سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط39)

شہزاد احمد حمید

مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی، ”میں یہاں سے ہزارہ وادی کی جانب گھوم جاؤں گا اور تم راستہ بدل کر حسن ابدال سے گھومتے ہوئے مجھے ’چھچھ‘ کے میدان میں آن ملو گے۔ یہاں سے ہم اٹک چلیں گے جو میرا اور دریائے کابل کا سنگم ہے۔۔

”میں ہری پور کے مضافات میں داخل ہو رہا ہوں۔ اونچے پہاڑوں، سنگلاخ چٹانوں سے گزرتا، چھوٹی پہاڑیوں سے راستہ تلاش کرتا ہری پور کے قریب سے بہتا تربیلا پہنچا ہوں۔ تربیلا کے مقام پر ایک بڑی جھیل بنا کر دنیا کا سب سے بڑا مٹی کا ڈیم ’تربیلا ڈیم‘ کو جنم دیتا ہوں۔ (سطح زمین سے اس کی بلندی چار سو اٹھاسی (488) فٹ بلند ہے)۔ یہاں چار ہزار پانچ سو (4500) میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے۔ ڈیم تعمیر کرنے کے لئے ایک سو پنتیس (135) دیہاتوں کی بیاسی (82) ہزار ایکڑ زمین سرکاری طور پر حاصل کی گئی تھی۔۔ یہ کثیر المقاصد ڈیم منگلہ ڈیم سے دو گنا، اسوان ڈیم (مصر) سے تین گنا اور مٹی کی بھرائی کا دنیا کا سب سے بڑا ڈیم ہے۔ اٹلی اور فرانس کی چھ کمپنیوں کے کنسورشیم کا جوائنٹ ونچر۔ 1976؁ء میں مکمل ہوا۔ اس کی جھیل دو سو چھپن (256) مربع کلو میٹر میں پھیلی ہے اور اس میں ایک کروڑ دس لاکھ ہیکٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ڈیم کی کل عمر پچاسی (85) برس ہے۔ وقت نے اس میں پانی ذخیرہ کر نے کی گنجائش capacity) تنتیس (33) فی صد کم کر دی ہے۔“

تربیلا سے نکل کر سندھو وادی گندھارا میں داخل ہوتا ہے۔ مجھے سندھو کی آواز سنائی دی، ”چلو! تمہیں کچھ گندھارا وادی کے بارے بھی بتاتا چلوں، کیا یاد کرو گے دوست۔۔ گندھارا اس قدیم وادی اور تہذیب کا نام ہے، جو موجودہ پاکستان کے شمال مغرب سے شمال مشرقی افغانستان کے کچھ حصوں پر پھیلی تھی۔ سوات ریور اور پشاور وادی اس کا مرکز تھی جبکہ ’عظیم گندھارا‘ میرے (سندھو) پار ٹیکسلا تک پھیلا تھا۔ کشان دور سلطنت میں ہندوستان میں پھیلنا شروع ہوئی اور موریہ دور حکومت میں یہ بام عروج کو پہنچی۔ ریگ وید اور آتش پرستوں کی کتاب ’اوستا‘ میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ ’ہن قوم‘ کے دور اقتدار میں زوال پذیر ہونے لگی اور 1001؁ء میں سلطان محمود غزنوی کے دور حکومت میں گندھارا کا نام لگ بھگ مٹ ہی گیا تھا۔ سنسکرت میں یہ تہذیب ’گندھارا‘ اوستا میں ’وکرتیا‘ جبکہ قدیم فارسی میں ’گادرا‘ کے ناموں سے جانی جاتی رہی ہے۔ موجودہ چارسدہ، پشاور، سیالکوٹ، سوات اور افغانستان کا شہر باگرام اس میں شامل تھے۔“

یہاں دریائے کابل سندھو میں ملتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ جنگلوں میں گھرا دلدلی علاقہ تھا، جہاں ہاتھی گینڈے اور شیر بھی پائے جاتے تھے۔ یہاں سے کئی ہزار سال پرانے ہتھیار اور قدآور جانوروں کی باقیات ملی ہیں۔ جنہیں قدیم پتھریلی عمارتوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر وادی سون کا علاقہ ان سے بھرا ہے۔ سندھو کے مشرقی کنارے سے صدیوں سے نمک نکالا جا رہا ہے۔

تربیلا سے اوپر سندھو کے دائیں کنارے وسیع علاقے میں پٹھان آباد ہیں۔ بیشتر علاقہ بیابان اور اجاڑ چٹانوں پر مشتمل ہے۔ جس میں بلند عمودی چٹانیں اور بل کھاتی چوٹیاں ہیں۔ یہ علاقے رہزنوں اور قزاقوں کے لئے موزوں ہیں۔ یہاں قبائلی باشندے عقابوں کی طرح ان چوٹیوں پر بیٹھ کر کسی بھی فوجی یا عام قافلے کی طاق میں رہتے اور کسی بھی قافلے کا راستہ روک سکتے تھے اور ہیں۔ ماضی میں انہوں نے بڑے بڑے فوجی حملہ آوروں کو یہاں بے بس کر دیا تھا۔ ناکام ہونے والوں میں ماضی بعید میں انگریز اور ماضی قریب میں روس اور حال ہی میں امریکہ جیسی سپر طاقتیں شامل ہیں۔

