لاکھوں برس کی داستان سناتے برف کے عجائب گھر کی کہانی

ویب ڈیسک

آج کا دور جدت اور سہولیات کے ساتھ کئی ایسے مسائل بھی ساتھ لایا ہے، جن کی وجہ سے کرہ ارض کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں، انہی مسائل میں فضائی آلودگی بھی شامل ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہزاروں سال پہلے ہوا یا فضا کیسی تھی؟ یا اس سے بھی بہت پہلے، ہزاروں سال قبل، جب انسان کا زمین پرجنم نہیں ہوا تھا تو کرۂ ارض پر چلنے والی ہوا کے جھونکے کیسے ہوتے تھے؟

ان سوالوں کے جوابات برف کے ان بڑے بڑے ٹکڑوں میں محفوظ ہیں، جو یورپی ملک ڈنمارک کے مرکزی شہر کوپن ہیگن کے ایک عجائب گھر میں رکھے گئے ہیں

اپنی نوعیت کا مختلف اور منفرد یہ عجائب گھر ایک بہت بڑا برف خانہ ہے، جہاں شیلفوں پر رکھے گئے خصوصی ڈبوں میں تاریخ کے مختلف ادوار کی برف کے نمونے محفوظ ہیں

آپ کے لیے یہ جاننا بھی یقیناً حیران کن ہوگا کہ یہ ٹکڑے اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اگر انہیں ایک قطار میں رکھ دیا جائے تو وہ پچیس کلومیٹر تک پھیل جائیں گے!

لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی آپ کے ذہن میں ضرور ابھرے گا کہ آخر ہزاروں سال پرانی برف کے یہ ٹکڑے عجائب گھر والوں کے ہاتھ کہاں سے لگے؟ تو سادہ الفاظ میں اس کا جواب ہے گلیشیئرز!

یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور قطبی علاقوں میں سردیوں کے موسم میں برف پڑتی ہے، جبکہ گرمیوں میں برف پگھل جاتی ہے لیکن ان علاقوں میں، جہاں درجہِ حرارت کم رہتا ہے، ساری برف پگھل نہیں پاتی، یہاں تک کہ دوبارہ برف باری کا موسم آ جاتا ہے اور برف کی پرانی تہہ پر برف کی نئی پرتیں جم جاتی ہیں

گلیشیئرز اسی طرح وجود میں آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بعض گلیشیئرز کی تہیں میلوں موٹی ہیں، جن کا تعلق گزرے ہوئے ہزاروں برس سے ہے

واضح رہے کہ سائنسدانوں کے پاس ایسے طریقے موجود ہیں، جس سے یہ تعین کیا جا سکے کہ برف کی تہہ کتنی پرانی ہے

اس سلسلے میں ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ آخر برف کا ہوا سے کیا تعلق ہے؟ تو قارئین کرام، ہوتا دراصل یہ ہے کہ جب برف پڑتی ہے تو ہوا کی کچھ مقدار برف کے گالوں کے نیچے دب جاتی ہے۔ شدید ٹھنڈ کی وجہ سے روئی کے گالوں جیسی برف پتھر کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور ہوا کے بلبلے اس کے اندر پھنسے رہ جاتے ہیں۔ یہ اسی زمانے کی ہوا ہے، جب برف کے گالوں نے اسے اپنے اندر جکڑا تھا!

یوں، سائنسدانوں کے مطابق، برف کے ان ٹکڑوں میں قید ہوا ہمیں یہ جاننے میں مدد دیتی ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں ہوا کی صورت حال کیسی تھی اور اس میں کثافتیں اور آلودگی کب اور کس سطح پر شامل ہونا شروع ہوئی۔۔ اس میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں اور اس عمل میں انسان کا کیا کردار رہا؟ ہے نا دلچسپ بات!

کوپن ہیگن یونیورسٹی میں گلیشیئرز کے موضوع کے ایک ماہر پروفیسر جارجین پیڈر اسٹفن سن کہتے ہیں ”اس عجائب گھر میں رکھے گئے برف کے ٹکڑے دراصل آب و ہوا کی تبدیلیوں سے متعلق گزشتہ دس ہزار برس کے دوران انسان کی سرگرمیوں کا ریکارڈ اور اعمال نامہ ہے۔“

عجائب گھر میں محفوظ کیے گئے برف کے یہ ٹکڑے اسٹفن سن کا آب و ہوا سے عشق کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے تینتالیس برس گرین لینڈ میں گلیشیئرز کی کھدائی اور برف کے ٹکڑے جمع کرنے میں گزارے

اسی دوران ان کی ملاقات آب و ہوا کے شعبے کی ایک اور ماہر ڈورتھ ڈہل جینسن سے ہوئی اور برف کے عشق نے انہیں رشتہ ازواج میں باندھ دیا

اسٹفن سن 1991 سے دنیا کے اس سب سے بڑے برف خانے کے انتظام اور ذمہ داری میں حصہ لے رہے ہیں

