پھول، مگر مچھ اور زنجیریں (تھائی ادب سے منتخب افسانہ)

تھیب مہا پوریا (ترجمہ: ڈاکٹر اعجاز راہی)

اس کی عمر ستائیس اٹھائیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ ایک وجیہہ نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر بظاہر بیماری کے کوئی آثار نہیں تھے۔ نہ اس کا رنگ زرد تھا نہ چہرے پر وحشت کا کوئی نشان بلکہ اس کی آنکھوں سے غیر معمولی ذہانت جھلکیاں مار رہی تھی۔

ہمیں دیکھ کر وہ بڑے وقار کے ساتھ بستر سے اترا، اس کے انداز میں قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار جھلک رہا تھا۔ ڈاکٹر کے تعارف کرانے پر اس نے ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی اور ایک خاموشی میں ڈوب گیا۔

میں ڈاکٹر کے کہے ہوئے جملوں کے پسِ منظر میں اس کا جائزہ لے رہا تھا۔ مجھے بتایا تھا کہ وہ ایک بڑے گھرانے کا فرد ہے، لیکن کسی بڑے واقعے نے اس کے ذہن کے در و دیوار ہلا کر رکھ دیئے ہیں۔ اس کی ذہن کی سلیٹ سے اس کا ماضی حرفِ غلط کی طرح مٹ گیا ہے۔ پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود وہ معمول پر نہیں آ سکا تھا۔

میں دیر تک اس کے سامنے کرسی پر بیٹھا اس خوبصورت نوجوان کو دیکھتا رہا۔ آخر میں نے نہایت اطمینان کے ساتھ گفتگو کا آغاز کیا، ”کیا آپ کبھی بھوگت میں بھی رہے ہیں؟“

کچھ دیر میری طرف خاموش نظروں سے دیکھتا رہا، پھر بولا، ”نہیں۔۔۔۔ میں زیادہ تر پن کے شہر تائی مانگ میں رہا ہوں۔“

”اوه…. بے شمار کانوں کے وسط میں۔۔۔ تائی مانگ۔۔۔ اچھی خاصی جگہ ہوگی۔“

”ا چھی جگہ۔۔۔۔“ وہ زہر خند لہجے میں بولا، ”تائی مانگ ایک جہنم ہے جہنم!“

میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔ مجھے بات آگے بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ وہ کسی سے بات نہیں کرتا۔

”کیا وہ کانوں والے دوسرے شہروں سے مختلف ہے۔ میرا مطلب ہے جیسے ہڈیائی۔“

”ہڈیائی یا دوسرے ایسے ہی شہر زندگی سے خالی نہیں۔۔۔ مگر تائی مانگ ….!!“ اس نے ویران ویران نظروں سے چھت کو گھورتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ پھر کچھ توقف کے بعد بولا، ”تائی مانگ میں چمپون، مگر مچھ اور زنجیروں کے سوا اور ہے بھی کیا۔“

”چمپون، مگر مچھ اور زنجیریں۔۔۔ میں نہیں سمجھا۔“

”ہاں۔۔۔۔ چمپون، مگر مچھ اور زنجیریں۔۔۔۔“ اس نے کہا اور ایک بار پھر خاموشی کے بھیانک گرداب میں ڈوب گیا۔

میں خوش تھا کہ میں اس کے لبوں پر پڑے چپ کے قفل کو توڑنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ جس نے اسے ماضی سے نا معلوم اذیتوں کے گنبد بے در میں قید کر دیا تھا۔

