بے شک جمہوریت بہترین انتقام ہے!

حسنین جمال

آپ لوگ دنیا میں پاکستان کا چہرہ لیگل رکھنے کے لیے ایک فلٹر ہیں، اس کے علاوہ کچھ نہیں!

جس طرح وڈیو چیٹ میں فلٹر لگا کے بندہ کبھی بلی بن جاتا ہے، کبھی چیتا، شیر اور کبھی چشمہ ٹوپی پہنا گینگسٹر، آپ بس وہ فلٹر ہیں۔۔

امیر گھروں میں کچن کے پیچھے ایک ڈرٹی کچن ہوتا ہے۔ سارے کھانے وہیں پکتے ہیں، سامنے والا کچن بس فینسی کاموں کے لیے ہوتا ہے۔

ہمارا جمہوری چہرہ اور ہمارے ووٹ، یہ سب سامنے والا فینسی کچن ہیں۔

اگر یہ چہرہ نہیں ہوگا تو پاکستان معیشت سمیت ہر میدان میں ان نچلے نمبروں پر بھی نہیں ہوگا، جہاں اب موجود ہے۔ جمہوریت کے بغیر دنیا ہمیں کسی ایران یا شمالی کوریا نما کوئی چیز سمجھے گی۔

سمجھتی اب بھی ہے لیکن فیس سیونگ جس چیز کا نام ہے، اسے جمہوریت سمجھ لیں۔

جمہوری نظام کا تسلسل تہذیب یافتہ دنیا کو یہ بتاتا ہے کہ پاکستان میں سارے کام اسی نظام کے تحت ہوتے ہیں، جس طرح ان کے وہاں ہوا کرتے ہیں۔ امداد دینے والے اداروں کو بھی پاکستان نہیں چبھتا اور بڑے ملک جیسے تیسے بات بھی کر لیا کرتے ہیں۔

تو ہم لوگ، ہمارا ووٹ، ہمارا شیر، تیر کمان، بیٹسمین یا بلی والا فلٹر یہ سب بس اس لیے چلتے رہتے ہیں کہ بڑے جانتے ہیں، اس کے بغیر گزارا مشکل ہو جائے گا۔

کوئی اتھرا آتا ہے تو وہ تجربہ کر لیتا ہے اور واپس ٹریک پہ چل پڑتا ہے۔

قصہ مختصر، سیاست شروع سے اسی چیز کا نام ہے کہ جب دل چاہے گلے ملو اور جس وقت مفاد نہ ہو تو برا بھلا کہنا شروع کر دو۔ اس میں پریشان ہونے یا کسی سے لڑنے کی ضرورت نہیں۔

پاکستان کی تمام پارٹیاں اس وقت یہی کر رہی ہیں۔ فروری کی تاریخ لگے نہ لگے، کھانا پکتا سب کو نظر آ رہا ہے، ڈرٹی کچن کی چمنیوں سے دھوئیں اٹھ رہے ہیں، خوشبوئیں اٹھ رہی ہیں، نظر کچھ نہیں آ رہا لیکن گرما گرمی چالو ہو چکی ہے۔

وہ سب چہرے جو پچھلے دور میں عتاب یافتہ تھے، اب ہر چینل پہ نظر آ رہے ہیں، کیا اس میں بڑوں کی رضامندی شامل نہیں ہے یا آپ کے خیال میں اب اصل جمہوریت بحال ہوئی ہے؟

بہت معتبر چہرے بہت ہلکے کاموں پہ اتر آئے ہیں، یہ جمہوریت کا حسن ہے یا کرشمہ سازی کا اناڑی پن؟

خود کو ہلکان مت کریں۔۔

تماشہ ہے، پہلے کچھ کم نظر آتا تھا، اب 24 گھنٹے موبائل ہاتھ میں ہوتا ہے تو تھوڑا زیادہ لگ رہا ہے، باقی مسئلہ کوئی نہیں۔

ایک ملک کو چلائے رکھنے کے لیے جتنا بنیادی قانون اور مالیاتی اقدامات ضروری ہوتے ہیں، اس حد تک ہر پارٹی آپ سے مخلص ہے، بڑے بھی یہی چاہتے ہیں، کھانا پکتا رہے گا تو سب کو ملے گا، فاقے کون کاٹنا چاہتا ہے؟

پاکستان چلتا رہے گا، مہنگائی اوپر نیچے ہو کے مزید اوپر جاتی رہے گی، تعلیمی نظام ایسا ہی رہے گا، سرکاری ادارے فروخت ہوتے جائیں گے، پی آئی اے کے بعد ریلوے اور محکمہ انہار کی زمینیں لائن میں لگیں گی۔ جو کچھ اکاؤنٹنگ کی کتابوں میں ڈیڈ ایسسٹ نظر آئے گا، وہ نیلام ہوگا۔

ترقیاتی پروجیکٹس میں سارے اسٹیک ہولڈرز اب سکون سے ایک میز پہ بیٹھا کریں گے اور ماضی سے سبق لیا کریں گے، یہ طے ہے۔

سیاسی جماعتوں کو منشور اور انتخابی نعروں کی مد میں بہت زیادہ اچھوتا پن ڈھونڈنا ہوگا۔ اس کے بغیر سب کچھ نارمل نہیں لگے گا۔

سب کچھ نارمل نظر آنا اس وقت اصل مسئلہ ہے اور اسے دکھانے کے چکر میں کچھ پارٹیاں بالکل چپ ہیں، کچھ ضرورت سے زیادہ بول چکیں۔

اپنی روزی روٹی سیدھی کریں۔ روزانہ کی خبر بازی غیرضروری ہے، الاّ یہ کہ آپ اسٹاک مارکیٹ سے وابستہ ہیں یا براہ راست آپ کا بزنس متاثر ہو رہا ہے۔

کچن، ڈرٹی کچن، فلٹر، لیگل چہرہ، دھواں، خوشبو، قرضے، مہنگائی، عوام، ووٹ اور جمہوریت۔۔۔ یہ سب بڑے لیول کے مسائل ہیں۔

میں اور آپ تازی کھانے پکانے والے ہیں۔ اسی کی فکر میں رہیں گے تو دال روٹی اچھی چلتی رہے گی۔

باقی ہمارے سیانوں نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے، باقی تمام جماعتوں کی طرح ٹیم اے اور ٹیم بی کا کھیل اس کی آخری ممکنہ شکل ہے۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close