فلم ’جوان‘ اور بالی وڈ کا مصالحہ سے ماس مووی تک کا سفر۔۔

ویب ڈیسک

گذشتہ ہفتے ریلیز ہونے والی شاہ رخ خان کی فلم ’جوان‘ تیز ترین ٹرپل سنچری کرنے والی فلم بن چکی ہے۔ ’پٹھان‘ اور ’غدر ٹو‘ کے بعد یہ بالی وڈ کی تیسری فلم ہے، جس نے رواں برس تین سو کروڑ انڈین روپے کا ہندسہ عبور کیا۔

رواں سال کے آغاز میں شاہ رخ خان کی فلم ’پٹھان‘ نے ریکارڈ کامیابی سمیٹی تھی۔ تب سے ہی لوگ ’جوان‘ کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔

جولائی کے شروع میں فلم کا ابتدائی ٹریلر ریلیز ہوا، جس نے انتظار کی آگ مزید تیز کر دی۔ لوگ مسلسل فلم کی کہانی، شاہ رخ کے کردار اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کر رہے تھے

تو یوں ان دنوں بالی وڈ کی شمالی انڈسٹری میں ایک ساؤتھ انڈین نومولود ’جوان‘ کی صورت میں تشریف لایا ہے۔ اب یہ ٹرینڈ فالو ہوگا اور ساؤتھ انڈین جیسی مزید مافوق الفطرت ایکشن پر مبنی فلمیں دیکھنے کو ملیں گی، جن کی اپنی ایک ’سائنس‘ ہوتی ہے، جس کو دیکھ کر لوگ کہتے ہیں کہ ’یہ کیا سائنس ہے۔‘ اگر الخوارزمی اور آئن سٹائن زندہ ہوتے تو یہ فلم دیکھنے کے بعد سرف کھا کر کیرالہ کے جنگلوں میں نکل پڑتے

فلمی دنیا کا نام ’شو بزنس‘ جس نے بھی رکھا تھا بہت سوچ سمجھ کر رکھا تھا۔ یہ واقعی ایک بزنس ہے اور بزنس میں رسک تو لینا پڑتا ہے۔ کبھی رسک ہٹ ہو جاتا ہے اور فلم فلاپ ہو جاتی ہے، لیکن رسک سوچ سمجھ کر لیا جائے تو اپنے ساتھ فلم بھی ہٹ کروا جاتا ہے

فلم ’جوان‘ میں بھی یہی حکمت عملی کامیاب ٹھہری ہے۔ شاہ رخ خان نے بھی بہت سے رسک لیے ہیں، اپنے فلمی کریئر میں جن میں ’ڈیئر زندگی‘ اور ’فین‘ جیسی فلمیں شامل ہیں، لیکن اس بار تامل فلموں میں تامل ٹیم کے ساتھ ہی کام کرنا اور ساؤتھ انڈیا کی فلموں کی ٹھاٹھیں مارتی گنگا میں ہاتھ دھونا کامیاب ثابت ہوا ہے

ایسا نہیں کہ شاہ رخ خان نے پہلے تامل فلم انڈسٹری کے لوگوں کے ساتھ کام نہیں کیا۔ فلم ’دل سے‘ کے ہدایت کار منی رتنم اور ’ہے رام‘ کے ہدایت کار کمل ہاسن تامل فلم انڈسٹری سے ہی تعلق رکھتے تھے لیکن اس بار فلم ’جوان‘ کا تقریباً ہر شعبہ تامل فلم انڈسٹری کے ’جوانوں‘ نے سنبھالا ہوا ہے، ماسوائے پروڈیوسر کے جو کہ شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان ہیں

فلم میں کیا ہے؟

شاہ رخ خان نے اس فلم میں ڈبل رول کیا ہے، ایک اپنا اور ایک اپنے باپ کا۔ یعنی اس فلم میں شاہ رخ خان اپنے ہی مدّمقابل نظر آئیں گے۔ کلین شیو شاہ رخ سے بہتر وہ اسکرین پر داڑھی اور جھریوں والے راک اینڈ رول بوڑھے کے روپ میں لگتے ہیں

ابتدا میں ہیرو کی اینٹری دکھاتے ہوئے ہدایت کار نے فزکس کے اُصولوں اور انسانی جسم پر آگ کے اثرات سے شاہ رخ خان کو مبرا قرار دیا ہے، جس پر عوام تالیاں پیٹتی ہے۔
جیسے ہی شاہ رخ کسی مشن پر نکلتے ہیں، ان کی آواز میں خودکار نظام کے تحت ’بیس‘ بڑھ جاتی ہے، جس سے آواز بھاری ہو جاتی ہے

