کراچی کو درختوں کی مدد سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

علی اصغر ارباب

موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہو رہا ہے اور انسان کا رہن سہن بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ یوں موسمیاتی تبدیلی انسان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہر انسان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور گنجان آباد شہر بن رہا ہے، جہاں درخت کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے اور بڑے عمارتوں اور گنجان گھروں کے باعث اس شہر کو کنکریٹ کا جنگل کہا جا سکتا ہے۔

پہلے یہ شہر اپنے ٹھنڈی ہواؤں، خوشگوار موسم اور جگہ جگہ درختوں کے باعث ہرا بھر لگتا تھا، اب ٹھنڈی ہواؤں کی جگہ گرم ہوا، گھٹن، اور سخت گرمی نے لے لی ہے، جس کی بڑی وجہ بڑھتی آبادی، درختوں کی کمی اور کنکریٹ سے بنی عمارتیں ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جہاں پوری دنیا کا درجہ حرارت بڑھ گیا ہے، وہیں ساحل سمندر سے جڑے شہر کراچی کے بھی درجہ حرارت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی اور تپتے سورج کی سخت اور چھپتی شعاعوں نے اس شہر کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

آخر ٹھنڈی ہواؤں کا شہر کراچی اس نہج پر کیوں پہنچا۔ آئیے ان عوامل پر بحث کریں اور اس شہر میں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تجاویز دیں تاکہ ہر شہری اس شہر کی فضاؤں کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

کراچی شہر میں سب سے آسان کام درخت کاٹنا ہے۔ درخت کاٹنے پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ کبھی لوگ خود درخت کٹوا دیتے ہیں تو کبھی بلدیاتی ادارے کاٹتے ہیں۔ اگر دکان کا نام چھپ رہا تو درخت کو کاٹا جاتا ہے۔ اگر خدشہ ہو درخت گر کر گھر کو نقصان دے گا، اسے جڑ سے کاٹ دو۔ کسی سرکاری یا مذہبی ادارے کو سکیورٹی خدشہ ہے تو اس ادارے کے سامنے درخت کو کاٹا جاتا ہے۔ شہر بھر میں کسی بھی درخت پر بلدیاتی اداروں کی جانب سے نمبر نہیں لگائے جاتے ہیں اور نہ ہی درختوں کا کوئی رکارڈ رکھا جاتا ہے، جس کے باعث درخت کی کٹائی زیادہ آسان ہو گئی ہے۔ انڈیا کے شہر نئی دہلی میں سڑک پر لگے ہر درخت کو محفوظ بنانے کے لیے درخت پر نمبر لگائے جاتے ہیں۔

کراچی میں کسی نئے پروجیکٹ، عمارت اور سڑک کی تعمیر کے دوران راستے میں آنے والے ہر درخت کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ اس کٹائی کے بدلے میں اس ادارے یا نجی کمپنی کو نئے درخت لگانے کا پابند نہیں بنایا جاتا، جس کی وجہ سے کراچی میں درخت کی کٹائی نے شہر کو کنکریٹ کی عمارتوں کے شہر میں تبدیل کر دیا ہے۔ کراچی شہر میں ایک سو زیادہ بڑے پارکس ہیں جبکہ چھوٹی پارکس کی بھی بڑی تعداد ہے۔ بلدیاتی اداروں نے کارروائی کر کے زیادہ تر پارکس سے تجاوزات ختم کرا کر اب اسے قابل استعمال بنایا دیا ہے، جب کہ کئی پارک کھنڈر اور خالی پڑے ہیں۔

