75 سالہ دولہا اور 70 سالہ دلہن نے اولڈ ہوم کو سویٹ ہوم بنا لیا

ویب ڈیسک

آپ نے رنبیر کپور کی ایک فلم کا وہ ڈائیلاگ تو سنا ہی ہوگا، جس میں وہ کہتا ہے ”22 تک پڑھائی، 25 تک نوکری، 26 تک لڑکی، 30 تک بچے، 60 تک ریٹائرمنٹ اور پھر موت کا انتظار۔ دھت۔۔۔! ایسی گھسی پٹی زندگی تھوڑی جینا چاہتا ہوں“

کئی لوگوں کو اس مکالمے میں اپنی زندگی کی کہانی دکھائی دے سکتی ہے، کیونکہ بہت سے لوگوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر ایسی ہی زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے معامالات میں بڑھاپے میں تنہائی کی وجہ سے لوگوں کی ذہنی صحت بھی متاثر ہوتی ہے

محبت کی شادی کے لیے ساتھی تلاش کرنا آج بھی ہمارے معاشرے میں ایک ’ٹیبو‘ یا ممنوع چیز سمجھی جاتی ہے۔ دوسرے طرف سماجی دباؤ کی وجہ سے، بہت سے بوڑھے لوگ تنہا زندگی گزارنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ آخرکار ان کی باقی زندگی ’موت کق انتظار‘ بن کر رہ جاتی ہے

لیکن بھارت کے علاقے کولہاپور کے ان دادا دادی جیسے کچھ لوگ ہیں، جو ایک مختلف راستہ اختیار کرنے میں نہیں ہچکچاتے۔ یہی وجہ ہے کہ کولہاپور کے اس بزرگ جوڑے کی شادی کا چرچا پوری مہاراشٹر ریاست میں ہو رہا ہے

یہ کولہاپور ضلع کے گاؤں گھوسرواڑ کی کہانی ہے۔ یہاں کے پچھتر سالہ بابو راؤ پاٹل اور ستر سالہ انوسایا شندے نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے

بابو راؤ کہتے ہیں ”شادی صرف جسمانی لذت یا اولاد پیدا کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ تو ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔ اسی لیے ہم نے اولڈ ایج ہوم میں رہنے کے باوجود اس عمر میں شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے“

ان کا مزید کہنا تھا ”اب جتنی زندگی ہمارے پاس ہے، ہم نے خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے“

کولہاپور ضلع کے شرالہ تعلقہ کے گھوسرواڑ میں جانکی اولڈ ایج ہوم اور اسکول گذشتہ سترہ سالوں سے چل رہا ہے۔ گاؤں کے سماجی کارکن بابا صاحب پجاری یہ اولڈ ایج ہوم چلاتے ہیں

مہاراشٹرا، کرناٹک ریاست کے تیس سے زیادہ بزرگوں کو اولڈ ایج ہوم میں پناہ دی گئی ہے۔ وہ مختلف حالات کی وجہ سے اپنی زندگی کی شام اولڈ ایج ہوم میں گزار رہے ہیں. بابو راؤ پاٹل اور انوسایا شندے بھی اسی جگہ رہتے تھے

اصل میں پونے کی رہنے والی انوسایا شندے شروع میں اپنے شوہر سری رنگ شندے کے ساتھ جانکی اولڈ ایج ہوم آئی تھیں

سری رنگ شندے اور انوسایا شندے نے پانچ سال قبل خاندانی وجوہات کی بنا پر پونے میں اپنا گھر چھوڑ دیا تھا۔ شروع میں کولہاپور میں رکڈی میں قیام کیا، یہاں ایک شخص نے کچھ دیر تک ان کی مدد کی۔ آخرکار یہ جوڑا بڑھاپے میں سہارا ڈھونڈتا ہوا جانکی اولڈ ایج ہوم پہنچا

ان دونوں نے اپنی باقی زندگی اسی اولڈ ایج ہوم میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اولڈ ایج ہوم میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ تاہم، چار ماہ قبل انوسایا کے شوہر سری رنگ شندے کی موت ہو گئی اور وہ تنہا رہ گئیں

انوسایا شندے اور ان کے شوہر سری رنگ شندے اولڈ ایج ہوم میں رہتے تھے۔ بابو راؤ پاٹل ڈیڑھ سال پہلے اس جگہ رہنے آئے تھے

ان کا اولڈ ایج ہوم تک کا سفر بھی دل دہلا دینے والا ہے۔ بابو راؤ کی بیوی کی موت کے بعد انہوں نے اپنے بچوں کو پالنے کے لیے سسرال میں چھوڑ دیا۔ لیکن وہاں سے ان کا اور بچوں کا رشتہ ٹوٹ گیا

اس دوران ان کا کاروبار بھی کورونا کے دور میں بند رہا۔ چونکہ انہیں سہارے کی ضرورت تھی، وہ کچھ عرصہ اپنے بڑے بھائی کے پاس رہے۔ لیکن بالآخر انھیں اولڈ ایج ہوم آنا پڑا

انوسایا شندے چار ماہ قبل اپنے شوہر کی موت کے بعد تنہائی کا شکار تھیں۔ دوسری طرف بابو راؤ کو بھی تنہائی کا سامنا تھا

14 فروری کو ’ویلنٹائن ڈے‘ کے موقع پر ہاٹکانگلے کے ایک کالج میں ایک اولڈ ایج ہوم کے ذریعے ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔ وہاں کا ماحول دیکھ کر بابو راؤ پاٹل نے دوبارہ شادی کرنے کا سوچا

چنانچہ، کالج سے پروگرام کے بعد، بابو راؤ دوبارہ اولڈ ایج ہوم پہنچے اور ایک نوجوان کی طرح انوسایا شندے کی پیشکش کر دی۔ انہوں نے انوسایا کو ایک گلاب بھی دیا۔۔۔۔ لیکن، انوسایا نے بابو راؤ کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا

انوسایا کے شوہر کی چار ماہ قبل وفات ہوئی تھی۔ وہ ابھی تک اس غم سے باہر نہیں آئی تھیں۔ اگرچہ انوسایا راضی نہیں ہوئیں، لیکن انظوں نے بابو راؤ سے کچھ دیر سوچنے کا وقت ضرور مانگا

اسی دوران اولڈ ایج ہوم کے ڈرائیور بابا صاحب پجاری کو اشارہ ملا کہ بابو راؤ پاٹل اور انوسایا شندے کے درمیان کچھ چل رہا ہے۔ تب پجاری نے انوسایا شندے سے پوچھا کہ کیا وہ بابو راؤ پاٹل سے شادی کرنا چاہتی ہیں؟

انوسایا شندے نے پجاری کو بتایا ”ہم نے ابھی تک اس خوف سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ معاشرہ کیا کہے گا، تنظیم کی انتظامیہ کیا کہے گی“

آخرکار پجاری نے دونوں کو اعتماد میں لیا اور ان کی شادی کے لیے مدد کی۔ انوسایا شندے بھی بابو راؤ سے شادی کرنے پر راضی ہو گئیں

انوسایا اور بابو راؤ کی شادی اولڈ ایج ہوم کے ذریعے ایک نئے جوڑے کی شادی کی طرح بہت ہی رسمی اور قانونی طریقے سے ہوئی تھی

شادی کے بعد بھی اس جوڑے نے اولڈ ایج ہوم میں رہنے کا انتخاب کیا ہے۔ اس لیے انوسایا اور بابوراؤ اپنی باقی زندگی ایک اولڈ ایج ہوم میں گزاریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close