سطح مرتفع پوٹھوہار میں پہاڑ سندھو سے دور ہٹ جاتے ہیں۔ ان پہاڑوں میں واقع دروں سے ہندو کش سے پار حملہ آور برصغیر آتے رہے ہیں۔ اس خطے میں جھاگ اڑاتے برساتی نالے، جھلسا دینے والی دھوپ اور سرخ چٹانوں پر جا بجا جڑی بوٹیاں اُگی ہیں۔ یہاں مغرب سے آتا دریائے کابل وادی پشاور کو جنم دیتا سندھو میں اپنے بھورے رنگ کا پانی ڈالتا ہے۔ جو کافی دور تک علیحدہ علیحدہ ہی بہتے اور پھر ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں۔ اس سے ذرا اپ اسٹریم ’مہو ڈنڈ‘ جھیل سے پھوٹنے والا ’دریائے سوات‘ صوابی سے پہلے سندھو میں شامل ہوتا ہے۔ پشاور یہاں سے زیادہ دور نہیں۔ پرانے وقتوں میں وسط ایشیاء سے تجارتی قافلے اسی شہر سے آتے تھے۔ یہ سیلابوں کی سر زمین ہے۔ ٹیکسلا بھی قریب ہی آباد ہے۔گوتم بدھ کے مذھب کے حوالے سے ٹیکسلا کو بہت اہمیت ملی اور یہ علم کا بڑا مرکز رہا ہے۔ یہاں کی عظیم درس گاہ کے آثار آج بھی موجود اس کی عظمت رفتہ کی یاد دلاتے ہیں۔ ان آثاروں کو ’گورستانی تہذیب‘ کا نام دیا گیا ہے۔ زیادہ تر حملہ آور اسی راستے سے برصغیر آئے۔ خواہ وہ غزنوی ہو، غوری ہو، منگول ہو یا کوئی اور۔ جلال الدین خوازرم شاہ بھی منگولوں سے بچ کر ایک بلند چٹان سے چھلانگ لگا کر فرار ہوا اور چنگیز خاں دیکھتا رہ گیا۔ مغل بھی اسی راستے سے آئے اور ان کے زوال کے بعد نادر شاہ اور احمد شاہ بھی اسی راستے سے حملہ آور ہوئے۔ احمد شاہ نے ہی پنجاب کو رنجیت سنگھ جیسا حکمران دیا۔ آزاد سکھ حکومت کے اس بانی نے پنجاب کی سرحدیں پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خاں تک بڑھا دیں لیکن اس کی مملکت اس کی موت کے چند سال میں ہی مٹ گئی۔ رنجیت سنگھ کو کچھ مورخ غاصب اور خاص طور پر مسلمانوں کے تاریخی ورثہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والے کے طور بھی جانتے اور لکھتے ہیں۔ اس میں شاید شک بھی نہیں ہے۔ اس کا لاہور کے شاہی قلعے، بادشاہی مسجد، درگاہ میاں میر ؒ اور پنجاب کی دوسری تاریخی عمارات کو برباد کرنے میں کردار رہا ہے۔ اس دور کے ہر حکمران کے اچھے اور برے پہلو ہوتے تھے، اس لحاظ سے دور جدید میں بھی کچھ زیادہ نہیں بدلہ ہے۔ اسے ہم اگر ’تعصب‘ کا نام دیں تو شاید زیادہ مناسب ہو گا۔یہ تعصب آج کی مہذب دنیا میں ماضی کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے اس جدید دنیا کی دوغلی پالیسی اس تعصب کی زندہ مثال ہے

پشاور کے مشرق میں بالائی میدانوں میں سندھو پھیل کر اتھلا بہتا ہے۔ پشاور پاکستان کا قدیم ترین شہر ہے۔ یونانی، عربی، چینی مورخین اور سیاحوں نے اپنی کتب میں اس کا ذکر بڑی شان سے کیا ہے۔ اس کے پرانے نام بھی عجیب ہیں جیسے لپسکا پورس، پرشاد، پوش پور، وغیرہ۔ اٹک سندھو کے کنارے آباد ہے۔ دریائے کابل کا پانی گاڑھا سرخی مائل جبکہ سندھو کا مٹیالہ ہے۔ یہاں سطح مرتفع پوٹھوہار ختم ہوتی ہے اور دریا کالا چٹا پہاڑی سلسلہ کے تنگ دروں سے گزرتا ہے۔ گرمیوں میں یہ منہ زور گھوڑے کی طرح گرجتا، چھینٹے اڑاتا، چکر لگاتا، جھاگ بناتا پہاڑوں کو کاٹتا گزرتا ہے۔ یہاں یہ اتنا پر اثر ہے کہ مقامی لوگ اسے ’اباسین‘ یعنی دریاؤں کا باپ کہتے ہیں

ہم ایک ڈھابہ ہوٹل رکے ہیں۔چائے کے انتظار میں ہیں۔ (جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ’بُک ہوم‘ نے شائع کی ہے، جسے ادارے اور مصنف کے شکریے کے ساتھ سنگت میگ میں قسط وار شائع کیا جا رہا ہے. سنگت میگ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close