امریکی قانون سازوں کا عراق میں امریکہ کی ’جنگ‘ ختم کرنے کا اقدام..

ویب ڈیسک

عراق پر امریکی حملے کو بیس سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اس موقع پر امریکی قانون ساز اس ہفتے ایک اہم قدم اٹھانے جا رہے ہیں، جس کا مقصد عشروں سے جاری اس صدارتی اختیار کو ختم کرنا ہے، جس کے تحت امریکی صدر جنگ کی اجازت دینے کا مجاز ہے

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کانگریس کی اتھارٹی پر زور دینے والی اس کوشش کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی سینٹ میں اکثریتی لیڈر چک شومر نے اس دو طرفہ کوشش کو سراہتے ہوئے پچھلے ہفتے سینیٹ میں کہا تھا ’’ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں ایک نتیجے پر پہنچے ہیں اور وہ یہ کہ ہمیں عراق کی جنگ کو اب ہمیشہ کے لیے پسِ پشت ڈال دینا چاہیے اور ایسا کرنے سے مراد یہ ہے کہ ہمیں اس قانونی اختیار کو ختم کر دینا چاہیے، جس کے تحت جنگ کا آغاز کیا جاتا ہے“

امریکی قانون سازوں نے 2001 اور 2002 میں فوجی طاقت کے استعمال کے اختیار یا AUMF کو ختم کرنے کے لیے حالیہ برسوں میں متعدد بار کوشش کی ہیں۔ اس اختیار کی منظوری 2001ع میں دی گئی تھی۔ اس کے تحت امریکی صدور کو فوجی آپریشنز کی اجازت کا اختیار دے دیا گیا تھا، جسے وہ کانگریس کی جانب سے منظوری کے آئینی حق کے بغیر استعمال کر سکتے تھے

اب تک ایسی ہر کوشش اس جواز کے ساتھ ناکام ہو گئی کہ ایسے اختیارات کے خاتمے سے ’امریکہ کی قومی سلامتی اور بیرونِ ملک تعینات امریکی فوجیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے‘

عراق میں 2003ع میں جنگ کی اجازت کے اختیار کو ختم کرنے کے علاوہ اس ہفتے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سامنے ایک اور قانون بھی زیر غور ہوگا کہ وہ 1991ع میں دیے گئے اس اختیار کو بھی ختم کریں، جس کے تحت اس وقت کے صدر جارج ہربرٹ واکر بش نے عراق میں فوج بھیجنے کی اجازت دی تھی

اس قانون کو پیش کرنے والے معاون شریک ری پبلکن سینیٹر ٹوڈ ینگ نے ایک بیان میں کہا ہے ’’عراق مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے میں امریکہ کا اہم حلیف ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان قوانین کی وجہ سے تیکنیکی طور پر عراق ابھی بھی امریکہ کا دشمن ہے‘‘

سینیٹر ٹوڈ ینگ مزید کہتے ہیں ’’اس غلطی کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس کو بہرصورت اپنا فرض ادا کرنا چاہیے اور سنجیدگی سے یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ امریکہ کسی جنگ کا فیصلہ نہ کرے اور بھرپور انداز میں یہ کہے کہ ہم جنگ نہیں کر رہے۔‘‘

دونوں پارٹیوں کے صدور نے 2002 میں جنگ کی اجازت دینے والے اختیار کو اس کے اصل مقصد سے ہٹ کر فوجی اقدام کے جواز کے لیے استعمال کیا ہے

2014ع میں ڈیموکریٹک صدر براک اوباما نے کانگریس کی منظوری کے بغیر عراق اور شام میں داعش کے خلاف فوجی حملوں کے لیے اس اختیار کو جواز بنایا

اب امریکی قانون سازوں کی ایک بڑی تعداد یہ دلیل دیتے ہوئے اس قانون کی حمایت کر رہی ہے کہ کانگریس نے عشروں تک اپنی آئینی ذمے داریوں سے غفلت برتی ہے ۔کانگریس نے 1942میں رومانیہ، بلغاریہ اور ہنگری کے خلاف جنگ کا اعلان کرنے کے لیے با ضابطہ طور پر اپنے اختیارات کا استعمال کیا تھا ۔ اس کے بعد اس نے اپنا یہ اختیار امریکی صدور کو بڑے اختیارات کے ساتھ منتقل کر دیا

ڈیموکریٹک سینیٹر بھی اس قانون کو پیش کرنے والوں میں شامل ہیں اور ان کا کہنا ہے ’’جنگ شروع کرنے اور اسے ختم کرنے کی ذمہ داری کانگریس پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اپنے فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مضمرات پر محتاط انداز میں غور و فکر کی ضرورت ہے‘‘