دیسی ’رابن ہڈ‘ بنے شاہ رخ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بدعنوان امیروں سے پیسہ لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بوڑھے اور یادداشت کھو دینے والے باپ کی عزت پر لگے داغ کو بھی دھونے کی کوشش کرتے ہیں

فلم کی ایک خوبی شاہ رخ کا میک اپ ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے باپ کے رول کے مقابلے میں ’جوان‘ نظر آنا کسی حد تک ممکن بنا سکے ہیں، ورنہ دونوں کرداروں میں سے ’جوان‘ بیٹے کو ڈھونڈنا کافی مشکل ہو جاتا

ہر مشن کے لیے شاہ رخ مختلف بھیس بدلتے ہیں لیکن اس خاص ٹیکنیک سے کہ دیکھنے والا دھوکہ کھا جائے۔
فلم کی کہانی میں آزاد راٹھور (شاہ رخ خان) ایک پولیس جیلر کا رول نبھا رہے ہیں، جن کا دوسرا رخ بدعنوان سیاست دانوں کے غلط فیصلوں اور کرپشن کے باعث ڈوبتے ہوئے ملک کو بچانا ہے۔ اس کے لیے وہ پانچ ساتھیوں کی مدد سے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں

یہ پانچ خواتین جو ان کے اس گینگ میں شامل ہیں، وہ اسی جیل کی قیدی ہیں، جس کے آزاد راٹھور جیلر ہیں۔ لیکن وہ جیل کم اور کسی کالج کا ہوسٹل زیادہ لگتا ہے۔ اتنا صاف ستھرا ماحول اور لش پش رہائش ہمارے جیسے ملکوں کی جیلوں میں۔۔۔ لیکن خیر، فلم ہی تو ہے۔ ان سے کچھ بھ بعید نہیں کہ شاید ساؤتھ انڈیا میں شاید ایسی ہی خواتین کی جیلیں ہوتی ہوں گی، جہاں پارٹی ڈانس بھی ہوتے ہوں گے اور گود بھرائی کی رسمیں بھی!

ولن (کالی گائیکواڈ) کا کردار مشہور تامل اداکار وجے ستھوپتی نے ادا کیا ہے اور ہیروئن (نرمادا رائے) کا کردار اداکارہ نائیانتھرا نے ادا کیا ہے، جو اداکاری کے ساتھ ساتھ تامل اور تیلگو فلموں کی پروڈیوسر بھی ہیں۔ ان کا شمار انڈیا کی امیر ترین اداکاراؤں میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان کا نام 2018 کے فوربس انڈیا میگزین میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ ان کے علاوہ دنگل فلم سے شہرت پانے والی اداکارہ ثانیہ ملہوترا بھی ڈاکٹر ارم کے کردار میں نظر آتی ہیں

بالی وڈ فلموں میں مہمان اداکاروں کی انٹری کا چلن زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اس فلم میں بھی یہ روایت قائم رکھی گئی ہے چنانچہ دیپیکا پاڈوکون اور سنجے دت بطور مہمان اداکار اس فلم میں نظر آئیں گے۔ سوشل میڈیا پر سنجے دت کے کردار کو بہت سراہا جا رہا ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ کردار ذرا طویل ہوتا تو اور مزہ آتا

شاہ رخ خان نے فلم میں دو کردار ادا کیے ہیں اور اس کے علاوہ فلم کے ہدایت کار ایٹلی کمار بھی شاہ رخ خان کے ساتھ ایک گانے ’زندہ بندہ‘ میں رقص کرتے نظر آتے ہیں

اس فلم کے ہدایت کار چھتیس سالہ ارون کمار ہیں جو کہ عام طور پر ایٹلی کمار کے نام سے جانے جاتے ہیں اور ساؤتھ انڈیا میں پے در پے ہٹ فلمیں دینے کے لیے مشہور ہیں۔ ایٹلی کمار نے 2019 میں یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ شاہ رخ خان کے ساتھ فلم بنانا چاہتے ہیں۔ اسی سال ان کی ملاقات شاہ رخ خان سے آئی پی ایل کے ایک میچ کے دوران ہوئی تھی۔ اگلے سال کورونا کی وبا کے دوران وہ شاہ رخ خان سے ملنے گئے اور ان کو یہ فلم آفر کی جو انھوں نے قبول کر لی اور یوں ان کا خواب پورا ہوا

