منچھر جھیل: خاموش زہر اور ڈوبتی تہذیب کی المناک کہانی

ویب ڈیسک

منچھر جھیل صرف ایک آبی ذخیرہ نہیں، بلکہ سندھ کی تاریخ میں رچی بسی ایک زندہ تہذیب تھی، مگر آج یہ جھیل ایک ایسا کھلا زخم بن چکی ہے جس پر برسوں سے سرد مہری اور خاموشی کی پٹی باندھی جا رہی ہے۔ کبھی تقریباً اڑھائی سو مربع کلومیٹر پر پھیلی یہ میٹھے پانی کی جھیل پاکستان کی سب سے بڑی جھیل تھی، جہاں مچھلیوں کے بے شمار جھنڈ تیرتے اور مہاجر پرندوں کی قطاریں اڑتی دکھائی دیتی تھیں۔۔ اس جھیل کا ایک خوبصورت رنگ پانی پر تیرتے گھروں میں بسنے والی ایک منفرد انسانی تہذیب کی حامل مہانہ قبیلے کی بستیاں تھیں، جو اب اجڑ رہی ہیں۔

آج وہی جھیل زہر آلود ہو چکی ہے اور زہریلے کیچڑ، صنعتی فضلے اور سرکاری غفلت کی علامت بن چکی ہے، اس کی تباہی محض قدرتی نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے انسانی عمل کا نتیجہ ہے۔ اس کے کنارے ایک خاموش، بے آواز سانحہ جنم لے چکا ہے، جہاں ایک پوری تہذیب رفتہ رفتہ تاریخ کے حاشیے میں دھکیلی جا رہی ہے۔

جھیل کے دہانے پر ہلکی ہلکی لہریں خاموش فضا کو ہولے سے چیرتی ہیں اور کیچڑ سے بھری نہر کی تہہ بانس کے ایک طویل ڈنڈے سے رگڑ کھاتی ہے، جب ایک کمزور مگر ضدی سی کشتی پانی کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ اس کشتی میں بشیر احمد بیٹھا ہے، جو نہ صرف اسے چلا رہا ہے بلکہ اپنے پورے قبیلے کی وراثت کو تھامے ہوئے ہے۔ اس کے لیے یہ کشتی محض سواری نہیں، بلکہ اس قوم کی علامت ہے جس نے صدیوں تک پانی کو اپنا گھر سمجھا۔ مہانہ لوگ نسلوں سے منچھر کی سطح پر زندہ رہے، اور ان کے لیے زمین اجنبی تھی۔

بشیر کے والد محمد، جو اس تقریباً پچاس نفوس پر مشتمل برادری کے سربراہ ہیں، کنارے پر سایہ میں بیٹھے اس کا انتظار کرتے ہیں اور ایک ایسی آواز میں جو دکھ سے زیادہ خاموش شکست کا اظہار ہے، کہتے ہیں کہ کبھی وہ جھیل کے مالک تھے، یہ پانی مچھلیوں سے بھرا رہتا تھا، ان کی کشتیاں ہی ان کے گھر تھیں اور انہیں یقین تھا کہ یہ گھر کبھی نہیں ڈوبیں گے، مگر اب وہی جھیل زہر میں بدل چکی ہے۔

یہ زہر قدرتی نہیں تھا، یہ انسان نے خود اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا۔ گارڈیئن نیوز میں گیوم پیٹرمن کی ایک تازہ تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس کا سب سے خوفناک پہلو وہ نہر ہے جسے رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین، یعنی آر بی او ڈی، کہا جاتا ہے۔

یہ منصوبہ 1990ء کی دہائی میں اس دعوے کے ساتھ شروع کیا گیا کہ مغربی سندھ کی سیم زدہ زمینوں کو کاشت کے قابل بنایا جائے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے نے زرخیزی کے بجائے تباہی کو جنم دیا اور یہی نہر منچھر جھیل کے لیے موت کی لکیر بن گئی۔