خارجہ تعلقات کی کمیٹی سے منظوری کے بعد اسے سینیٹ میں بھیجا جائے گا، جہاں ڈیموکریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل ہے اور توقع ہے کہ اسے ریپبلکنز کی درکار حمایت حاصل ہو جائے گی

تاہم رپبلکن اکثریت والے ایوان نمائندگان میں اس اختیار کے خاتمے کے امکانات نسبتاً محدود ہو جائیں گے۔ ایوان کے اسپیکر کیون میکارتھی کہتے ہیں کہ وہ ترمیمی عمل کی اجازت دیں گے، جس سے مراد یہ ہے کہ سینیٹ سے اس اختیار کے خاتمے کی منظوری کو اس سال کے آخر میں سوچ بچارکے لیے نیشنل ڈیفنس آتھارائزیشن کے سالانہ عمل میں شامل کر دیا جائے گا

ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ایوان میں جون 2021 میں اس اختیار کو ختم کرنے کی منظوری ایک ووٹ کی برتری سے دے دی گئی تھی لیکن اس وقت اسے سینیٹ سے منظوری حاصل نہیں ہوئی تھی۔ 2001 میں افغانستان میں جنگ کی اجازت کا اختیار بدستور ایک قانون ہے جسے پہلے کی گئی کوششوں کے باوجود ختم نہیں کیا جا سکا

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے سات مارچ منگل کے روز بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے عراق کے وزیر اعظم محمد شیعہ السودانی سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عراق پر امریکی حملے کی بیسویں برسی کے موقع پر ’تعلقات کو مضبوط اور وسیع کرنے‘ کی امید رکھتے ہیں

آسٹن نے عراق کے وزیر اعظم سے کہا ”امریکی فورسز بغداد کی ’دعوت‘ پر عراق میں رہنے کے لیے تیار ہیں“

واضح رہے کہ اب بھی تقریباً ڈھائی ہزار امریکی فوجی عراق میں تعینات ہیں۔ امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے ”عراق میں اتحادی افواج کی موجودگی سے ملک ریاستی اور غیر ریاستی عناصر سے محفوظ رہے گا“

سن 2003 میں جب سے امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹا تبھی سے ملک میں طاقت کا ایک ایسا خلا پیدا ہوا کہ اس کی وجہ سے خطے میں اب بھی سلامتی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے

عراق میں امریکی فوجیوں کی مسلسل موجودگی پر امریکہ اور عراق دونوں میں ہی رائے بھی منقسم ہے

امریکی وزیر دفاع اور سودانی نے عراق کے خود مختار کرد علاقے کے صدر نیشروان برزانی سے بھی ملاقات کی۔ آسٹن نے برزانی کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا ”اربیل اور بغداد کو تمام عراقیوں کی بھلائی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے اور کرد رہنماؤں کو اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر ایک محفوظ اور خوشحال عراقی کرد علاقے کی تعمیر کے لیے متحدہ ہونا چاہیے“

بہت سے دیگر اختلاف کے ساتھ ہی اربیل اور بغداد ایک طویل عرصے سے عراق کے بجٹ اور قومی و علاقائی حکومتوں کے درمیان تیل کی آمدن کے اشتراک کے مسئلے پر جھگڑتے رہے ہیں

امریکی حملے کے بعد سے ہی عراق کو دو دہائیوں سے افراتفری اور بد نظمی کا سامنا ہے۔ جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف اپنی نام نہاد جنگ کے لیے 20 مارچ سن 2003 کو عراق پر ایک انتہائی متنازعہ حملہ شروع کرنے کا انتخاب کیا

امریکہ نے اس کے لیے یہ بے بنیاد جواز پیش کیے تھے کہ صدام حسین کی حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ اس پر بہت سے لوگوں کو اعتراض بھی تھا، تاہم بش انتظامیہ نے اسی کو بنیاد بنا کر حملہ کیا

عراق پر صدام حسین کی قیادت میں سنیوں کی حکومت تھی اور ان کی معزولی کے بعد سے مختلف اختیارات کی تقسیم کے انتظامات کے تحت اب تک کئی حکومتیں اقتدار سنبھالتی رہی ہیں۔ اس میں سے بیشتر حکومتوں کے عراق کے شیعہ ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں

عراق میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہونے کے باوجود امریکی حملوں اور صدام حسین کے دور کے خاتمے کے بعد سیکورٹی کی صورتحال کے عدم استحکام اور سیاسی تعطل کی وجہ سے انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات میں سرمایہ کاری نہیں ہو سکی ہے، اس لیے ملک میں شدید قسم کی غربت کا ماحول ہے

لائیڈ آسٹن ہی عراق میں امریکی افواج کے آخری کمانڈنگ جنرل تھے اور اب انہوں نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں بطور وزیر دفاع بغداد کا دورہ کیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close