”میرے والد پانگ تن کے گورنر تھے۔ میں نے ابتدائی تعلیم بنکاک کے بہترین اسکول سے حاصل کی تھی، مگر میری عمر ابھی سولہ برس کی تھی کہ بنکاک کے آزاد ماحول کے لشکارے نے میری سرگرمیوں کی خبر کو میرے والد تک پہنچا دیا۔ چنانچہ مجھے واپس پانگ فن آنا پڑا۔ یہاں میں نے اپنی تعلیم مکمل کر لی اور اس زمانے میں والد گورنری سے فارغ ہو کر بنکاک لوٹ گئے۔
میرے والد بنکاک کے ان چند لوگوں میں سے تھے۔ جنہیں یہ احساس ہو گیا تھا کہ تھائی باشندوں کو ملک کی آزادی کے لئے کچھ کرنا چاہیے۔۔ اور اس لئے اب وہ سرکاری ملازمت کے خلاف ہو گئے۔ مجھے بھی سرکاری ملازمت کی بجائے اپنا کاروبار کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔۔ لیکن میں نے زندگی میں پہلی بار آزادی کا سانس لیا تھا۔ واپس بنکاک نہیں جانا چاہتا تھا۔ چنانچہ میں نے سرکاری ملازمت تو نہ کی لیکن وہیں آسٹریلوی کمپنی میں دو سو بھات ماہانہ مشاہرے پر ملازم ہو گیا۔ یہ اتنی بڑی رقم تھی جو میں والدکے سائے میں ہوتے تصور میں بھی نہیں لا سکتا تھا۔
آسٹریلوی کمپنی میں ابھی میرے دو سال بھی پورے نہ ہوئے تھے کہ میں نے تائی مانگ کے گولڈ مائننگ کمپنی میں چار سو بھات پر ملازمت اختیار کر لی۔ دراصل اس کمپنی کو ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو نہ صرف ایشیائی مزدوروں کو قابو رکھ سکے بلکہ حکومت اور کمپنی کے درمیان رابطے کا کام بھی کر سکے، اس کے لئے میں موزوں ترین شخص تھا۔ پھر جلد ہی کمپنی کی کچھ اور ذمہ داریاں ملنے کے بعد میری تنخواہ آٹھ سو ہو گئی اور یہاں سے ایک نیا دور سامنے آتا ہے۔
ایک ایسے شخص کے لئے جو زندگی کے چوالیس سال میں پہنچا ہو، یہ بہت بڑی رقم تھی اور مجھے معلوم بھی نہ ہوا کہ کب اس بڑھتی ہوئی رقم نے بڑی خاموشی کے ساتھ عورت اور شراب کو میری زندگی کا حصہ بنا دیا۔ آہستہ آہستہ میری خاندانی نخوت سامنے آتی گئی۔ میں خود کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا۔ اور نمائش کے معاملہ میں کوئی مجھ سے آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ میں یہ سمجھنے لگا کہ میں صرف قیادت کے لئے پیدا ہوا ہوں، سو میری شاہ خوبیوں اور حسنِ اخلاق نے تھائی اور غیر ملکیوں دونوں کو ہی میرا دوست بنا دیا تھا۔
اب میں اپنا فالتو وقت زیادہ تر تائی مانگ کے کلبوں میں گزارتا۔ ایک تو دفتر سے نزدیک ہونے کی وجہ سے اس سے بہتر کوئی تفریح کا ذریعہ نہ تھا، دوسرا میری سماجی حیثیت کو بڑھانے کے لئے بھی یہ بہت اہم تھا۔ تائی مانگ سے ہمارے صدر دفتر تک دو آبی راستے ہیں۔ ایک کشتی کے ذریعے پانی کی مخالف بہت ہموار اور تین ماہر اؤ روڈ کے قریب تک لے جاتا ہے، جہاں سے دفتر تک پہنچنے کے لئے ایک بس چلتی ہے، یہ راستہ طویل ہے اور اس پر خاصا وقت صرف ہوتا ہے، کیونکہ ضروری نہیں کہ آپ کو فوری طور پر بس مل جائے۔ اس کے برعکس دوسرا راستہ دائیں ہاتھ دریا کی سمت جاتا ہے۔ کشتی آپ کو جنگل کے کنارے پہنچا دے گی۔ آپ کو جنگل کا ایک مختصر راستہ طے کرنا پڑے گا۔ آپ اس طرح تقریباً نصف وقت تو بچا سکیں گے، لیکن یہ راستہ خطرات سے پر ہے۔ جب تک آپ راستے سے پوری طرح واقف نہ ہوں، بڑی آسانی کے ساتھ جنگل میں راستہ گم کر سکتے ہیں۔ پھر دریا کے جس رخ سے گزرنا ہوتا ہے، وہاں خوفناک مگرمچھوں کی حکمرانی ہے۔ مگرمچھ جھنڈ کی سطح پر تیرتے نظر آئیں گے۔ اتنی بڑی تعداد میں اور درندگی کے اعتبار سے ایسے مگرمچھ میں نے کہیں نہیں دیکھے۔ تائی مانگ ان ہی مگرمچھوں کی وجہ سے خوفناک کہلاتا ہے۔ اس راستے سے گزرنے کے لئے بڑی کشتیاں استعمال کی جاتی ہیں جو چاروں طرف سے بند ہوتی ہیں، کیونکہ جست لگا کر حملہ کرنا ان کی صفت کی جاتی ہے۔
میں ہمیشہ کمپنی کی بڑی کشتی میں اس راستے سے آیا جایا کرتا۔ میں جنگل کے چپے چپے سے واقف ہوں اور تاریکی پھیلنے سے قبل کسی درندے کا سامنا کرنے کا کوئی خدشہ بھی نہیں ہوتا تھا۔“