زرعی کھیتوں سے بہنے والا زہریلا پانی، کھادوں اور کیمیائی ادویات سے لدی نالیاں، صنعتی کارخانوں کا زہریلا فضلہ، اور کئی بڑے شہروں کا سیوریج سسٹم، یہ سب کچھ برسوں سے براہ راست منچھر جھیل میں ڈالا جاتا رہا۔ حکومتی محکمے اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے، لیکن کوئی مؤثر فلٹریشن پلانٹ یا حفاظتی نظام کبھی نصب نہیں کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی دہائیوں میں جھیل کی نمکیات خطرناک حد تک بڑھ گئیں، پانی سے آکسیجن تقریباً ختم ہو گئی، زہریلی کائی نے پورے سطحی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ نازک آبی ماحول جو صدیوں میں تشکیل پایا تھا، تباہ ہو گیا۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس زخم کو اور گہرا کر دیا، بارشیں کم ہوتی گئیں اور دریائے سندھ پر بننے والے بڑے ڈیموں نے تازہ پانی کی آمد تقریباً روک دی، یوں جھیل کے شریانیں سوکھنے لگیں۔

سرکاری اعداد و شمار خود اس جرم کی گواہی دیتے ہیں۔ 1930ء کی دہائی میں اس جھیل میں 200 سے زائد اقسام کی مچھلیاں موجود تھیں، مگر 1998ء تک ان کی تعداد گھٹ کر صرف 32 رہ گئی، اور اس کے بعد مزید درجن بھر اقسام ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئیں۔ 1950ء میں سالانہ تین ہزار ٹن سے زیادہ مچھلی حاصل ہوتی تھی، جو 1994ء میں گھٹ کر تین سو ٹن رہ گئی، اور آج یہ مقدار بمشکل سو ٹن سے نیچے آ چکی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جو مچھلیاں باقی بچی ہیں وہ بھی اتنی کم قیمت اور ناقص ہو چکی ہیں کہ اب انسانی خوراک بننے کے بجائے زیادہ تر مرغیوں کے چارے کے طور پر فروخت ہوتی ہیں۔

یہ محض قدرتی تنزلی نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، کیونکہ اتنے بڑے ماحولیاتی بحران کے دوران نہ کوئی شفاف انکوائری ہوئی، نہ ذمہ داری طے کی گئی، اور نہ ہی متاثرہ آبادیوں کو کوئی متبادل ذریعہ معاش فراہم کیا گیا۔

اس تباہی کی سب سے بڑی قیمت مہانہ قوم نے ادا کی، وہ لوگ جن کی پوری شناخت پانی سے جڑی ہوئی تھی۔ یہ لوگ زمین پر رہنا نہیں جانتے تھے کیونکہ ان کی پیدائش، بچپن، شادی، اور موت سب کشتیوں پر ہوتی تھی۔ آج بشیر احمد جیسے لوگ جو کبھی پانی پر تیرتے گھروں میں پیدا ہوئے تھے، اب زبردستی خشک زمین کے ساحلوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔ بیس سال قبل جب مچھلی ختم ہونے لگی اور پانی زہر آلود ہوا تو ان لوگوں کو اپنی تیرتی بستیاں توڑ کر کناروں پر آنا پڑا۔ ان کے بقول جھیل چھوڑنا ایسا تھا جیسے کسی پرندے سے کہا جائے کہ وہ اب کبھی اڑ نہ سکے۔ یہ صرف ہجرت نہیں تھی بلکہ ایک پوری تہذیب کا زبردستی خاتمہ تھا، جس کی کوئی سرکاری پالیسی، کوئی بحالی پروگرام اور کوئی سنجیدہ بحالی منصوبہ آج تک سامنے نہیں آیا۔

علی کاشغر، جو آج بھی کسی حد تک پرندے پکڑتا ہے، کہتا ہے کہ ان کے لیے جھیل چھوڑنا ایسا تھا جیسے پرندوں سے کہا جائے کہ وہ اڑنا بند کر دیں، کیونکہ انہوں نے پرندوں سے جینا سیکھا تھا، ان کی طرح پانی پر بستے تھے، ان کی طرح جھیل سے پانی پیتے تھے اور ان کی طرح وہی مچھلیاں ان کی زندگی کا ذریعہ تھیں جو جھیل انہیں عطا کرتی تھی۔