پرانے پارکس میں درختوں کی تعداد زیادہ ہے مگر نئے پارکس میں درختوں کی تعداد کم ہے، جبکہ پھولوں اور چھوٹے درختوں کی تعداد زیادہ ہے۔ پاکستان سے غریب ملک کرغزستان میں پارکس کی تعداد بھی زیادہ ہے جہاں بڑے اور قد آور درخت لگائے گئے تاکہ دن کے اوقات میں لوگ پارکس میں بیٹھ سکیں مگر کراچی میں زیادہ تر پارک دن کے اوقات میں ویران لگتے ہیں، جس کی وجہ درختوں کی کم تعداد ہے۔ کراچی میں بڑے گٹر نالے اور بارشی نہریں ہیں، جن کے کناروں پر پہلے درخت لگے ہوئے تھے مگر اب اس جگہ غیر قانونی قبضے کر کے آبادیاں قائم کر دی گئی ہیں اور نہروں کے کناروں پر گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں۔

شہر میں درختوں کی بے جا کٹائی، روک تھام کے حوالے سے قانون کے فقدان، اور کم عوامی آگاہی کے باعث یہ شہر درختوں کے بجائے عمارتوں کے شہر میں بدل گیا ہے۔ کنکریٹ سے بنی عمارتیں سورج کی آگ کو جذب کر کے شہر کا ماحول گرم کر رہی ہیں۔ درختوں کی کمی کے باعث گاڑیوں، گھروں اور فیکٹریوں میں جلنے والے ایندھن سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور زہریلی گیسز ہمارے ماحول میں خارج ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے شہر میں فضائی آلودگی دن بہ دن ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی خستہ حالی فضائی آلودگی کی ایک بڑی وجہ تھی، جس پر حکومت توجہ دے رہی ہے۔ گرین لائن، ریڈ لائن اور پیپلز بس سروس جیسے منصوبے قابل تعریف ہیں جس سے سڑکوں پر ٹریفک کا بہاؤ کافی کم ہوا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ شہر میں فضائی آلودگی کو کم کرنے مدد ملے گی۔ شہر میں درختوں کی کٹائی اور کمی کی ایک اور وجہ لوگوں میں درختوں کے بارے میں کم آگاہی ہے جس کی وجہ سے لوگ بے خوف درخت کاٹ بھی دیتے ہیں اور درخت کاٹنے والے کو روکتے بھی نہیں کیونکہ وہ درخت کو اپنی زندگی سے نہیں جوڑتے حالانکہ یہ درخت ہر شہری کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔

بلدیاتی اداروں اور کنٹومنٹ بورڈز کی جانب سے ہر سال شہر بھر میں درخت لگائے جاتے ہیں مگر کم دیکھ بھال کے باعث کم فیصد درخت زندہ رہ پاتے ہیں جبکہ کے زیادہ تر لوگوں کے پاؤں تلے مر جاتے ہیں یا پانی کی کمی کے باعث سوکھ جاتے ہیں۔ کراچی میں جانوروں کو گرین بیلٹ، سڑکوں اور آبادیوں میں آنے سے روکنے کے لیے قوانین تو موجود ہیں مگر عمل درآمد کے فقدان کے باعث شہر کی سڑکوں پر مویشی گرین بیلٹ میں درخت کھاتے نظر آتے ہیں اور متعلقہ ادارے مویشیوں سے درختوں کو بچانے کے لیے حرکت میں نہیں آتے جس کے باعث چھوٹے درخت بڑا درخت بننے سے پہلے ہی جانوروں کی خوراک بن جاتے ہیں۔

کراچی میں عید قربان کے موقع پر شہر میں لگے درختوں پر برے دن آتے ہیں جب پورا شہر مویشی منڈی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ لوگ مویشیوں کو چارے کے ساتھ ساتھ درخت کی ٹہنیاں کاٹ کر کھلاتے ہیں جسے کوئی روک بھی نہیں سکتا۔ یوں کئی درخت مویشیوں کا چارہ بن جاتے ہیں۔ خاص طور پر گرین بیلٹ پر لگے درخت سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں جنہیں کاٹنا بھی آسان ہے اور روکنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ شہر میں لگے بڑے درختوں کے سوکھنے کی وجہ ان درختوں کی سوکھی ٹہنیوں کی صفائی نہ ہونا ہے۔

