ڈیوڈ آرنڈٹ کی نظر میں بہتر تحریری عمل کے پانچ مراحل

فیچر

تحریر محض الفاظ کو کاغذ پر اتار دینے کا عمل نہیں، بلکہ یہ سوچ، احساس اور شعور کی ایک طویل ریاضت ہے۔ اچھی تحریر محض اتفاقاً نہیں لکھی جاتی؛ اس کے پیچھے وقت، مطالعہ، مسلسل نظرِ ثانی اور خود احتسابی کا عمل کارفرما ہوتا ہے۔ ڈیوڈ آرنڈٹ اس تحریر میں لکھنے کے اسی سنجیدہ اور بامعنی عمل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ بہتر لکھنے کے لیے نہ صرف تکنیک درکار ہے بلکہ ایک خاص ذہنی نظم، صبر اور خود سے سچّا مکالمہ بھی ضروری ہے۔ ذیل میں پیش کیے گئے پانچ مراحل دراصل تحریر کو ایک ہنر سے بڑھا کر فکری و روحانی مشق میں بدل دیتے ہیں۔

1۔ خود کو وقت دیں

تحریر کا وقت روزمرہ زندگی کے وقت سے مختلف ہوتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں ہمارا وقت آزاد نہیں ہوتا: ہمیں کام کرنا ہوتا ہے، ذمہ داریاں نبھانی ہوتی ہیں، لمحہ بہ لمحہ سامنے آنے والے تقاضوں اور حالات سے نمٹنا ہوتا ہے۔ ہم عارضی اور وقتی چیزوں پر توجہ مرکوز کر لیتے ہیں اور اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ واقعی اہم کیا ہے۔

نقطۂ نظر دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود کو لکھنے کے لیے وقت دیں، روزمرہ زندگی سے کچھ دیر کے لیے الگ ہو جائیں، خود سے دوبارہ جڑیں، اپنے گہرے فکری اور جذباتی مسائل سے رابطہ قائم کریں، خیالات کو سمیٹیں، چیزوں کو ویسا دیکھنے کی کوشش کریں جیسی وہ حقیقت میں ہیں، اور پھر جو کچھ ہم دیکھتے ہیں اسے الفاظ میں ڈھالیں۔
ہر روز لکھنا ایک نظم و ضبط ہے. یہ سچّی سمجھ کی طرف بڑھنے کا طویل اور سست عمل ہے، اور ساتھ ہی اس چیز کے لیے وقف کیا گیا وقت ہے جس سے ہم محبت کرتے ہیں۔

مارکس اوریلیس کو یاد کریں۔ وہ روم کا شہنشاہ ہونے کے باوجود خود کو لکھنے کا وقت دیتا تھا، کیونکہ اس کے لیے تحریر روح کو مضبوط کرنے کا ذریعہ تھی۔ پیئر ہادو کے الفاظ میں: ”جب مارکس Meditations لکھ رہا تھا تو وہ دراصل رواقی (Stoic) روحانی مشقیں کر رہا تھا…. یہ روزانہ کی تحریر کی مشق تھی، جو بار بار نئی سرے سے کی جاتی تھی اور جسے ہمیشہ دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت رہتی تھی، کیونکہ حقیقی فلسفی وہ ہے جو اس بات سے باخبر ہو کہ وہ ابھی حکمت تک نہیں پہنچا۔“

اگر مارکس اوریلیس لکھنے کے لیے وقت نکال سکتا تھا، تو آپ بھی نکال سکتے ہیں۔
تحریر وقت مانگتی ہے۔ اچھی تحریر اس سے بھی زیادہ وقت مانگتی ہے جتنا آپ سمجھتے ہیں۔ خود سے یہ نہ کہیں کہ کبھی مستقبل میں لکھ لیں گے۔ لکھنے کا وقت ابھی ہے۔