کبھی بیس ہزار سے زیادہ مہانہ تیرتے گھروں میں رہتے تھے، مگر آج صرف چالیس کے قریب ایسے گھر باقی ہیں جن میں پانچ سو سے بھی کم لوگ رہ گئے ہیں، اور ان کی تعداد بھی مسلسل کم ہو رہی ہے کیونکہ پانی زہریلا سے زہریلا تر ہوتا جا رہا ہے۔ پھر بھی جو لوگ بچے ہیں وہ اپنی صدیوں پرانی روایات سے چمٹے ہوئے ہیں، خاص طور پر پرندے پکڑنے کے فن سے، جو ان کی شناخت کا حصہ رہا ہے۔ علی کاشغر ان آخری لوگوں میں سے ہے جو یہ قدیم طریقہ جانتا ہے؛ وہ جھیل کی سطح پر آہستگی سے پھسلتا ہے اور ایک زندہ پرندے کو لکڑی کی پتلی شاخ کے ساتھ باندھ کر اپنا رہنما بناتا ہے تاکہ دوسرے پرندے خوفزدہ نہ ہوں اور آخری لمحے میں وہ بجلی کی سی تیزی سے انہیں پکڑ سکے۔

کچھ شکاری اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز طریقہ اختیار کرتے ہیں، وہ گردن تک پانی میں ڈوب کر اپنے سروں پر بھرے ہوئے مصنوعی پرندے باندھ لیتے ہیں اور جب اصل پرندے دھوکے میں آ کر نزدیک آتے ہیں تو انہیں پکڑ لیتے ہیں۔ پکڑے گئے پرندے یا تو قریبی قصبوں کی منڈیوں میں فروخت کر دیے جاتے ہیں یا گھریلو خوراک بن جاتے ہیں، جبکہ کچھ کو پال کر دوبارہ شکار کے لیے بطور طُعمہ استعمال کیا جاتا ہے۔

لیکن اب پرندے بھی خاموشی سے رخصت ہو رہے ہیں۔ منچھر جھیل کبھی انڈس فلائی وے کا ایک اہم پڑاؤ تھی جہاں سائبیریا اور وسطی ایشیا سے آنے والے ہزاروں مہاجر پرندے ہر سال قیام کرتے تھے، لیکن سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف دو برسوں میں ان کی تعداد آدھی سے بھی کم رہ گئی ہے؛ دو ہزار تیئیس میں ان کی تعداد بارہ لاکھ تھی، دو ہزار چوبیس میں یہ گھٹ کر چھ لاکھ سے کچھ زائد رہ گئی اور دو ہزار پچیس میں صرف پانچ لاکھ پینتالیس ہزار کے قریب رہ گئی ہے۔ خشک سالی، سکڑتے ہوئے دلدلی علاقے اور زہریلا پانی ان کے قدرتی مسکن کو تباہ کر رہے ہیں اور وہ راستے جو کبھی زندگی سے بھرپور تھے، اب خاموشی میں ڈوب رہے ہیں۔

یہ صرف ماحولیاتی نقصان نہیں بلکہ اس پورے خطے کے قدرتی توازن کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق اگر اسی رفتار سے آلودگی جاری رہی تو آنے والے چند برسوں میں جھیل عملی طور پر مردہ آبی ذخیرہ بن جائے گی۔

اس ساری کہانی کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس پورے معاملے پر ایک منظم خاموشی مسلط ہے۔ نہ کوئی طاقتور ادارہ اپنی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہے، نہ کسی سرکاری رپورٹ کو عوام کے سامنے مکمل طور پر لایا گیا ہے، اور نہ ہی ان منصوبوں کا محاسبہ ہوا ہے جنہوں نے منچھر جھیل کو اس نہج تک پہنچایا۔ یہ تباہی کسی اچانک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پر پھیلی لاپرواہی، غلط منصوبہ بندی اور سیاسی بے حسی کا تسلسل ہے۔

آج منچھر جھیل محض پانی کا ذخیرہ نہیں رہی، بلکہ ایک طویل ماتم بن چکی ہے، ایک ایسی تہذیب کا نوحہ جو پانی کے ساتھ پیدا ہوئی اور پانی کے ساتھ ہی مٹنے کے کنارے کھڑی ہے۔ یہ جھیل اب ایک سوال بن چکی ہے کہ جب ایک جھیل کو آہستہ آہستہ مار دیا جائے، تو اس پر جینے والی تہذیب کا قتل کس کے کھاتے میں لکھا جائے گا؟

منچھر کا پانی تو ایک خاموش زہر بن ہی چکا ہے، جو اس جھیل میں صدیوں سے آباد بستی کی رگوں میں پھیل چکا ہے، لیکن ان المیوں پر ہمارے بے حس معاشرے کی رگوں میں دوڑتا خاموشی کا زہر نہ صرف ماحولیات بلکہ ہمارے وجود کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے۔

امر گل

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button