اس یخ عجائب گھر میں برف کے چالیس ہزار سے زیادہ ٹکڑے، بڑے سائز کے ڈبوں کے اندر شیلفوں پر سجے نظر آتے ہیں

اسٹفن سن کہتے ہیں ”برف کے ان بلاکس کی انفردیت یہ ہے کہ ان کے اندر قید ہوا کی عمر وہی ہے، جو برف کے ٹکڑوں کی ہے۔ یہ ہوا اسی زمانے کی ہے جب آسمان سے اترنے والی برف نے گلیشیئر پر اپنی تہہ بچھائی تھی۔“

اس برفانی لائبریری کے دو حصے ہیں۔ بڑے حصے میں برف کے بڑے بڑے بلاک رکھے گئے ہیں، جبکہ ایک چھوٹے ہال میں برف کے بلاکس سے لیے گئے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے رکھے گئے ہیں

یہ چھوٹا ہال گویا ایک طرح سے لائبریری میں رکھے گئے برف کے بلاکس کے متعلق مختصر جائزے کا کام دیتا ہے، لیکن اس ہال میں جانے والوں کو اپنا کام انتہائی تیزی سے کرنا ہوتا ہے کیوں کہ اس کا درجۂ حرارت منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا گیا ہے تاکہ برف کے ٹکڑے ہر اعتبار سے محفوظ رہیں

بڑے ہال کا درجہِ حرارت منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ غالباً یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ صفر درجۂ حرارت پر پانی جم کر برف بن جاتا ہے

اسٹفن سن کہتے ہیں ”برف کے ان بلاکس میں ہوا کے بلبلے ننگی آنکھ سے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔“

اس برفانی عجائب گھر کی کہانی 1960 کے عشرے سے شروع ہوتی ہے

اس دور میں ماہرین کی ایک ٹیم برفانی خطے گرین لینڈ کی کھدائی کرنے کے بعد برفانی چٹانوں کے ٹکڑے مزید تحقیق کے لیے اپنے ساتھ ڈنمارک لے آئی تھی

قدیم گلیشیئرز پر کھدائی کا کام وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے۔ حالیہ عرصے میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے قدیم ترین برف کے نمونے حاصل کرنے کے لیے گرین لینڈ کے مشرقی حصے کے ایک گلیشیئر میں ڈھائی کلومیٹر سے زیادہ گہرائی تک کھدائی کی اور اس برف کے ٹکڑے نکالے، جو لگ بھگ ایک لاکھ سال پہلے پڑی تھی

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ برف کی ان چٹانوں میں ایسی برف بھی شامل ہے، جو لگ بھگ ایک لاکھ بیس ہزار سال پہلے پڑی تھی۔ یہ وہ دور تھا، جب دنیا میں اس جدید انسان کا جنم نہیں ہوا تھا، جس کی ہم سب اولادیں ہیں

سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ برس پہلے زمین کے موسم آج کے دور سے مختلف تھے

گرین لینڈ، جہاں اب برفانی چٹانوں کی میلوں موٹی تہیں جمی ہیں، وہاں کا درجۂ حرارت آج کی نسبت پانچ ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوا کرتا تھا

اسٹفن سن کہتے ہیں کہ ایک لاکھ سے زیادہ سال پہلے کی دنیا آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھی، لیکن اس وقت یہاں انسان موجود نہیں تھے

حالیہ عرصے میں حاصل ہونے والے برف کی قدیم ترین چٹانوں کے ٹکڑوں سے سائنسدانوں کو سمندروں کی بلند ہوتی ہوئی سطح اور پہاڑوں پر گھٹتی ہوئی برف کی تہہ کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے

اس سے ہم یہ بھی بہتر طور پر قیاس کر سکیں گے کہ مستقبل میں سمندر کی سطح بلند ہونے میں گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کا کتنا حصہ ہوگا

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ برف کی ہزاروں سال پرانی تہیں یہ جاننے کا واحد طریقہ ہیں کہ انسان کی پیدا کردہ آلودگی سے پہلے کرہ ارض کا فضائی ماحول کیسا تھا

اسٹفن سن بتاتے ہیں ”مختلف ادوار کے برف کے ٹکڑوں کی مدد سے ہم نے ایک نقشہ بنایا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ فضا میں وقت کے ساتھ ساتھ گرین ہاؤس گیسوں، کاربن ڈائی اکسائیڈ اور میتھین کی مقدار میں کیا تبدیلی آئی“

وہ کہتے ہیں ”اس سے ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ معدنی ایندھن جلانے سے ہوا کتنی آلودہ ہوئی۔“

قدیم برفانی چٹانوں کو محفوظ کرنے کی ایک اور تنظیم ’پراجیکٹ آئس میموری فاؤنڈیشن‘ کے سربراہ جیروم شیپلاز کہتے ہیں ”گرین لینڈ کی برف کی یاداشتوں کا ذخیرہ کرنا ایک قابلِ قدر کام ہے۔ گرین لینڈ کی برف کی یادداشت کو محفوظ رکھنا اور بھی زیادہ اہم ہے۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close