وہ خاموش ہو گیا۔ بڑی دیر تک اندر کے اندھیروں میں ڈوبا رہا۔ میرا اندازہ تھا کہ وہ اب اصل بات کی طرف آ رہا ہے کیونکہ اب تک وہ سب کچھ میں بڑے صبرو تحمل سے سنتا رہا تھا جو میرے لئے قطعی غیر ضروری تھا۔ شاید وہ بھی اصل بات کہنے کے لئے یہ سارے تانے بانے بُنتا
رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں فکر کی لہریں تھیں۔ وہ بڑا آزردہ نظر آ رہا تھا۔ دیر تک چپ کے کنویں میں غوطہ زنی کے بعد بالآخر وہ گویا ہوا،
”میں اپنی تعریف نہیں کر رہا۔۔ لیکن یہ سچ ہے کہ میں تائی مانگ کا مقبول ترین شخص تھا۔۔ اور اسی سبب اس صوبے کی ایک بڑی سیاسی شخصیت تو کائی سون سے ایک سرد جنگ شروع ہو گئی تھی۔
تو کائی سون اس علاقے میں اپنی ہر دل عزیز شخصیت کی وجہ سے سون بھائی کے نام سے مشہور تھا۔ وہ صوبے کے تمام طبقوں میں یکساں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ تنگ، پوریو، تائی مانگ، پنگ نا اور ارد گرد کے علاقے میں اپنا خاصا اثر رکھتا تھا۔ ان علاقوں کے لوگوں کے درمیان اکثر تنازعات بڑی عدالتوں کی بجائے سون بھائی کے ہاتھوں طے پاتے تھے۔ وہ عوامی حلقوں کے ساتھ ساتھ حکومت میں بڑا بااثر اور مقبول شخص تھا۔ اس کے علاقے سے گزرنے والے تمام بڑے عہدیدار اور شخصیتیں اس کی مہمان ہوتی تھیں۔
سون بھائی نظریاتی طور پر قوم پرست تھا۔ اس کی تمام کوششیں ملک کی آزادی اور قوم کی بھلائی کے لیے وقف تھیں۔ نظریاتی طور پر میں بھی قوم پرست ہوں لیکن میرے دل میں مون بھائی کے لئے ایک حسد شاید اس لئے تھا کہ اس علاقے میں صرف وہ ہی ایک ایسا شخص تھا جو مجھے سے آگے تھا۔۔ یا مقابلے میں آ سکتا تھا۔ اس لئے میری خواہش تھی کہ میں کبھی بر سرِ عام اس کی توہین کروں۔۔ اور دوسری طرف یہ ایک بہت بڑی بات تھی کہ سون بھائی سے زیادہ خوش اخلاق شخص میں نے کوئی اور نہ دیکھا تھا۔ عام لوگوں میں کسی معمولی سے معمولی شخص سے بھی وہ بد مزاجی کا مظاہرہ نہیں کرتا تھا۔۔ بلکہ ایک شستہ لہجہ اور خوش مزاجی نے عام لوگوں کو اس کا گرویدہ بنا دیا تھا۔۔ اور میں سمجھتا ہوں سون بھائی کے اس رویے نے ہم دونوں میں شہرت کی سرد جنگ اور نفرت کو کھلی جنگ میں نہیں بدلنے دیا۔۔ کیونکہ رکھ رکھاؤ اور ظاہر داری میں، میں بھی اس سے کم نہ تھا۔ یہ طے تھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو اپنا حریف کہتے تھے۔
گو اب تک ہم دونوں کھل کر ایک دوسرے کے سامنے نہیں آئے تھے۔۔ لیکن ہماری رقابت سے سارا صوبہ آگاہ ہو چکا تھا۔ بسا اوقات چینی اور تھائی دونوں طبقوں کی کوشش ہوتی کہ ہمارے درمیان ایک کھلی جنگ ہو جائے۔ دراصل لوگ نوجوان بارہ سنگے کو بوڑھے شیر سے لڑتا دیکھنا چاہتے تھے اور میں اور شاید سون بھائی بھی اس سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کرتے تھے۔ در اصل سون بھائی اس علاقے کے بے تاج بادشاہ تھے، وہ کسی باہر آئے ہوئے شخص کی اس میں مداخلت کیسے برداشت کر سکتے تھے اور میں اپنے خاندانی وقار سیاسی پسِ منظر کے سبب اس صورت حال سے فرار نہیں حاصل کر سکتا تھا کہ۔۔۔“