بلدیاتی ادارے بڑے درختوں کی کٹائی کرتے ہیں جو ٹریفک کے لیے دشواری کا سبب بنتے ہیں یا ٹوٹنے کا خدشہ ہوتا ہے مگر بڑے اور پرانے درخت ان کی توجہ کا مرکز نہیں ہوتے۔ سوکھی ٹہنیاں درخت کی موت کی وجہ بنتی کیونکہ سوکھی ٹہنیوں میں کیڑے پرورش پاتے ہیں جس سے درخت دن بہ دن مرتا جاتا ہے۔ درختوں پر چونا اس وقت لگایا جاتا ہے جب کسی وقت کہیں کسی سرکاری تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ درختوں کی ہر سال جڑوں کو چونا نہیں لگایا جاتا جس سے نہ صرف درخت کو خوراک ملتی ہے بلکہ کئی اقسام کے کیڑوں کی پرورش کو روکتا ہے جس سے درخت کی عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

پارک میں لگے درختوں کو کھاد مل جاتی ہے مگر گرین بیلٹ میں لگے درخت کو کھاد نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے وہ درخت وقت گزرنے کے ساتھ کمزور ہو جاتے ہیں اور سوکھنے لگتے ہیں۔ کراچی میں ماضی میں بیرون ملک سے مینگروز کی نسل کارنوکوپس لگائی گئی جو ہرا بھرا تو رہتی ہے مگر دوسرے مقامی درختوں کے لیے موت کی وجہ بن گئی جس وجہ سے اس شہر میں مقامی درخت سوکھنے لگے یا ان کی گروتھ میں انتہائی حد تک کمی ہو گئی جس وجہ سے کراچی کے ماحول کو نقصان ہوا اور اب بلدیاتی حکومت ایسے درختوں کی کٹائی کر کے مقامی درختوں نیم اور دیگر اجناس کو ترجیح دے رہی ہے جو اچھا عمل ہے۔

کراچی کو موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے درختوں کی مدد سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔ درختوں کی کمی کو ختم کرنے کے وجوہات پر بحث کیا ہے اور اب ہم درختوں کی کٹائی کو روکنے اور درختوں کی تعداد بڑھانے کے لیے تجاویز دیں گے۔

1۔ درختوں کی کٹائی کو روکنے کے لیے بھاری جرمانے عائد کرنے کا قانون سندھ اسمبلی سے پاس کرایا جائے تاکہ اگر کوئی درخت کاٹنے کی جرات کرے تو اسے بھاری جرمانے کے ساتھ اس کی تصاویر بھی میڈیا میں شائع کی جائے۔ اگر کوئی دوبارہ یہ عمل کرے تو اسے اس جرم میں جھیل بھیج دیا جائے۔ جرمانے کی رقم ایک درخت کی مارکیٹ میں رقم سے دس گنا زیادہ ہونی چاہیے اور اس شخص کو اسی جگہ پر درخت لگانے کا پابند بنایا جائے۔ سرکاری ادارے کسی درخت کو کاٹنے سے پہلے ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا پر اطلاع کریں اور عوام کے رائے لیں۔ اس طرح عام آدمی بھی درخت نہیں کاٹیں گے اور بلدیاتی اور سرکاری اداروں کے ملازمین بھی درخت کی بے جا کٹائی کرنے سے گریز کریں گے۔

2۔ شہر کی بڑی شاہراؤں، گرین بیلٹ، پارکس، اور دیگر مقامات پر لگے درختوں کی نمبرنگ کی جائے اور سیٹلائٹ امیج اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے درختوں کی نگرانی کی جائیں اور اس کی رپورٹ اور تصاویر ہر ہفتے شایع کی جائے تاکہ عوام کو آگاہی مل سکے جس سے متعلقہ ادارے نگرانی کو موثر انداز سے سرانجام دیں گا۔ اس طرح درختوں کی تعداد کا پتہ چل سکے گا اور درختوں کی کٹائی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

