”پہلے میرے بچوں کو بچاؤ“ زلزلے کے پانچ روز بعد ایک پورا ترک خاندان زندہ بچا لیا گیا

ویب ڈیسک

ترکیہ اور شام میں آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد مقامی اور دنیا بھر سے متاثرین کی امداد کے لیے پہنچنے والی امدادی ٹیمیں اس قدرتی آفت کے پانچ روز بعد بھی ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں ہیں۔ ان کی کوششوں سے اب تک معجزاتی طور پر بچ جانے جانے والوں کو ریسکیو بھی کیا جا رہا ہے

تلاش اور بچاؤ کی ایسی ہی ایک کارروائی ہفتے کے روز اس وقت کامیابی سے ہمکنار ہوئی، جب ریسکیو ٹیموں نے ترک صوبے غازی انتپ میں پانچ دن سے اپنے منہدم گھر کے ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے پانچ افراد ہر مشتمل ایک پورے خاندان کو زندہ بچا لیا

ایک مقامی ٹی وی ہیبر ترک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امدادی کارکنوں نے اس واقعے میں سب سے پہلے زلزلے سے شدید متاثرہ غازی انتپ کے قصبے نورداگ میں ملبے کے ڈھیر سے ایک خاتون حوا اور پھر ان کی بیٹی فاطمہ گل اسلان کو نکالا

امدادی ٹیمیں بعد میں جب اس خاندان کے سربراہ حسن اسلان تک پہنچیں، تو انہوں نے اصرار کیا کہ پہلے ان کی دوسری بیٹی زینب اور بیٹے سالتک ُبگرا کو بچایا جائے

امدادی کارکنوں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد جیسے ہی والد حسن اسلان کو بھی ملبے کے ڈھیر سے باہر نکالا گیا، تو انہیں بچانے والوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرطِ جذبات سے ‘اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے

منجمد کر دینے والے درجہ حرارت میں امیدیں بہت کم ہو جانے کے باوجود 129 گھنٹے بعد ایسے ڈرامائی ریسکیو کے واقعات کے نتیجے میں صرف ہفتے کے دن ہی بچائے گئے افراد کی تعداد نو بنتی ہے۔ ان نو افراد میں میں ایک سولہ سالہ لڑکی اور ایک ستر سالہ خاتون بھی شامل ہیں

ایک اور مقامی ٹیلی وژن این ٹی وی کے مطابق ترک شہر قہرامان مراش میں ملبے سے نکالے جانے والے نوجوان کامل جان آگاس نے اپنے بچانے والوں سے پوچھا، ”آج کون سا دن ہے؟‘‘ اس نوجوان کو زندہ بچا لینے کے بعد وہاں موجود ترک اور کر غیز مشترکہ سرچ ٹیم کے ارکان خوشی کے اظہار کے طور پر ایک دوسرے سے بغلگیر ہو گئے

ترکیہ کے شہر انطاکیہ میں امدادی کارکنوں نے چھتیس سالہ ایرگین گزیل اولان کو ہفتے کے روز ایک منہدم عمارت کے ملبے سے باہر نکالنے کے بعد ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال پہنچا دیا

لندن کے فائر فائٹرز نے ترکیہ میں زلزلے سے تباہ ہونے والی ایک عمارت کے ملبے تلے چار دنوں سے پھنسی ہوئی ایک ماں کو بحفاظت نکال کر اس کی بیٹی سے ملا دیا

عرب نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر زِیرگردش وڈیو میں وہ لمحہ دیکھا جا سکتا ہے جب ایڈمنٹن فائر اسٹیشن سے ڈوم میبٹ اور ان کی ٹیم نے ملبے کے پہاڑ کے اندر ایک چھوٹے سے خلا سے عورت کو نکالا اور قریبی گلی میں انتظار کرتی ان کی بیٹی سے ملایا

ڈوم میبٹ برطانیہ کی فائر اینڈ ریسکیو سروس کی انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے 77 ارکان میں سے ایک ہیں جسے پیر کے زلزلے کے بعد ترکیہ روانہ کیا گیا تھا

اس ویڈیو کے حوالے سے لندن فائر بریگیڈ نے ٹویٹ کیا ”یہ ناقابل یقین لمحہ ہے کہ ہماری آئی ایس اے آر ٹیم نے ترکی کے زلزلے کے چار دن بعد ایک ماں اور بیٹی کو دوبارہ ملانے میں مدد کی“

اس سے قبل برطانوی امدادی کارکنوں نے ایک خاتون اور ان کے پانچ سالہ بیٹے کو بچانے کے لیے جرمن رضاکاروں کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔ زلزلے کے مرکز کے قریب کے شہروں میں سے ایک سے تعلق رکھنے والی تینتیس سالہ سرپ ٹوپل اور ان کا بیٹا مہمت اپنے گھر کے ملبے تلے تین دن تک پھنسے رہے تھے

گزشتہ روز ترکی میں زلزلے کے بعد سرچ اینڈ ریسکیو خدمات سرانجام دینے والی پاکستانی ٹیم نے آدیامان میں ایک پرخطر آپریشن کے بعد ایک پچاس سالہ خاتون کو بحفاظت ملبے کے نیچے سے نکالا

پاکستانی ریسکیو ٹیم کی واحد خاتون رکن دیبا شہناز نے بتایا ”ہم ریسکیو آپریشن کر رہے تھے لیکن ساتھ ساتھ دعائیں بھی مانگ رہے تھے کہ ہم تین لوگ اتنا رسک لے رہے ہیں پتہ نہیں واپس بھی نکلیں گے یا نہیں۔ کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ کب بلڈنگ گر جائے“