یہ فلم شاہ رخ خان کا ہوم پروڈکشن ہے اور ریڈ چلیز نے بنائی ہے۔ فلم کے بہت سے مکالموں کے ذریعے سیاسی اور معاشرتی رویوں پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ سنسر بورڈ سے یہ تمام ڈائیلاگ پاس ہو کر سنیما کی اسکرین تک کیسے پہنچ گئے۔ لیکن اس کی وجہ بھی اب سمجھ آتی ہے کہ بی جے پی نے فلم کو سراہتے ہوئے ان منفی ریمارکس کو حزب اختلاف کی جماعت کانگریس سے جوڑ دیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ فلم معاشرے میں خواتین کی خود مختاری اور احترام کے پیغام کے ساتھ ساتھ حکومتی کرپشن، کسانوں کے مسائل اور صحت عامہ کے بگڑتے نظام پر بھی بات کرتی نظر آتی ہے

انڈیا، اسپین اور دبئی کے مقامات پر فلمائی جانے والی تقریباً ڈھائی گھنٹے کی اس فلم میں شاہ رخ خان نے ایک بار پھر ایکشن ہیرو بننے کا خواب پورا کیا ہے، جن کا کہنا ہے ’میں بالی وڈ میں ایکشن ہیرو بننے آیا تھا اور مجھے رومینٹک ہیرو بننا پڑا۔‘

فلم کا ’میوزک‘ معلوم نہیں کیوں فلم ہی کی طرح بہت پسند کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کی رائے میں بیک گراؤنڈ میوزک بالکل کسی بھی اور تامل ایکشن فلم کی طرح کا ہی ہے اور گانوں میں وہی مخصوص ساز اور ردھم ہیں جو ساؤتھ کی ہر فلم کے گانوں میں ہوتے ہیں یعنی ڈرم، سیٹیاں اور اسٹیل کی تھالی پر مشتمل آوازیں

میوزک تامل فلموں کے موسیقار انی رودھ نے ترتیب دیا ہے۔ ان سے پہلے ہدایت کار ایٹلی کمار نے فلم کے میوزک کے لیے اے آر رحمان سے رابطہ کیا تھا مگر وہ اپنی دیگر مصروفیت کی وجہ سے میسر نہیں تھے۔ انی رُدھ ساؤتھ فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار رجنی کانت کے بھتیجے ہیں اور بالی وڈ میں بطور موسیقار اس فلم سے اپنے کام کا آغاز کر رہے ہیں

اگر تھوڑا غور کیا جائے تو فلم کی ٹریڈ مارک میوزک ٹیون ایک پرانی انگریزی فلم ’دا گڈ، بیڈ اینڈ اگلی‘ سے بہت مشابہت رکھتی ہے، یعنی یہاں بھی ’انسپریشن‘ کے نام پر چھاپے کا بٹا بڑے آرام سے لگا دیا گیا ہے

فلم کی کہانی بے حد پرانی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر لوگ ہدایت کار ایٹلی کمار کو فلم کی کہانی کے لحاظ سے تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں کیونکہ اس فلم کی کہانی 1989 میں ریلیز ہونے والی تامل فلم ’تھائی ناڈو‘ سے بہت ملتی ہے

تقریباً تین ارب روپے کے بجٹ سے بننے والی یہ فلم باکس آفس پر کھڑکی توڑ رش لے رہی ہے اور پہلے ہی دن ایک ارب کا ہندسہ عبور کر چکی ہے۔ آئی ایم ڈی بی پر 10 میں سے 8.3 جبکہ دیگر فلمی ویب سائٹس پر بھی اس کی ریٹنگ آسمان چھو رہی ہے۔
اس میں دو رائے نہیں کہ یہ فلم پیسہ وصولی میں شاہ رخ خان کے فلمی کیریئر اور انڈیا کی سب سے بڑی فلم ہو گی کیوں کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے والے فارمولے پر بننے والی فلمیں باکس آفس پر کامیاب رہتی ہیں اور جو لوگ سینما ہال میں جاتے وقت اپنا دماغ گھر پر چھوڑ کر جاتے ہیں انھیں ایسی فلمیں بہت پسند آتی ہیں۔ یہی کمرشل فلموں کی کامیابی کا ’منترا‘ ہے

