آئسکریم کی قیمت میں پچیس برس بعد معمولی اضافے پر کمپنی نے معافی مانگ لی

ویب ڈیسک

جاپان کی آئسکریم بنانے والی ایک کمپنی نے پچیس برس بعد اپنی مصنوعات کی قیمت میں معمولی اضافے پر صارفین سے معافی مانگ لی

کمپنیاں اپنی اشیاء کی قیمتوں میں آئے روز ہوشربا اضافہ کرتی رہتی ہیں اور اضافے پر عوام سے معافی مانگنے کے بجائے وضاحتیں پیش کرتی ہیں لیکن جاپان کی ایک کمپنی نے اپنی آئسکریم کی قیمت میں معمولی اضافے پر بھی عوام سے معافی مانگی ہے

جاپان کی آئسکریم بنانے والی کمپنی نے 1991 کے بعد 2022 میں اپنی آئسکریم کی قیمت میں 10 ین (15 روپے 4 پیسے) کا معمولی اضافہ کیا، جس کے بعد آئسکریم کی قیمت 60 ین سے بڑھ کر 70 ین ہوگئی

کمپنی کی جانب سے آئسکریم کی قیمت میں یہ اضافہ پچیس سال کے طویل عرصے بعد کیا گیا ہے، اس کے باوجود کمپنی مالک، صدر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے اپنے صارفین سے معافی مانگی گئی

جاپانی کمپنی کی انتظامیہ نے معافی مانگنے کے لیے ایک منٹ دورانیے کی وڈیو بھی جاری کی

واضح رہے کہ یہ واقعہ کچھ وقت پرانا ہے، جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ایک مرتبہ پھر شہ سرخیوں میں آنے لگا ہے، شاید اس لیے کہ ممکن ہے یہ ”کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے“ کے لیے کچھ کام آ سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close