”کیا آپ چمپون کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ وہ تو اس علاقے میں بہت پایا جاتا ہے۔“ میں نے اس کا دراز ہوتا سلسلہ کاٹ دیا۔

اب ڈاکٹر جا چکا تھا۔ اور ہم دونوں کمرے میں اکیلے تھے۔

”ہاں۔۔۔۔ بہت خوبصورت پھول ہے اور عموماً جنوبی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ چمپا کی قسم کا ایک پھول ہوتا ہے۔ اس کے مخملی کٹورے میں پتیاں اس طرح بھی ہوتی ہیں، جس طرح عام پھولوں کے ابتداء میں کھلتی ہیں۔۔ اور جب یہ مخملی کٹوری پھولتی ہے تو پتیاں فوارے کی طرح ابھر کر پھیل جاتی ہیں۔ آپ چمپون کے اس دور کی خوشبو کا تصور نہیں کر سکتے جو ہر گزرنے والے کے قدم روک لیتی ہے۔ میں بھی اس خوشبو کا اسیر ہو گیا تھا۔ اور ایسا رکا کہ جیسے وقت رک گیا ہو…. لیکن وقت کب رکتا ہے۔۔ چمون۔۔۔ سون بھائی کی لڑکی کا نام بھی تھا۔ انیس سالہ خوبصورت چمپون کی طرح خوبصورت اور سحر کن سون بھائی کی اکلوتی بیٹی چمپون۔۔۔ چمپون کے پھول کی طرح اس کا تن بازو پھیلا کر ہر ایک کو اپنی گرفت میں لے لیتا تھا۔ اس کے جذبات بھی نرم و نازک اور خوشبو کی طرح لطیف تھے۔ اس کے برعکس وہ مضبوط ارادے اور طاقتور اعصاب کی مالک بھی تھی۔
چمپون بارہ سال کی عمر تک بھوگت میں پڑھتی رہی۔ سون بھائی چینی رسم و رواج کے سخت پابند شخص تھا، اس لئے اس نے چمپون کو اسکول سے اٹھا لیا تاکہ اسے ایک روایتی گھر یلو خاتون بنا سکے اور چمپون تھائی ماحول کا حصہ نہ بنے اور سون کی مرضی سے کسی چینی کے ساتھ شادی کرے۔۔ لیکن اسے جلد ہی اس بات کا اعتراف کرنا پڑا کہ چمپون کی سرکش مزاجی اس کا خاندانی ورثہ ہے۔۔ اور کسی بڑی آزمائش کی بجائے اس نے بیٹی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا اور اسے دوبارہ تائی مانگ میں اسکول میں داخل کرانا پڑا۔۔ مگر اس کے رویے میں بتدریج سختی آتی جا رہی تھی۔ شاید اس میں چمپون کا ہاتھ بھی تھا۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ ہر وہ کام کرنا چاہتی ہے، جس سے اس کے باپ کو ضد تھی۔ اسکول سے واپسی پر اس کا باپ سے آمنا سامنا ضرور ہوتا اور وہ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتی جس کو اس کا باپ پسند نہیں کرتا تھا۔
میں آپ کو بتاؤں، چمپون اپنے گھر تک محدود ہو جانے پر کیوں آمادہ نہ تھی۔۔ جنوبی علاقوں کے رہنے والے چینیوں کے گھر بنکاک کے گھروں سے قطعی مختلف ہیں۔ گو یہاں بھی بنکاک کی لمبی گلیوں جیسے ہی گھر ہیں، لیکن اندرونی ساخت بڑی مختلف ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے کمرے ہوتے ہیں۔۔ اور روشنی کے لئے چھت کھلی رکھی جاتی ہے، جس پر بارش سے بچنے کے لئے شیشہ یا پلاسٹک حسب توفیق لگایا جاتا ہے۔ ایسے مکانوں میں عموماً متوسط اور غریب طبقے رہتے ہیں یا روایتی چینی خاندان۔ روشن خیال صاحب ثروت لوگ جدید طرز کے مکان تعمیر کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی دوسروں سے کٹے ہوئے الگ تھلگ مکان ہوتے ہیں۔
سون بھائی کا مکان بھی الگ تھلگ اور شہری بھیڑ بھاڑ سے دور تھا، جس کے پیچھے جنگل کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ ان کے گھر کی عورتیں شاذ ہی باہر نظر آتی تھیں اور چمپون کو اس بنا پر بند رہنا پسند نہیں تھا اور وہ اپنے ماحول سے قطعی مختلف تھی۔ وہ کتابیں پڑھتی یا جنگل کی سیر کو نکل جاتی۔
چمپون سے میری ملاقات اچانک ہوئی تھی۔ اور پھر یہ اچانک ملاقات ایک دوسرے کو ایسے ان مٹ رشتوں میں باندھ گئی، جس کا انجام۔۔۔ انجام۔۔۔۔۔۔“

اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں وہ دیر تک سانسوں کو درست کرتا رہا۔ آخر خود ہی بولا، ”ہم دونوں ملتے رہے۔ دو اچھے دوستوں کی طرح۔۔۔ ایک دوسرے کو ٹوٹ کر چاہنے والوں کی طرح۔۔۔۔ دنیا کی نظروں سے بے نیاز۔۔۔۔ نہیں بے نیاز نہیں، بلکہ ہماری پوری کوشش تھی کہ پیار کی خوشبو صرف ہم دونوں تک ہی رہے۔۔ لیکن جذبوں کی خوشبو کب قید کی جا سکتی ہے۔ میں جانتا تھا کہ ہمارے پیار کا ظاہر ہونا ایک نہ ختم ہونے والے عذاب کو جنم دے گا۔ سون بھائی موت کو تو قبول کر سکتا تھا مگر ایسے شخص کو داماد کے طور پر نہیں قبول کر سکتا تھا، جسے وہ ہر شے سے زیادہ نفرت کرتا تھا۔ ہمارے پیار کی بات پھیلی اور اڑتی ہوئی سون بھائی کے کانوں تک جا پہنچی۔
چمپون ایک نڈر اور خود سر لڑکی تھی۔ لیکن اپنے کردار میں اتنی ہی عصمت مآب بھی تھی۔ ہمارے پیار کے رشتے کبھی خود غرضی یا جسمانی تلذذ میں ملوث نہ ہوئے تھے۔ دنیا کی نظریں پانی کی اعلیٰ سطح دیکھنے کی عادی ہوتی ہیں۔ سو جس دن سون بھائی کے کانوں تک یہ داستان پہنچی، پھر میں نے چمپون کو کبھی نہ دیکھا۔۔ اسے گھر سے باہر نکلنے سے روک دیا گیا اور اس کی شکل بھی پھر کسی نے نہ دیکھی۔ آپ میری اس کیفیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے جو مجھ پر ان دنوں گزر رہی تھی۔ ملاقاتیں تو کیا اب اس کی خیریت معلوم کرنا بھی کسی طور ممکن نہ تھا۔ میرے آدمی ہر وقت اس کے گھر کے ارد گرد رہتے مگر کوئی بھی اس کی گَرد کو بھی نہ پہنچ سکا۔ بلکہ اس بات کا علم ہوتے ہی چمپون پر سختیاں بڑھتی گئیں۔
چمپون کی گھر میں نظر بندی کے ابتدائی دنوں میں میرے اور مسٹر سون کے درمیان سرد جنگ شروع ہو گئی مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف اس میں شدت پیدا ہوتی گئی بلکہ نفرت انگیز صورت حال میں اب ہم ایک دوسرے کا سامنا کرنے سے بھی گریز کرنے لگے۔۔ کہ دونوں جانتے تھے کہ اگر سرد جنگ نے کھلی جنگ کی کیفیت اختیار کرلی تو اس کا انجام دونوں کی تباہی پر منتج ہوگا۔
ان ہی دنوں یہ اطلاع ملی کہ چمپون اپنی زندگی کے بد ترین دن گزار رہی ہے۔ اسے طرح طرح کی اذیتیں دی جا رہی ہیں۔ سون بھائی اسے کوڑوں سے مارتے ہیں۔ ایسی ہر اطلاع میرے اندر کچھ ٹوٹ پھوٹ کر جاتی۔۔ میری طبیعت خراب رہنے گئی اور میرا جی بھوکت سے بھر گیا۔ دل کسی کام کو کرنے کو نہیں چاہتا تھا۔ اور میں زیادہ تر وقت اپنے گھر پر گزار دیتا۔ میری اس حالت کی خبر میرے دوستوں تک پہنچی۔ چنانچہ انہوں نے میرا غم کم کرنے کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ ایک موٹر بوٹ کرایہ پر حاصل کی گئی اور تقریب کو ایسا یادگار بنانے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔ جو ان کے بس میں ممکن ہو سکتا تھا۔ خوبصورت لڑکیاں، اعلیٰ درجے کی شراب اور انواع اقسام کی چیزیں۔۔۔ پھر بطور خاص میرے لئے پنن کی ممتاز اور حسین ترین خاتون کو لایا گیا۔ جس کے حسن کے چرچے بڑے بڑے حلقوں میں تھے۔
میں نہیں جانتا کہ ایک ہولناک رات میں جہاں تاریکیاں چاروں طرف پر پھیلا کر بیٹھی ہوں، روشنی کی کوئی ہلکی سی کرن کتنی روشنی کر سکتی ہے۔۔ مگر میرے دوستوں کا خیال تھا کہ ایک عورت کے غم کو دوسری عورت کی موجودگی کم کر سکتی ہے۔ سو انہوں نے یہ تحفہ مجھے دیا اور میں نے قبول کر لیا۔ اس کا نام اپنا تھا۔ وہ پرتگالی نقش و نگار کی فلپائنی لڑکی تھی۔ وہ بلاشبہ اتنی خوبصورت اور جاذبِ نظر خاتون تھی کہ جس کو کسی حور کا بدل کہا جا سکتا ہے۔ ہم نے تین دن اور تین راتیں موٹر بوٹ پر گزاریں۔ ابھی وہ چین کی طرف جانا چاہتے تھے لیکن دفتری مصروفیات کے سبب میں نے واپس جانے کی خواہش ظاہر کی۔ تو اپنا بھی میرے ساتھ آنے پر تیار ہو گئی، چنانچہ ہم واپس آ گئے۔

