’ہواوے‘ کا پہلا سیٹلائٹ نیٹ ورک پر چلنے والا فون متعارف، چینی پابندی سے ایپل کو دھچکا!

ویب ڈیسک

چینی اسمارٹ کمپنی ’ہواوے‘ نے امریکا سمیت دیگر ممالک کی پابندیوں اور مشکلات کے باوجود سیٹ ملائٹ نیٹ ورک پر چلنے والا پہلا اسمارٹ فون متعارف کرا دیا ہے

’ہواوے‘ نے ’میٹ 60 پرو پلس‘ کو نہ صرف فائیو جی سپورٹ کے ساتھ پیش کیا ہے، بلکہ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ فون سیٹلائٹ موبائل نیٹ ورک پر بھی چلے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عام موبائل نیٹ ورکس کی ضرورت کو ختم کر دے گا

تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’ہواوے: میٹ 60 پرو پلس‘ کن کن ممالک اور خطوں میں سیٹلائٹ نیٹ ورک پر کام کر سکتا ہے

کمپنی کے مطابق مذکورہ فون چین کی جانب سے 2016 میں متعارف کرائے گئے موبائل نیٹ ورک سیٹلائٹ ’تیانٹونگ‘ (Tiantong satellite) پر چلے گا

یہ ایک سیٹلائٹ موبائل مواصلاتی نظام ہے جو آزادانہ طور پر تیار کیا گیا ہے۔ یہ ایک اسپیس سیگمنٹ، ایک گراؤنڈ سیگمنٹ، اور یوزر ٹرمینلز پر مشتمل ہے۔ فی الحال، ان میں سے تین سیٹلائٹس مدار میں ہیں

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ سیٹلائٹ پر سگنل کوریج پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس سے یہ پہاڑوں، سمندروں، سطح مرتفع، جنگلات اور دیگر منظرناموں میں بغیر کسی رکاوٹ کے جڑ جاتا ہے

اس انقلاب کے ساتھ، تازہ ترین سیٹلائٹ کالنگ ایک بڑی کامیابی کے طور پر سامنے آئی ہے

یہ کمپنی کا پہلا فون ہوگا، جو سیٹلائٹ نیٹ ورک پر بھی چلے گا، تاہم اس کے علاوہ فون عام موبائل نیٹ ورکس پر بھی کام کرے گا اور ساتھ ہی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس سے ڈاؤن لوڈنگ کی رفتار بہتر بنائی گئی ہے

یعنی مذکورہ موبائل سے صارف جب بھی کوئی چیز ڈاؤن لوڈ کرنا چاہے گا تو فون دیگر فونز کے مقابلے تیزی سے ڈاؤن لوڈنگ کرے گا

’ہواوے: میٹ 60 پرو پلس‘ کو 12 جی بی ریم اور 256 جی بی میموری کے ساتھ متعارف کرایا ہے اور اس میں بھی کمپنی نے اپنا ہی آپریٹنگ سسٹم یعنی ’ہارمنی او ایس‘ دیا ہے

فون 13 میگا پکسل کے اپگریڈ ٹیکنالوجی کے حامل سیلفی کیمرے اور تین بیک کیمراؤں سے لیس ہے، جن میں سے دو کیمرا 48 میگا پکسل کے ہیں، جبکہ تیسرا 40 میگا پکسل کا ہے

فون میں فنگرپرنٹ سینسر سمیت چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی بھی دی گئی ہے اور اس میں 5 ہزار ایم اے ایچ بیٹری کو 44 واٹ فاسٹ چارجر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے

فون میں وائرلیس چارجر بھی دیا گیا ہے اور اس کی اسکرین 8۔6 انچ رکھی گئی ہے۔

فون کو فوری طور پر فروخت کے لیے پیش نہیں کیا گیا، تاہم دنیا بھر کے صارفین کمپنی کی ویب سائٹ پر اسے آن لائن خرید سکیں گے۔

اس کی قیمت پاکستانی دو لاکھ نوے ہزار روپے تک رکھی گئی ہے، یعنی اس کی قیمت ایک ہزار امریکی ڈالر سے کچھ کم ہے۔

ہواوے کے فائیو جی اسمارٹ فون کی واپسی پورے نیٹ ورک کے جوش کا سبب کیوں ہے؟

آئیے پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں۔ 2019 میں ہواوے موبائل فونز نے 240 ملین یونٹس کی فروخت کے ساتھ ایپل موبائل فونز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اسمارٹ فونز کی دنیا میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ مئی 2019 میں ، امریکہ نے نام نہاد قومی سلامتی کے بہانے ہواوے کی سپلائی چین پر ایک جامع کریک ڈاؤن نافذ کیا، جس میں عالمی کمپنیوں کو ہواوے کو مخصوص اجزاء اور ٹیکنالوجیز فروخت کرنے سے روک دیا گیا۔ یہاں تک کہ ہواوے کے خود ساختہ ہائی اینڈ موبائل فون چپس کے لئے بھی ، امریکہ کی جانب سے کسی بھی ایسی کمپنی پر سخت پابندی عائد ہے جو ہواوے کی پیداوار اور فراہمی کے لئے امریکی ٹیکنالوجی یا اسپیئر پارٹس کا استعمال کرتی ہے۔ ہواوے کو فائیو جی موبائل فونز کی پیداوار کو روکنا پڑا جس کے نتیجے میں ہواوے کی عالمی موبائل فون کی فروخت کی رینکنگ دوسرے نمبر سے گر کر 20 سے بھی نیچے چلی گئی ۔ تاہم چین کی ثابت قدمی امریکہ کے لیے غیر متوقع تھی۔