3۔ کسی نئے نجی یا سرکاری منصوبے، سڑک، برج یا عمارت کی تعمیر کی صورت میں سب سے بڑی قربانی کراچی کے درخت دیتے ہیں جنہیں بغیر کسی خوف کے کاٹا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں بڑے درختوں کو جڑ کے ساتھ نکال کر کسی اوور جگہ منتقل کیا جائے۔ یہ کام کراچی کی ریڈ لائن بس کی تعمیر کے دوران دیکھا گیا جو حکومت کی اچھی کاوش ہے۔ ایسے اداروں اور منصوبے کے کنٹریکٹر کو کاٹے جانے یا منتقل کیے گئے درختوں کی تعداد کا تین گنا درخت کسی اور سڑک پر لگانے کا پابند بنایا جائے اور ایک سال تک ان درختوں کی دیکھ بحال کی ذمہ داری دی جائے۔ نجی منصوبوں اور رہائشی منصوبوں کی صورت میں نجی کمپنیوں اور بلڈرز کو پابند کیا جائے کہ وہ تین گنا درخت لگائیں گے۔ اس طرح کراچی میں درختوں کی کمی کو روکنے میں مدد ملے کی۔

4۔ کراچی کے پارکس کو دیکھا جائے تو وہاں درخت کی تعداد انتہائی کم نظر آئے گی اور عملے کی کوشش ہوتی ہے کہ سبزہ، پھول اور پودے زیادہ ہو۔ درختوں کی کم تعداد کے باعث یہ پارکس دن کے اوقات میں ویران نظر آتے ہیں۔ درخت زیادہ تر اگر لگائے جاتے ہیں تو سائیڈوں میں لگائے جاتے ہیں۔ بیروں ملک میں پارکس میں بڑے اور قد آور درخت لگائے جاتے ہیں اور گرمی اور دن کے اوقات میں لوگ پارکس میں نظر آتے ہیں۔ شہر کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچانے کے لیے پارکس میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے پر توجہ دی جائے تاکہ ہمارے ماحول میں بڑھتی گرمی کو روکا جا سکے اور یہ پارکس دن کے اوقات میں لوگوں کے لیے سکون اور تفریح کا باعث بن سکیں۔

5۔ کراچی میں گٹر نالوں اور بارشی نالوں کے کناروں پر بھی نیم اور مقامی درخت لگانے پر توجہ دی جائے جس سے نالوں کا گندا پانی درخت اگانے میں مددگار ہو سکے گا۔ زیادہ پانی درخت جذب کریں گے اور اس سے کم گندا پانی سمندر تک جا سکے گا۔ ان گھنے درختوں سے نالوں کے پشتے بھی مضبوط ہوں گے۔ سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں نے لیاری ندی کے کچھ حصے میں اربن فاریسٹ قائم کیا ہے اور وہاں درختوں کی تعداد بھی دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ برساتی نالوں میں اربن فاریسٹ کا قیام اچھا عمل ہے۔

6۔ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی خستہ حالی کے باعث کراچی کی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہو گیا تھا جن سے نکلنے والا دھواں درختوں کو موت کی طرف دھکیل رہا تھا اور درختوں کے پتوں پر دھویں کی کالی تہ جمنے سے درخت مرنا شروع ہو جاتے تھے۔ گرین لائن، زیر تعمیر ریڈ لائن، اور پیپلز بس سروس جیسے ٹرانسپورٹ کے منصوبوں سے کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کا بہاء کم ہوا ہے جو حکومت کا اچھا اقدام ہے جس کی اس شہر کی ترقی کے لیے شدید ضرورت تھی۔ پیٹرول کی قیمت بڑھنے کے باعث سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔ اس طرح سرکیولر ریلوے کا منصوبہ بھی مکمل ہو تو شہریوں کے لیے نہ صرف آسانی ہوگی بلکہ شہر میں فضائی آلودگی بھی کم ہو گی۔