2۔ پڑھنا اور لکھنا ساتھ ساتھ کریں

پڑھنے اور لکھنے کو الگ الگ نہ کریں۔ سینی کا نے ایک خط میں یہ بات کہی تھی: ”ہمیں نہ صرف لکھنا چاہیے اور نہ صرف پڑھنا: صرف لکھنا ہماری قوتوں کو سست اور تھکا دے گا، اور صرف پڑھنا انہیں کمزور اور منتشر کر دے گا۔ دونوں کو باری باری کرنا چاہیے، ایک کو دوسرے کے ساتھ متوازن رکھتے ہوئے، تاکہ جو کچھ پڑھنے سے جمع ہو وہ لکھنے کے ذریعے وجود کا حصہ بن جائے۔“

یہ سوچنا غلط ہے کہ پہلے ہم سارا پڑھنے کا کام مکمل کریں اور اس کے بعد لکھنا شروع کریں۔ کسی متن کو اچھی طرح پڑھنے کے لیے مفید ہے کہ اس کے بارے میں لکھنا شروع کر دیا جائے: اہم جملوں کو نمایاں کریں، پوسٹ اِٹ نوٹس کے ذریعے اہم حصوں کو نشان زد کریں، حاشیوں میں تبصرے لکھیں، کلیدی حصوں پر نوٹس تیار کریں، اور ان خیالات کو نوٹ کریں جنہیں آپ اپنی تحریر میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کسی متن سے گہری عقیدت رکھتے ہیں تو اس کے اہم حصے لفظ بہ لفظ نقل کریں۔ محض نقل کرنا بھی آپ کو اس کا اسلوب سکھا دے گا۔

کسی متن پر اچھی تحریر کے لیے دوبارہ اسے پڑھنا ضروری ہے؛ کسی متن کو اتنی باریکی سے کوئی چیز نہیں پڑھواتی جتنا اس پر لکھنے کی ذمہ داری۔

3۔ کئی مسودے لکھیں

اچھی تحریر ازسرِنو تحریر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ کوئی عظیم تحریر ایک ہی مسودے میں نہیں لکھی گئی۔ ٹالسٹائی نے ”آنا کارینینا“ کے چھ مکمل مسودے لکھے۔ ایلی ویزل کے ناول ”نائٹ“ کا پہلا مسودہ 862 صفحات پر مشتمل تھا، جسے آخرکار اس نے 116 صفحات تک محدود کیا۔

ہر مسودے میں، جتنا وقت میسر ہو، اپنی پوری کوشش کریں۔ پھر بے رحمی سے نظرِ ثانی کریں: خاکہ دوبارہ سوچیں، پیراگراف ازسرِنو ترتیب دیں، غیرضروری مواد کاٹ دیں، اور زبان کو نکھاریں۔

تحریر وقت مانگتی ہے۔ اچھی تحریر اس سے بھی زیادہ وقت مانگتی ہے جتنا آپ سمجھتے ہیں۔ یہ نہ کہیں کہ کبھی بعد میں لکھ لیں گے۔ لکھنے کا وقت ابھی ہے۔

ایک عمومی اصول یہ ہے: جب بھی کسی تحریری منصوبے پر دوبارہ کام شروع کریں تو پہلے جو لکھ چکے ہیں اسے دوبارہ پڑھیں اور زیادہ واضح اور رواں بنائیں۔ اس سے نہ صرف پچھلی تحریر بہتر ہوگی بلکہ آگے لکھنے کے لیے بھی ذہن تیار ہوگا۔
ہیمنگوے نے A Farewell to Arms لکھتے وقت یہی کیا: ”میں پہلے سے کہیں زیادہ خوش تھا۔ ہر دن میں کتاب کو اس مقام تک دوبارہ پڑھتا جہاں سے میں نے لکھنا شروع کرنا ہوتا، اور ہر دن میں اس وقت رکتا جب تحریر اچھی چل رہی ہوتی اور مجھے معلوم ہوتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔“
اپنی تحریر کو بار بار پڑھنا اور اس میں ترمیم کرنا آپ کو دوبارہ لکھنے کے عمل میں لے آتا ہے۔

4۔ ہر مسودے پر رائے حاصل کریں

اپنی ہی تحریر کو پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی لکھی ہوئی چیز کو دیکھتے ہیں تو اکثر وہی دیکھتے ہیں جو ہم کہنا چاہتے تھے، نہ کہ وہ جو واقعی کہا ہے۔ ہمارے الفاظ ہمیں اس لیے واضح لگتے ہیں کہ ہم انہیں اپنے نقطۂ نظر اور اپنی سمجھ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رائے (فیڈبیک) ضروری ہے۔ ہمیں دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں بتائیں کہ ہم نے اصل میں کیا لکھا ہے۔