تین کمروں پر مشتمل لکڑی سے بنا ہوا میرا گھر کمپنی کے ملازمین کے گھروں سے کچھ فاصلے پر تھا۔ یہ تینوں کمرے ایک برآمدے میں تھے۔ ایک کمرہ میرے سونے کا، دوسرا کھانے اور دوسرے استعمال کے لئے تھا، جس میں کچن باتھ روم اور اسٹور تھا اور تیسرا کمرہ ہمیشہ بند رہتا تھا، جس میں میں اپنے ضروری کاغذات اور سامان رکھتا تھا۔ میرے پاس دو ملازمین تھے۔ جو عموماً رات اپنے گھروں میں گزارتے تھے۔

رات گہری ہو گئی تھی۔ میں اور اپنا کچھ دیر قبل ہی ایک تقریب سے لوٹے تھے۔ جو میری کمپنی کے ایک افسر نے دی تھی۔ میں عموماً بستر پر لیٹ کر دیر تک جاگنے کا عادی ہوں، لیکن اس رات بستر پر لیٹتے ہی آنکھ لگ گئی لیکن ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ دروازے کا خشک قبضہ ابھی تک چر چرا رہا تھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ غنودگی کے عالم میں میں نے سوچا دروازہ تو میں بند کر کے سویا تھا۔ دروازے میں مجھے ایک سایہ نظر آیا۔

