل میڈیا پر گوادر کے مقامی افراد کی ’حق دو تحریک‘ کی ایک تازہ تصویر نظر سے گزری، حق دو تحریک کے مرکزی رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن کے ساتھ میں کھڑے کارکن مسلح نظر آئے

کسی کا طنزیہ کمنٹ یہ تھا کہ مولانا کا دعویٰ تھا کہ یہ تحریک پرامن احتجاج ہے تو پھر یہ کیا ہے؟ یعنی ہم آسان لفظوں میں اپنے سوال کو یوں بھی پوچھ سکتے ہیں کہ کیا گوادر کے بلوچ بھی ناراض ہو گئے؟

گوادر کے مقامی لوگ کوئی آج کے ناراض نہیں، خیر سے ریاست نے بڑی تگ و دو کے بعد انہیں ناراض کیا ہے۔ انہیں ناراض ہوئے بھی اب عرصہ گزرا۔ جب جب وفاق گوادر پہ اپنا حق جتانے پہنچا گوادر کی قدیم رہائشی بستی کے باسی ناراض ہوئے کیونکہ یہ علاقہ آج بھی بجلی، گیس پانی کی بنیادی سہولت سے محروم ہے

جب جب گوادر کے پانیوں میں جہازی سائز کے بڑے ٹرالر آبی حیات کا شکار کرتے ہیں، اپنا خزانہ اپنی آنکھوں کے سامنے لُٹتا دیکھ کر گوادر والے سیخ پا ہو جاتے ہیں اور کیوں نہ ہوں، اسی آبی حیات سے ان کا روزگار جڑا تھا

جب کبھی ایران سے روزمرہ اجناس کی تجارت کرنے والی مال بردار گاڑی کو بارڈر پر روکا جاتا ہے، روکنے کے بہانے لوٹا جاتا ہے تو گوادر والے ناراض ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ بھی ان کا روزگار ہے

حکومت جس تجارت کو غیر قانونی کہتی ہے وہ برسوں سے ہورہی ہے پھر بھی کوئی موثر بزنس ٹریک زیرِ غور نہیں

اس خوش قسمتی سے مالا مال علاقے کے بدقسمت لوگ جب اپنے ہی علاقے میں نقل حرکت کرتے ہیں اور انہیں جگہ جگہ سکیورٹی چیک پوسٹوں پر روک کر شناخت بتانی پڑتی ہے، تب یہ ناراض ہوتے ہیں

حق دو تحریک مولانا ہدایت الرحمٰن کی قیادت میں گذشتہ دو ماہ سے سڑک پر دھرنا دیے بیٹھی تھی۔ یہ سب غصے میں تھے

انہیں غصہ ان وعدوں پر بھی تھا، جو حق دو تحریک سے حکومت بلوچستان نے گذشتہ دھرنے میں کیے تھے اور محض سبز باغ ثابت ہوئے۔ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی پر موجود ٹرالر مافیا کو قابو کیا جائے گا لیکن یہ وعدہ بھی پورا نہ ہوا

مولانا ہدایت الرحمٰن کو اگر ایک طرف گوادر کے عوام کی حمایت حاصل ہے تو دوسری جانب وہ دباؤ بھی ہے جو فرنٹ لائن کارکنوں کا ہوتا ہے، مولانا لاکھ پرامن تحریک کی کوشش کرلیں مگر ان کی تحریک کے مطالبات ایسے نہیں کہ برسوں سے بیٹھی حکمران، بزنس اور سکیورٹی اشرافیہ ہنسی خوشی مان لے گی

اب تک تحریک کے لگ بھگ سو کارکن گرفتار ہیں، کچھ مزید ردعمل کے لیے بھی تحریک کو تیار رہنا ہوگا

اب ریاست پاکستان، سی پیک اتھارٹی، حکومت بلوچستان اور بلوچستان میں موجود سکیورٹی کے اداروں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا گوادر کے سپوتوں کو مزید ناراض رکھنا ہے، ان کی ناراضگی کی وجہ بننے والے مسائل کا حل ڈھونڈنا ہے یا پھر حق دو تحریک کو یا تحریک میں موجود جذباتی کارکنوں کو مزید مشتعل کرنا ہے

تکلیف تو ہوگی مگر بلوچستان کی خاطر اور سی پیک کے صدقے گوادر والوں کے ساتھ بیٹھنا تو پڑے گا، انہیں سننا تو پڑے گا اور بارگیننگ کے ساتھ ہی سہی ان کی ماننی بھی پڑے گی

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close