پاکستان ریسکیو ٹیم
پاکستان کی جانب سے ترکی بھجوائی جانے والی ریسکیو ٹیم ڈاکٹر رضوان نصیر کی قیادت میں سات فروری کو ترکی پہنچی تھی

دیبا شہناز اختر پاکستان ریسکیو ٹیم اقوام متحدہ کی انسراگ سرٹیفائیڈ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کی واحد خاتون ممبر ہیں، جنہوں نے ریسکیو 1122 کو 2006 میں جوائن کیا تھا

آدیان- ترکیہ میں پاکستان ریسکیو ٹیم کے ساتھ وہ بحثیت لیزان افسر اور سیکٹر انچارج آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں

دیبا شہناز، ریسکیو 1122 کی کمیونٹی ٹرینگ اور انفارمیشن ونگ کو لیڈ کرتی ہیں تاہم آدیامان میں انھوں نے ایک پرخطر اور پیچیدہ ریسکیو آپریشن کی سربراہی کرتے ہوئے ایک پچاس سالہ خاتون کو ریسکیو کیا

دیبا شہناز نے ایک ویڈیو بیان میں اس ریسکیو آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ’مجھے اور میری ٹیم کو، جس میں پانچ لوگ تھے، انھیں ٹاسک دیا گیا تھا کہ اس مقام سے آوازیں آ رہی ہیں اور ایک خاتون اندر ٹریپ ہیں۔‘

یہ ایک رہائشی عمارت کا ملبہ تھا جو سوموار کو آنے والے زلزلے میں زمین بوس ہو چکی تھی

واضح رہے کہ ریسکیو اور ملبہ ہٹانے کا کام خالی جگہوں کی تلاش کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ خالی جگہ یعنی کنکریٹ کے بیم یا ستون، یا سیڑھیوں کے نیچے خالی جگہ، جہاں لوگوں کے موجود ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے

اس آپریشن کی وڈیو میں دیبا شہناز اور ان کی ٹیم کے اراکین کو کنکریٹ کے بلاکس کے بیچ تنگ اور پرخطر خلا میں رینگتے ہوئے داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے

دیبا نے بتایا کہ ’جب ہم نے عمارت کے ملبے میں جا کر اس خاتون تک رسائی حاصل کی تو وہ بہت تنگ جگہ تھی۔ ان خاتون کی دونوں ٹانگیں کنکریٹ کے اندر بری طرح سے پھنسی ہوئی تھیں۔‘

یہ ایک طویل آپریشن تھا۔

دیبا نے بتایا کہ ’چار گھنٹے کے اس آپریشن کے دوران خاتون کی ایک ٹانگ کو تو کاٹ کر نکال لیا گیا، لیکن دوسری ٹانگ کو نکالنے میں مشکل کا سامنا تھا۔‘

’ہم اندر کٹر استعمال نہیں کر رہے تھے کیوں کہ عمارت کے ملبے کی حالت مستحکم نہیں تھی۔ سطح ہل رہی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہمارے اوپر بھی کنکریٹ تھا۔ ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ ایک راستہ یہ ہے کہ اس ٹانگ کو بھی کاٹا جائے۔ ہم نے ترکی کے محکمہ صحت سے رابطہ کیا اور ڈاکٹرز کو بھی بلوا لیا گیا۔ لیکن ہماری کوشش تھی کہ ہم ان کی ٹانگ کو بھی بچائیں اور ان کو بھی نکال لیں تاکہ وہ معزور نہ ہوں۔ لیکن اچھی بات یہ ہوئی کہ ہم اس خاتون کی ٹانگ کو ملبے کے نیچے سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

دیبا نے بتایا کہ ان کے لیے وہ لمحہ سب سے قیمتی تھا جب ان خاتون نے 57 گھنٹے کے بعد اپنے عزیزوں سے ملاقات کی۔ ’جب ہم خاتون کو باہر لائے اور ان کی ایک عزیز ان سے ملیں، 57 گھنٹے کے بعد، تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔‘

پیر 6 فروری کی صبح آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے میں ہزاروں عمارات کے منہدم ہونے کے بعد سے اٹھائیس ہزار سے زیادہ انسان ہلاک اور اَسی ہزار سے زیادہ زخمی جبکہ لاکھوں کے بے گھر ہونے کے بعد زلزے کی ہولناکیوں کے درمیان لوگوں کے زندہ بچ جانے کی نئی خبروں سے شدید دکھ اور افسوس کے ماحول میں بھی لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے

لیکن زلزلے کے بعد ابھی تک زندہ بچے رہنے کے معجزاتی واقعات کے باوجود ہر کوئی اتنا خوش قسمت نہیں۔ ترکیہ کے صوبہ ہاتائے میں امدادی کارکن منہدم ہونے والی ایک عمارت کے ملبے کے اندر ایک تیرہ سالہ لڑکی تک پہنچنے میں تو کامیاب رہے اور اسے دوا بھی دی تاہم اس سے قبل کہ طبی ٹیمیں اس لڑکی کا ایک بازو کاٹ کر اسے ملبے سے باہر نکال سکتیں، وہ دم توڑ گئی

اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پھنسے ہوئے افراد ایک ہفتہ یا اس سے زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں تاہم زندہ بچ جانے والے مزید افراد کی تلاش کے امکانات اب تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ امدادی کارکن اب ملبے کے نیچے زندگی کی شناخت میں مدد کے لیے تھرمل کیمروں کا استعمال کر رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ ان کی لوگوں کو زندہ تلاش کر لینے کی امیدیں اب کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close