او خدا۔۔۔ کیا میں خواب دیکھ رہا ہوں۔۔ نہیں نہیں۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔

میں جلدی سے آنکھیں بند کر کے انہیں ملاتا ہوں، لیکن بند آنکھوں کے سامنے بھی وہی صورت نظر آتی ہے۔۔ دوبارہ آنکھیں کھولتا ہوں۔۔ میری نظروں کے سامنے چیون کھڑی تھی۔

سر تا پا بریدہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی گردن اور جسم کے گردا گرد جھولتی ہوئی زنجیر نے اسے خمیدہ بھی کر دیا تھا۔

میں اسے حیران نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔ اور اس کی آنکھوں میں کرب کا ایک سمندر موجزن تھا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ اچانک اس نے میرے چہرے سے نظریں ہٹا کر میری پشت پر دیکھا، نظریں نیم برہنہ انتہا پر رک گئی تھیں۔ اچانک میرا پورا وجود لرز کر رہ گیا۔ میرا چہرہ پسینے سے بھیگ گیا۔ چمپیون نے میری طرف دیکھا میری نظریں ندامت سے جھک گئیں اور ایک اذیت ناک شرمندگی میرے ذہن کو مسلسل کچوکے لگانے لگی۔ وہ چپ چاپ نظروں سے میری طرف دیکھتی رہی۔ میرے الفاظ مجھ سے چھن چکے تھے۔ اس کی زبان گنگ تھی۔ اور آنکھ کہانیاں کہہ رہی تھیں۔ میرا ذہن ساکت ہو گیا تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں اور جو چند ساعتوں کے بعد میں نے آنکھیں کھولیں تو دروازہ خالی تھا۔

مجھے معلوم ہوا تھا کہ چمپیون نے باپ کے سامنے پیار کا اعتراف کر لیا تھا اور یہ یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ وہ عزت مآب ہے۔۔ اس کا باپ ماننے کے لئے تیار نہ تھا، کیونکہ اتنی ساری ملاقاتوں کے باوجود عورت کیسے بچ سکتی تھی۔ یہ بات اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کیونکہ خود اس کے گھر میں چھ داشتائیں موجود تھیں۔ وہ چمپون کی کوئی بات کوئی عذر سننے کے لئے تیار نہ تھا، کیونکہ مسئلہ اس کے بدترین دشمن کا تھا۔

باپ اور بیٹی دونوں ضد کی دو انتہاؤں پر تھے۔ نظریں غصے میں بدل گئی اور باپ نے مار مار کر بیٹی کو ادھ موا کر دیا اور دریدہ عصمت کا طعنہ دیا۔ بیٹی کا صبر جواب دے گیا۔ وہ زخمی شیرنی کی طرح اٹھی۔

’سنو ابو… میں نے کوئی برائی نہیں کی۔ میرا خدا گواہ ہے میری عصمت محفوظ ہے۔۔ لیکن مجھے جب بھی موقع ملا، میں خود کو اس دشمن کے سپرد کر دوں گی۔ خدا گواہ رہنا میں ایسا ہی کروں گی۔‘

سب جانتے تھے کہ چمپون ضد کی بڑی کچی ہے۔ اس کے باپ نے سارے گھر کو یہ دھمکی دی کہ اگر یہ فرار ہو گئی تو کسی کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔ چنانچہ ایک بار جب ایون کی فرار کی کوشش ناکام ہو گئی تو سون بھائی نے چمپون کی سوتیلی ماں کو حکم دیا کہ چمپون کو لوہے کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے اور رات کو اس کی زنجیریں ڈال کر اس کے کپڑے اتار کر کمرے میں چھوڑا جائے تا کہ وہ فرار کا خیال دل سے نکال دے۔

مگر ایک صبح چمپون کا بیڈ روم خالی تھا اور چھت پر روشن دان کھلا ہوا تھا۔ بہر کیف چمپون ضدی لڑکی تھی، اس کے فرار پر مجھے حیرت نہ تھی حیرت اس پر تھی کہ وہ میرے گھر تک کیسے پہنچ گئی۔