7۔ موسمیاتی تبدیلی، شہر میں بڑھتی ہوئی گرمی اور درختوں کی اہمیت کے بارے میں لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی مہم ہر تین ماہ بعد چلائی جائے۔ اسکولوں، یونیورسٹیوں اور کالجز میں بچوں کو درخت لگانے کے لیے پروگرام کروائے جائیں اور بچوں سے درخت لگانے کے لیے فیلڈ ٹرپ کا انعقاد کیا جائے۔ تمام نجی اور سرکاری ادارے اس مہم میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے دفاتر میں درخت لگانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ شہر میں درخت لگانے کے لیے گرین والینٹرز کی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔

اسکاؤٹس کیمپ لگا کر درختوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ لوگوں کو درخت لگانے کے لیے پودے مفت یا کم سے کم قیمت پر فراہم کیے جائیں۔ دکانوں کے سامنے، فیکٹریوں اور کاروباری مراکز میں درخت لگانے اور ان کی دیکھ بحال کرنے والوں کو ٹیکس میں مراعات دی جائیں۔ درختوں کو گود لینے کے رجحان کو فروغ دیا جائے۔ درخت مہم کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھرپور تشہیر کی جائے۔ گھروں کے سامنے درخت لگانے کے عمل کو معاشرے میں اجاگر کیا جائے تاکہ معاشرے میں درخت کی اہمیت کے بارے میں لوگوں میں شعور اجاگر ہو سکے۔ گرین کراچی ایورڈز کرا کر ماحول دوست شہریوں، طالب علموں، تعلیمی اداروں، نجی اور سرکاری اداروں کو ایوارڈز دیے جائیں تاکہ کراچی میں درختوں کی آ بادی میں اضافہ ہو سکے اور شہر میں درخت اور ماحول دوست رجحان پروان چڑھے۔

8۔ ہر سال موسم بہار میں بلدیاتی اداروں اور کینٹومنٹ بورڈز کی جانب سے شہر کو سر سبز بنانے کے لیے نئے درخت لگائے جاتے ہیں جن میں زیادہ تر درخت پانی کی کمی اور دیکھ بحال کے فقدان کے باعث مر جاتے ہیں۔ درخت لگانا آسان ہے مگر اس کی پرورش ایسے کی جاتی ہے جیسے ماں بچے کی کرتی ہے۔ چھوٹی پودوں کو زیادہ پانی اور دیکھ بحال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ گرمی سے بچ سکے۔ اسی طرح سخت سردی میں پودوں کو سردی سے بچایا جاتا ہے۔

وقت پر کھاد اور بیماری کی صورت میں کیڑے مار اسپرے کیے جاتے ہیں۔ درخت بڑا ہونے کے بعد اسے دیکھ بحال کی کم ضرورت پڑتی ہے۔ بلدیاتی اداروں کو درختوں کی دیکھ بحال کے لیے مناسب وسائل خرچ کرنے چاہیے اور موسمیاتی تبدیلی کے کے اثرات سے بچنے کے لیے کراچی میں درخت لگانے اور ان کی دیکھ بحال کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے

