
یوں تو ریسلنگ سے سبھی واقف ہونگے لیکن کم ہی لوگ اس ریسلنگ کے بارے میں جانتے ہونگے، جس میں فریق ایک دوسرے کو تھپڑ مارتے ہیں
تھپڑوں کی اس ریسلنگ میں ایک کھلاڑی ہاتھ باندھے مخالف کے تھپڑ کا انتظار کرتا ہے۔ تھپڑ کھانے کے بعد کچھ کھلاڑی تو ہلتے بھی نہیں لیکن کچھ تھپڑ کے زور سے پیچھے جا گرتے ہیں
عالمی خبر رساں ادارے ‘ ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق مکسڈ مارشل آرٹس کے ادارے الٹیمیٹ فائٹنگ چیمپئن شپ ‘یو ایف سی’ کے صدر ڈانا وائٹ تھپڑوں کی ریسلنگ کو اگلے نئے مقبول کھیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ’پاور سلیپ لِیگ‘ پر اپنے ادارے کی جانب سے وسائل بھی خرچ کر رہے ہیں
ڈانا وائٹ کا خیال ہے کہ اس لیگ کے مقبول ہونے کے سو فی صد امکانات ہیں
امریکی ریاست نیواڈا کے ایتھلیٹک کمیشن نے ’پاور سلیپ لیگ‘ کے انعقاد کے لیے لاس ویگاس میں لائسنس بھی جاری کیا ہے
حالیہ دور میں سوشل میڈیا پر تھپڑوں کی ریسلنگ یا ‘سلیپ فائٹ’ کی وڈیوز کافی مقبول ہوئی ہیں۔ مشرقی یورپ کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر کئی مرتبہ شیئر کی گئی ہے، جس میں ایک کھلاڑی اپنے چہرے کے بگڑ جانے کے بعد بھی کھیل جاری رکھے ہوئے ہے
ان واقعات کے بعد اس ریسلنگ کے انسانی جسم کے تحفظ سے متعلق سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ خصوصاً دماغی بیماری سی ٹی ای جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سر پر مسلسل صدمہ لگنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے
یاد رہے کہ سی ٹی ای سر پر مسلسل چوٹ لگنے سے پیدا ہونے والی ایک بیماری ہے۔ یہ بیماری رگبی کے سابق کھلاڑیوں میں دریافت ہوئی تھی۔ اس بیماری کے دوران دماغ میں لاتعداد زخم ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے متاثرہ شخص کو موڈ سوئنگز، ڈپریشن اور یادداشت کھو جانے جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سی ٹی ای کی تشخیص صرف پوسٹ مارٹم کے ذریعے ممکن ہے
نیواڈا میں کامبیٹ اسپورٹس کے منتظم کمیشن کے ایک سابق چیئرمین نے اس لیگ کو لائسنس دینے کے اقدام کو غلطی قرار دیا ہے۔ کنکشن لیگیسی فاؤنڈیشن کے سی ای او کرس نوونسکی کا خیال ہے کہ تھپڑوں کی ریسلنگ ایک احمقانہ فعل ہے
کرس نوونسکی کہتے ہیں ”اس میں کچھ بھی مزے دار نہیں، نہ ہی دلچسپ ہے اور نہ ہی کھیل سے متعلق ہے۔ وہ ایک احمقانہ فعل کو پیسے بنانے کا ذریعہ بنا رہے ہیں“
ڈانا وائٹ اور ان کے حمایتی تھپڑوں کی ریسلنگ پر ہونے والی تنقید کو بیس برس قبل یو ایف سی پر ہونے والی تنقید سے مشابہ قرار دیتے ہیں
’پاور سلیپ لیگ‘ کے ایک فائٹر ریان فلپس کا خیال ہے کہ اس کھیل کو سی ٹی ای سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بس تھپڑ ہی تو ہے
اگر اس کھیل کے قوانین کی بات کی جائے تو اس کے دوران تھپڑوں کے تین سے پانچ راؤنڈ ہوتے ہیں، جس میں فائٹر کو تھپڑ کے بعد ہمت جمع کرنے کے لیے ساٹھ سیکنڈ دیے جاتے ہیں
ہر تھپڑ کے بعد ججز پوائنٹس دیتے ہیں، جن میں تھپڑ کی قوت اور تھپڑ کھانے والے کے ردِعمل کو نوٹ کیا جاتا ہے۔ اس فائٹنگ میں جیتنے والے کا فیصلہ ججز کے فیصلوں، ناک آؤٹ، تیکنیکی ناک آؤٹ یا ڈس کوالیفکیشن کی صورت میں کیا جاتا ہے
ڈانا وائٹ کا کہنا ہے کہ تھپڑوں کی فائٹنگ باکسنگ یا مکس مارشل آرٹس سے زیادہ محفوظ ہے کیوں کہ اس میں ایک راؤنڈ میں فائٹرز تین سے پانچ تھپڑ کھاتے ہیں جب کہ باکسنگ میں ایک میچ میں چار سو مکے کھائے جا سکتے ہیں
نوونسکی کا کہنا ہے کہ باکسنگ کے دوران مکوں کی بارش سے بچا بھی جا سکتا ہے جب کہ تھپڑوں کی فائٹنگ میں کھلاڑی تھپڑ کا پورا زور برداشت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایسے ہی ہے کہ کسی کھیل سے اس کا سب سے دلچسپ حصہ نکال کر بس دماغ کو نقصان پہنچانے والا حصہ رہنے دیا جائے۔