گزشتہ چار سال سے زائد سیاہ عرصے میں ہواوے نے ہمت نہیں ہاری اور چین کی سائنسی اور تکنیکی ترقی بھی نہیں رکی۔ چپ مینوفیکچرنگ ، ویفر پروسیسنگ ، آکسیڈیشن ، لیتھو گرافی ، ایچنگ ، تھن فلم پریسیپٹیشن ، انٹرکنکشن ٹیسٹنگ اور پیکیجنگ کے آٹھ بنیادی عمل کو توڑتے ہوئے ، چینی سخت محنت کر تے رہے ۔ ہواوے کے ویفر پروسیسنگ پلانٹس نے ویفر پروسیسنگ اور آکسیڈیشن ٹیکنالوجیز حاصل کرکے بڑے پیمانے پر پیداوار حاصل کی ۔ ہواوے کے پارٹنر اے ایم ای سی نے طویل عرصے سے 5 این ایم ایچنگ ٹیکنالوجی کو حاصل کر رکھا ہے ۔ ہواوے نے کئی سالوں سے تھن فلم پریسیپٹیشن کی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ رواں سال جنوری میں ہواوے نے اپنے خود ساختہ پلیٹ فارم کا اعلان کیا تھا ۔ اس نے ایک ارب انٹر کنکشن ٹیسٹ مکمل کیے اور 2021 کے اوائل میں پیکیجنگ کے عمل میں پیٹنٹ کے لئے درخواست دی ۔ جہاں تک لیتھوگرافی ٹیکنالوجی کا تعلق ہے تو موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ اعتماد سے کہا جا سکتا ہے کہ اس حوالے سے پیش رفت زیادہ دور نہیں

ایک طرف امریکی پابندیوں کی وجہ سے چینی کمپنی ہواوے نے مشکلات کے باوجود یہ اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے تو دوسری جانب چینی پابندی کی خبروں سے ایپل کے حصص میں زبردست گراوٹ کی اطلاعات ہیں

ایک ایسے وقت جب چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بیجنگ نے اپنے سرکاری دفاتر اور حکومت کے اہم اداروں میں آئی فونز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ایپل کے حصص میں مسلسل گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے

بدھ کے روز جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اس بارے میں پہلی بار رپورٹ کیا تو اس کی رپورٹ کے فوری بعد کمپنی کے شیئر میں 3.6 فیصد گراوٹ درج کی گئی۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ چین نے مرکزی حکومت کے اداروں میں ایپل کے اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے

عوامی سطح پر تجارت کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کے حصص میں جمعرات کی صبح پھر سے گراوٹ آئی اور ٹریڈنگ میں 2.8 فیصد گر کر 177.79 ڈالر پر آگئی تھی

گزشتہ دو دنوں کے دوران کمپنی کی اسٹاک مارکیٹ کی قدر میں چھ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، یا یوں کہیں کہ دو دنوں میں اس کی قدر میں دو سو بلین ڈالر کی کمی آئی ہے

ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ایپل کے لیے چین دنیا کی تیسری سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور گزشتہ برس اس کی کل آمدن کا 18 فیصد چین سے آیا تھا۔ چین میں ہی ایپل کی سب سے زیادہ مصنوعات تیار بھی کی جاتی ہیں

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ نے مرکزی حکومتی ایجنسی کے اہلکاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ آئی فونز کو دفتر میں نہ لائیں اور نہ ہی انہیں کام کے لیے استعمال کریں

اس رپورٹ کے اگلے دن بلومبرگ نیوز نے یہ اطلاع دی کہ یہ پابندی سرکاری کمپنیوں اور حکومت کی حمایت یافتہ ایجنسیوں کے کارکنوں پر بھی عائد کی جا سکتی ہے

یہ اطلاعات آئی فون 15 کے لانچ سے عین قبل آئی ہیں۔ آئندہ 12 ستمبر کو نئے آئی فون کے لانچ کی توقع ہے۔

ان رپورٹوں کے رد عمل میں چینی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اس طرح کی اطلاعات آئی ہیں۔

چین اب مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجی کی مصنوعات کے استعمال پر زور دے رہا ہے، کیونکہ اب بیجنگ اور واشنگٹن کے لیے ٹیکنالوجی بھی قومی سلامتی کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے

اسمارٹ فون کے لیے چپس فراہم کرنے والی دینا کی سب سے بڑی کمپنی قوالکام کے حصص میں بھی جمعرات کو سات فیصد سے زیادہ کی کمی درج کی گئی

رواں برس واشنگٹن نے جاپان اور ہالینڈ جیسے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بعض چپ ٹیکنالوجی تک چین کی رسائی کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے رد عمل میں چین نے بھی سیمی کنڈکٹر کی صنعت کے لیے دو اہم مواد کی برآمدات پر پابندی لگا کر اس کا جواب دیا تھا

اطلاعات کے مطابق بیجنگ مبینہ طور پر چپ سازی کی اپنی صنعت کو فروغ دینے کے لیے 40 بلین ڈالر کا نیا سرمایہ کاری فنڈ بھی تیار کر رہا ہے

ایپل کے لیے نقصان دہ اثرات
چین ایپل کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے اور اپنی آمدنی کا تقریباً پانچواں حصہ وہیں سے حاصل کرتا ہے۔ ایپل کمپنی اپنے دیگر سپلائرز کے ساتھ مل کر چین میں ہزاروں کارکنوں کو ملازمت بھی فراہم کرتا ہے۔ کمپنی کے سی ای او ٹم کک نے مارچ میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا اور اس دوران چین کے ساتھ اپنے طویل تعلقات پر زور بھی دیا تھا

یہ پابندی امریکی کمپنی کے لیے بڑھتے ہوئے چیلنجز کی جانب اشارہ کرتی ہے، جس کا محصول میں اضافے اور مینوفیکچرنگ کے لیے چین پر بہت زیادہ انحصار بھی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close