ڈیسک پر کام کرنے والے افراد کندھوں اور گردن کے درد سے جس طرح نجات پا سکتے ہیں؟

ویب ڈیسک

روزانہ میز کرسی پر بیٹھ کر گھنٹوں کام کرنے والے افراد کو گردن اور کندھوں میں درد کی شکایت ہو سکتی ہے، اگر اس درد پر دھیان نہ دیا جائے تو یہ مزید تکلیف دہ صورت اختیار کر سکتا ہے

کئی گھنٹوں تک ایک ہی جگہ پر لگاتار بیٹھ کر کام کرنے سے نہ صرف ’پوسچر‘ یعنی کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں جسم کی پوزیشن خراب ہوتی ہے، بلکہ اس سے گردن اور کندھوں کے پٹھے بھی متاثر ہو سکتے ہیں

اس ضمن میں سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کمر اور گردن کا درد ہوتا کیوں ہے؟

سڈنی ہیلتھ فزیوتھیراپی کے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے ”جسم کے ’پوسچرل پٹھے‘ کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں۔ جب آپ طویل عرصے کے لیے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے ہوتے ہیں تو یہ پٹھے تھک جاتے ہیں، جس کے سبب یہ آپ کی ریڑھ کی ہڈی پر زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں“

مضمون کے مطابق ”اگر آپ کی گردن کے پٹھے صحتمند ہیں تو آپ درد سے بچے رہیں گے، کیوں کہ یہ پٹھے ریڑھ کی ہڈی کو سہارا دیتے ہیں۔ اگر یہی پٹھے کمزور پڑ جائیں تو اس سے ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ پڑتا ہے، جس سے گردن میں اکڑن اور تکلیف کا سامنا ہو سکتا ہے“

البتہ اگر ہم اپنی عادات و اطوار میں چند تبدیلیاں لے آئیں تو اس سے گردن اور کندھوں کی تکلیف سے بچا جا سکتا ہے۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کے مطابق اگر آپ لیپ ٹاپ یا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پر کام کرتے ہیں تو آپ کو ان تجاویز پر عمل کرنا چاہیے

اول۔ ایسی کرسی کا استعمال کریں، جو کمر کو بہترین سپورٹ فراہم کرے جبکہ کمر کی طرف ایک چھوٹا تکیہ رکھنا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے

دوئم۔ اپنے مانیٹر کو اس طرح سیٹ کریں کہ وہ بالکل آپ کی آنکھوں کے سامنے ہی ہو

سوئم۔ بالکل سیدھا بیٹھیں اور سر کو آگے کی طرف جھکا کر نہ بیٹھیں

چہارم۔ اپنے کندھوں کو ریلیکس رکھیں اور کہنیوں کو جسم کے قریب رکھیں

پنجم۔ اس کے علاوہ اگر آپ فون کا استعمال کر رہے ہیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ موبائل کو سر اور کندھوں کے درمیان دبا کر بات نہ کریں

ششم۔ مسلسل ایک ہاتھ کا استعمال نہ کریں بلکہ وقفے وقفے سے ایک ہاتھ کو بدل کر دوسرے ہاتھ کا استعمال کریں یا اگر بیٹھے ہیں تو تھوڑی دیر کھڑے ہو جائیں، یہ تمام چیزیں بھی کمر اور ریڑھ کی ہڈی میں درد سے نجات میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close