بھارت میں درحقیقت کووڈ-19 سے کتنی اموات ہوئیں؟

ویب ڈیسک

عالمی ادرہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تازی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں کووڈ-19 سے سینتالیس لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں

واضح رہے کہ یہ تعداد سرکاری ریکارڈ سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہے، تاہم بھارتی حکومت نے ان اعداد و شمار کو مسترد کر دیا ہے

تو کیا دنیا کبھی یہ جان سکے گی کہ اس وبا میں درحقیقت کتنے بھارتی شہریوں نے اپنی زندگیاں گنوائی

نومبر سنہ 2020 میں تمام وجوہات سے ہونے والی اموات کے بارے میں تازہ ترین ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ورلڈ مورٹیلٹی ڈیٹا سیٹ کے محققین نے بھارت کے حکام سے کہا کہ وہ اس حوالے سے معلومات فراہم کریں، لیکن بھارت کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے نے کہا کہ اس کے پاس اس حوالے سے اطلاعات موجود نہیں

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کووڈ کی وجہ سے 2020 اور 2021 کے دوران عالمی سطح پر ہونے والی اضافی اموات کے تخمینے کے لیے قائم کردہ ایک مشاورتی گروپ کے رکن سائنسدان ایریل کارلنسکی، جنہوں نے ڈیٹا سیٹ کو مشترکہ طور پر تیار کیا، کہتے ہیں کہ زیادہ اموات اس بات کا ایک سادہ پیمانہ ہیں کہ پچھلے برسوں کے مقابلے میں کتنے لوگ توقع سے زیادہ مر رہے ہیں

ان کا اصرار ہے”اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان میں سے کتنی اموات کووڈ کی وجہ سے ہوئیں، لیکن انہیں وبائی امراض کے پیمانے اور تعداد کا ایک پیمانہ سمجھا جا سکتا ہے“

بھارت کی طرف سے سرکاری طور پر بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ اموات رکارڈ کی گئی ہیں

بھارت نے یکم جنوری 2020ع سے 31 دسمبر 2021ع کے درمیان چار لاکھ اکیاسی ہزار کووڈ اموات کی اطلاع دی تھی، لیکن ڈبلیو ایچ او کے اندازوں کے مطابق اصل تعداد اس سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہے

تنظیم کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کووڈ سے ہونے والی اموات کا تقریباً ایک تہائی کا تعلق بھارت میں ہے

لہٰذا بھارت ان بیس ممالک میں شامل ہے، جو تقریباً پچاس فیصد عالمی آبادی کی نمائندگی کرتا ہے جو اس مدت کے لیے متوقع عالمی اضافی اموات کا 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ تقریباً نصف اموات جو اب تک عالمی سطح پر شمار نہیں کی گئی تھیں وہ بھارت میں ہوئیں

عالمی ڈیٹا بیس سے اس کی عدم موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے پاس جو واحد قومی تعداد ہے جو زیادہ اموات کے ماڈل پر مبنی تخمینہ ہے۔ ان ماڈلز نے ریاستی سطح کے سول رجسٹریشن کے اعداد و شمار، بیماری کے مطالعہ کا عالمی بوجھ، ایک آزاد نجی پولنگ ایجنسی کے ذریعہ رپورٹ کردہ اموات اور کووڈ سے متعلقہ دیگر پیرامیٹرز کو دیکھا

اس ہفتے کے اوائل میں حکومت نے سول رجسٹریشن کے اعداد و شمار جاری کیے جس میں سنہ 2020 میں 81 لاکھ اموات ظاہر کی گئیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں چھ فیصد زیادہ ہیں

بھارت کے سرکاری عہدیداروں نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام 474,806 اضافی اموات کو کووڈ سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق سنہ 2020 میں انڈیا میں کووِڈ سے تقریباً 149,000 افراد ہلاک ہوئے

ٹورنٹو میں سینٹر فار گلوبل ہیلتھ ریسرچ کے ڈائریکٹر اور ڈبلیو ایچ او کے اضافی موت کے حساب کتاب کی حمایت کرنے والے ماہر ورکنگ گروپ کے رکن پربھات جھا کہتے ہیں کہ ’بنیادی طور پر کووڈ سے بھارت میں اموات کی شرح غیر معمولی طور پر کم نہیں تھی، بلکہ صرف غیر معمولی طور پر کم شمار کی گئی تھی۔‘