میں جلدی سے وراندے سے باہر اور پھر بہت دور تک آیا، لیکن اس کا دور تک پتہ نہ تھا۔ مجھے احساس ہو گیا تھا کہ وہ دل گرفتہ ہو کر لوٹی تھی، مگر کہاں چلی گئی۔ میں دوڑتا ہوا ملازمین کے طرف گیا اور ملازمین کو دریا کے چاروں طرف دوڑا دیا۔ رات دن میں اور دن پھر رات میں ڈوب گیا مگر چمپون کا کہیں کوئی نشان نہ ملا۔ میں نے ہر طرف سے مایوس ہو کر فیصلہ کیا کہ سون بھائی کے گھر جا کر اس کا پتہ کروں۔۔ آخر وہ اس کی بیٹی تھی، ممکن ہے گھر واپس چلی گئی ہو۔۔ اور جب میں تائی مانگ سون کے گھر گیا تو وہ ایک نفرت انگیز قصہ مار کر بولا۔ ’اگر وہ اتنی بے شرم ہوئی کہ دوبارہ میرے گھر آئے تو میں اسے قتل کر کے اس کی لاش تمہارے پاس بھیجوا دوں گا۔‘

میں دوبارہ کمپنی کے دفتر آیا، اور چالیس مزدوروں کو ساتھ لے کر نکلا۔ ایک بڑی بوٹ میں میں دریا کے خطرناک حصے کی طرف چلا۔ جنگل کے چاروں طرف سرمارنے کے باوجود کوئی پتا نہ چلا۔ چوبیس گھنٹے سے زیادہ وقت ہو چکا تھا، میں نے ایک لقمہ تک نہ کھایا تھا۔ بھوک پیاس مٹ چکی تھی۔ مگر سر میں ایک ہی سودا تھا کاش وہ مل جائے۔ میں اپنی نظروں کو چاروں طرف دوڑاتا رہا کہ اچانک کشتی کنارے کی طرف جانے لگی۔ ’کیا ہوا‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔

’جناب کیا آپ کو معلوم ہے مگرمچھ انسانوں کا شکار کیسے کرتا ہے ۔‘ کشتی والے نے مجھ سے پوچھا۔

’نہیں۔‘ میں نے حیرت سے جواب دیا۔

’جناب مگرمچھ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو، وہ جبڑوں سے انسان کو لقمہ نہیں بنا سکتا، کیونکہ اس کے پاؤں بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور جبڑوں کی مدد کے لئے پاؤں نہیں استعمال کر سکتا۔ چنانچہ دریا میں شکار کر کے انسان کو جبڑوں میں کس کر خشکی پر چلا جاتا ہے اور جسم کے کسی حصے کو مضبوطی سے پکڑ کر پوری طاقت سے انسانی جسم کو کسی درخت سے دے مارتا ہے۔ جب کوئی جسم کا حصہ نوٹ کر گرتا ہے تو اسے خوراک بناتا ہے۔ اس طرح ٹکڑے ٹکڑے کر کے انسان کو کھا جاتا ہے۔‘ “

دہ خاموش ہو گیا تھا۔ کمرے میں ایک بار پھر ایک ہیبت تاک خاموشی چھا گئی تھی۔ وہ بڑی دیر تک بے چینی کے ساتھ کمرے میں چکر لگاتا رہا۔ اس کی نظریں کبھی چھت پر اور بھی کھڑکی سے باہر خلاؤں میں ڈوب جاتیں۔ مجھے خاموشی سے خوف آنے لگا۔ میں نے جلدی سے پوچھا، ”کیا چمپیون مل گئی تھی.۔ یا۔۔۔؟“

”نہیں۔“ اس نے خالی آواز میں کہا، ”کشتی بان کو جو کچھ ملا، وہ گھٹنے سے ٹوٹی ہوئی ایک انسانی ٹانگ اور ٹکڑے ٹکڑے زنجیر کی کچھ کڑیاں تھیں، جو ساحل کے قریب ایک درخت کے قریب پڑی ہوئی تھیں۔۔۔

جناب کیا آپ مجھے بتائیں گے“ اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ آواز لڑکھڑا رہی تھی، ”کیا چمپون نے دانستہ خود کو مگر مچھوں کی خوراک بنایا یا وہ واقعتاً گھر جانا چاہتی تھی تاکہ اپنے باپ کے سامنے اعتراف کر سکے کہ اس نے ایک غلط آدمی کا انتخاب کیا۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close