چونکہ دوسرے لوگ ہماری تحریر کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں، اس لیے وہ، وہ چیزیں دیکھ سکتے ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔ لیکن چونکہ ان کا بھی اپنا نقطۂ نظر ہوتا ہے، اس لیے ان کی سمجھ بھی محدود ہوتی ہے: کچھ چیزیں انہیں صاف دکھائی دیں گی، کچھ بگڑی ہوئی اور کچھ بالکل نظر ہی نہیں آئیں گی۔ حتیٰ کہ سب سے بے وقوف اور ناانصاف تنقید بھی غیر ارادی طور پر مفید ہو سکتی ہے، اگر وہ یہ دکھا دے کہ ہماری تحریر کس طرح غلط سمجھی جا سکتی ہے۔

تحریر کا سب سے مشکل کام یہ ہے کہ ایسی تنقید میں بھی سچائی کے ذرے تلاش کیے جائیں جو احمقانہ یا ناانصاف لگتی ہو۔ رائے کو غور سے سنیں: سچائی کے ذرے چنیں، غلط فہمیوں کو درست کریں، اور جو چیزیں بالکل نظرانداز کی گئی ہوں انہیں چھوڑ دیں۔

5۔ اتنا لکھیں کہ ایک ہی بات مختصر اور مفصل دونوں طرح کہہ سکیں

آپ کسی فکری راستے کو اس وقت تک پوری طرح طے نہیں کرتے جب تک آپ اسے مختلف سطحوں پر بیان نہ کر سکیں: ایک جملے کا خلاصہ، ایک پیراگراف، چند صفحات، ہر حصے کا خلاصہ، مکمل متن، اور متن کے ہر حصے پر ممکنہ مگر غیر لکھی گئی تفصیلات۔

حتمی مقصد یہ ہے کہ منصوبے کو عمومیت اور تخصیص کی کئی سطحوں پر سوچا جائے، تاکہ آپ پورے کام کو مختلف بلندیوں سے دیکھ سکیں، زمین کی سطح پر نظر آنے والی باریک تفصیل سے لے کر تیس ہزار فٹ کی بلندی سے نظر آنے والے مجموعی منظر تک۔

مثال کے طور پر، کسی علمی منصوبے کا آخری مقصد صرف مکمل کتاب نہیں ہوتا بلکہ ایک کتابی تجویز بھی ہوتی ہے، جس میں ابواب کے خلاصے، سو الفاظ کا خلاصہ، اور پورے منصوبے کا ایک جملے میں نچوڑ شامل ہوتا ہے۔ کسی اسکرین رائٹر کا ہدف صرف مکمل اسکرپٹ نہیں بلکہ ایک منٹ کی پچ، دس منٹ کی پچ، اسٹوری بورڈز، ریلز، اور کہانی کے مجموعی سفر کا خلاصہ بھی ہو سکتا ہے (آغاز، محرک واقعہ، پہلے ایکٹ کا اختتام، درمیانی موڑ، دوسرے ایکٹ کا اختتام، اور نقطۂ عروج)۔
زندگی کی کہانی لکھنا بھی اس وقت تک بھاری محسوس ہوتا ہے جب تک ہم اسے مختصر اور مفصل دونوں انداز میں بیان نہ کریں: چند جملے، چند صفحات، چند درجن صفحات، اور چند سو صفحات۔

اس انداز میں سوچنے کے لیے مفید ہے کہ ایک ہی منصوبے کی مختلف سطحوں پر تحریر کو بیک وقت لکھا اور دوبارہ لکھا جائے۔ جیسے جیسے آپ مخصوص حصے لکھیں، مجموعی تصور پر نظرِ ثانی کے لیے تیار رہیں؛ اور جیسے جیسے مجموعی خاکہ بدلتا جائے، ویسے ہی مخصوص حصوں میں ترمیم اور اختصار کرنے کے لیے بھی آمادہ رہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button