9۔ کراچی شہر میں جگہ جگہ مویشی اور جانور نظر آتے ہیں جن کو روکنے کے لیے قانون تو موجود ہیں۔ مجھے موریشس جیسے چھوٹے ملک میں شہروں اور ہائے ویز پر کوئی مویشی اور جانور نظر نہیں آیا کیونکہ جانوروں کے لیے الگ کالونیاں بنائی گئی ہے اور کوئی شہر کے اندر مویشی نہیں پال سکتا۔ بدقسمتی سے کراچی ملک کا بڑا اور بین الاقوامی شہر ہے مگر اس شہر میں مویشی پالنے اور سڑکوں پر لانے کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں۔ لاکھوں روپے کی لاگت سے لگائے جانے والے درخت ہر سال گرین بیلٹ میں ان مویشی اور پالتو جانوروں کی خوراک بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے چھوٹے درخت مر جاتے ہیں۔ شہر میں مویشی پالنا ممنوع قرار دینا چاہیے اور خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانے کی سزا ہونی چاہیے۔ سڑکوں اور گلی محلوں میں چھوٹ چلنے والے جانوروں کو ضبط کر کے سرکاری آمدنی کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ شہر کے درخت اور پودے جانوروں کا چارہ بننے سے بچ سکیں۔

10۔ بلدیاتی ادارے اور کنٹونمنٹ بورڈز ہر سال درختوں کی کٹائی کرتے ہیں اور گھنے درختوں کی ٹہنیوں کو کاٹتے ہیں تاکہ کمزور درخت وزن کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو جو ایک قابل تحسین عمل ہے۔ کٹائی کے دوران بڑے اور پرانے درختوں پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے جہاں ٹہنیاں سوکھ جاتی ہے۔ سوکھی ٹہنیاں کیڑوں کی پرورش کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں سوکھی ٹہنیاں درخت کے موت کا سبب بنتی ہیں۔ بڑے درختوں کی سوکھی ٹہنیوں کو کاٹنے کے ساتھ درخت کے زخمی حصوں پر دوا لگائی جائے۔

چھوٹے اور بڑے درختوں کی تنے کو جڑ سے سال میں دو بار اگر چونا لگایا جائے تو اس سے درخت کیڑوں سے محفوظ رہے گا اور اس کی بڑھنے کی رفتار بھی تیز ہو جائے گی۔ شہر میں نالوں کے گندے پانی کو ٹریٹ کر کے درختوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کی گاڑیاں شاہراہوں پر درختوں کو پانی دیتے نظر آتی ہیں مگر بلدیاتی اداروں کو اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

11۔ اربن فاریسٹ کا قیام کراچی کی ضرورت ہے جس کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کے محکمہ جنگلات اور نجی اداروں نے شہر میں چند مقامات پر اربن فاریسٹ قائم کیے ہیں تا ہم ایسے اربن فاریسٹ کا قیام شہر کے مختلف علاقوں اور مقامات پر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہر میں بڑھتی گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے بہتر انداز اور منصوبہ بندی سے نمٹا جا سکے۔

12۔ شہر کی مارکیٹوں میں سب سے بڑے درخت دشمن لوگ چند دکاندار ہیں جو دکان کا نام چھپنے کے باعث درخت کاٹتے ہیں یا گرین بیلٹ میں لگا درخت تجاوزات میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور وہ سامان باہر نہیں رکھ پاتے تو ایسے حالات میں درخت کو کاٹ دیتے ہیں۔ دوسری طرف ایسے درخت دوست بھی دکاندار ہیں جو درخت کو زندگی سمجھتے ہیں اور دکان کے سامنے یا گرین بیلٹ میں لگے درخت کی دیکھ بحال کرتے ہیں۔ بڑی شاہراہوں پر موجود دکان کے سامنے یا گرین بیلٹ میں درخت لگانا اور اس کی دیکھ بحال دکاندار کی ذمہ داری قرار دی جائے اور اس ٹیکس میں بھی مراعات دی جائے تاکہ درخت لگانے کا رجحان بڑھے۔

موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر وفاقی و صوبائی حکومت، بلدیاتی ادارے اور کنٹونمنٹ بورڈز ان تجاویز کی روشنی میں اقدامات کریں تو وہ وقت دور نہیں جب ہم اس شہر کو ماضی کی طرح دوبارہ ہرا بھرا اور ٹھنڈی ہواؤں کا شہر بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

بشکریہ: ہم سب
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close