’تین بڑے مطالعات سے پتا چلا کہ ستمبر 2021 تک وبائی امراض سے بھارت میں ہونے والی اموات ’سرکاری طور پر اطلاع دی گئی رپورٹ سے چھ سے سات گنا زیادہ تھیں۔‘

بھارت نے مسلسل ان اندازوں کو مسترد کیا ہے جو بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ کووڈ کا مقابلہ کرنے کے حکومت کے فاتحانہ بیانات کے بالکل برعکس ہیں

حکام نے انھیں ’غلط معلومات اور شر پسند‘ قرار دیا اور الزام لگایا ہے کہ اس کے طریقہ کار اور ریسرچ میں خامیاں تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اموات کو کم ریکارڈ کرنے کا امکان کم سے کم تھا

کارلنسکی کا کہنا تھا کہ ’مجھے ڈر ہے کہ اب تک ڈیٹا دستیاب ہونے کے باوجود بھی حکومت اسے عام کرنے میں ہچکچائے گی کیونکہ یہ ان کے شائع شدہ اعدادوشمار اور اس بیانیے سے متصادم ہے کہ بھارت نے مختلف وجوہات کی وجہ سے کووڈ کو شکست دے دی۔‘

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے بھی کہا گیا ہے کہ حکومت نے کورونا سے ہونے والی اموات کے سرکاری اعداد و شمار حقیقی تعداد سے 8 گنا کم جاری کئے

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ کورونا سے اموات کی تعداد کے تعین کے لئے ہم نے قبرستان ریکارڈ کو ہ اپنے سسٹم سے چیک کیا، ہمارا کورونا اموات کا رکارڈ درست تھا

ڈاکٹر فیصل سلطان نے مزید کہا کہ کورونا اموات کا ریکارڈ سو فیصد درست ہونا ممکن نہیں، اس میں کمی ہوسکتی ہے، لیکن 8 گنا اضافہ ناقابل یقین ہے

ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کی بنیاد فرضی اعداد و شمار پر مبنی ہے، اس کے اعداد و شمار مستند نہیں ہیں

ڈاکٹر فیصل  نے کہا کہ بھارت میں آکسیجن کی سپلائی میں مسائل پیدا ہوئے، ہمیں آکسیجن اور بیڈ کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑا

مشیگن یونیورسٹی کے پروفیسر بھرامر مکھرجی کہتے ہیں کہ ’ڈیٹا کی کمی اور واضح نہ ہونا بھارت میں وبائی بیماری کی خصوصیات رہی ہیں، ڈیٹا کے معیار کو بہتر نہ کرنے یا ڈیٹا کو دستیاب نہ کرنے کے بارے میں بھارت میں اکثر غیر معمولی اور غیر سنجیدہ تکبر پایا جاتا ہے۔‘

دوسروں کو وبائی بیماری کی حقیقت کو واضح نہ کرنے کی بھارت کی ضد پر اسرار لگتی ہے

ایک طریقہ جس سے بھارت کووڈ سے مرنے والے لوگوں کی تعداد پر کافی تیزی سے گرفت حاصل کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ آنے والی مردم شماری میں ایک سادہ سا سوال شامل کیا جائے کہ کیا یکم جنوری 2020 سے اب تک آپ کے گھر میں کوئی موت ہوئی تھی؟

اگر ہاں تو براہِ کرم ہمیں مرنے والے کی عمر اور جنس اور موت کی تاریخ بتائیں۔ ڈاکٹر جھا کا کہنا ہے کہ ’یہ وبائی امراض کے دوران زیادہ اموات کا براہ راست تخمینہ فراہم کرے گا‘

صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے موت اور بیماری کے بارے میں معلومات بہت اہم ہوتی ہیں۔ سنہ 1930 کی دہائی میں امریکہ اور برطانیہ میں مردوں میں پھیپھڑوں کے کینسر سے ہونے والی اموات کی شرح میں ایک بڑے اضافے سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس کی بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے

سنہ 1980 کی دہائی میں سان فرانسسکو میں نوجوان ہم جنس پرست مردوں کی اموات میں اضافے کو موت کے اندراج کے نظام نے اٹھایا اور اس کی وجہ سے ایچ آئی وی/ایڈز کی شناخت کی گئی، جو ایک عالمی وبا کے آغاز کا اشارہ تھا

پروفیسر مکھرجی کہتے ہیں ”بھارت کو وبائی امراض کے دوران اموات کے تمام اعدادوشمار جاری کر کے اپنے ناقدین کو خاموش کرنا چاہئے۔ سائنس کا مقابلہ سائنس کے ساتھ کریں اور تمام قومی ڈیٹا مہیا کریں‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close