مصالحہ فلم اور ماس مووی

فلمی پنڈتوں کے نزدیک ’جوان‘ روایتی مصالحہ فلم نہیں بلکہ ’ماس مووی‘ ہے۔ اگرچہ تمل اور تیلگو سینیما میں ایسی فلمیں معمول کا حصہ ہیں مگر بالی وڈ میں یہ تجربہ ابتدائی مراحل میں ہے جس کی کامیابی کا تازہ ترین ثبوت جوان ہے۔

بالی وڈ میں مصالحہ فلم کی اصطلاح 1970 کی دہائی میں مشہور ہوئی۔ ناصر حسین اور من موہن ڈیسائی کی ’یادوں کی بارات‘ (1973) اور ’امر، اکبر، انتھونی‘ (1977) اس کی بہترین مثالیں ہیں۔

ایسی فلم جس میں ایکشن، کامیڈی، میوزک، رومانس اور ڈراما سمیت ہر طرح کا مصالحہ مکس کر کے سینیما میں پیش کر دیا جائے۔

آج بھی سب سے زیادہ فلمیں اسی قبیل کی بنتی ہیں۔ مصالحہ مووی سے ’ماس مووی‘ کی طرف آتے ہوئے راستے میں کئی پڑاؤ قدم روک لیتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہم انڈیا میں سینیما کو ’انڈسٹری‘ کا درجہ ملنا تھا۔

1998 میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے سینیما کو انڈسٹری کا درجہ دے دیا۔ یہاں سے فلموں میں سرمایہ کاری کی شکل اور اس کے نتیجے میں فلموں کے موضوعات سمیت سب کچھ بدل کر رہ گیا

اس سے پہلے ذاتی سطح پر لوگوں کا گروپ فلم کو فائنانس کرتا تھا۔ 15 سے 20 لوگوں پر مشتمل یہ کاروباری لوگ بالعموم چار سے پانچ فیصد ماہانہ سود کے بدلے سرمایہ فراہم کرتے۔ چوںکہ سینیما کو انڈسٹری کا درجہ حاصل نہ تھا، اس لیے آزادانہ سرمایہ کاری میں کئی رکاوٹیں حائل تھیں۔

1998 کے بعد سرمایہ کاری بڑے بڑے اداروں سے آنے لگی، جیسا کہ انڈسٹریل بینک آف انڈیا، جس نے ’کبھی الوداع نہ کہنا‘ سمیت کئی فلموں کے لیے پیسہ ادھار دیا۔

گویا وہ دور ماضی کا حصہ بن گیا، جب شیلندر جیسے لوگ زندگی کی کل کمائی ایک فلم بنانے میں جھونک دیا کرتے تھے۔

آپ کو یاد ہو گا راج کپور نے ’بوبی‘ (1973) کیوں بنائی تھی؟ اس کے بعد اگلا قدم سانجھے داری کی بنیاد پر سرمایہ کاری تھی یعنی پارٹنر شپ۔ کوئی سود نہیں لیکن کل کمائی کا 50 فیصد سرمایہ دار کے حصے میں جائے گا۔

سرمایہ کار کمپنیوں کی آمد سے فلموں کے موضوعات بھی تبدیل ہوئے۔ عام آدمی کی کہانی سناتی، بائیں بازو کے نظریات سے وابستہ اور نظام کے خلاف غصے سے بھرپور اینگری ینگ مین فلمیں قصہ پارینہ ہو گئیں۔

مڈل کلاس ہیرو بھی لش پش گاڑیوں میں گھومنے لگا۔ سرمایہ دار کی نظر میں مقامی لوگوں سے زیادہ اہمیت بیرون ملک بیٹھے شناخت کے بحران سے دوچار انڈینز کی تھی، جو انتہائی ماڈرن سٹائل میں روایتی ہندوستانی دیکھنے کو بے چین تھے۔ بڑی مارکیٹ کو دیکھتے ہوئے ہالی وڈ فلم سٹوڈیوز بھی بالی وڈ کی طرف متوجہ ہوئے۔

رنبیر کپور اور سونم کپور ہماری نسل کے نمائندہ ترین نوجوان اداکاروں میں شامل ہیں۔ ان دونوں کو پہلا بریک ’سانوریا‘ (2007) سے ملا۔ جانتے ہیں یہ کس پروڈکشن ہاؤس کی فلم تھی؟ سونی پکچرز کی، جو انڈیا میں قدم رکھنے والا پہلا ہالی وڈ سٹوڈیو تھا۔

2015 تک انڈین فلم انڈسٹری 13 کروڑ روپے کی مارکیٹ تھی، جو 2022 میں 172 ارب انڈین روپے تک پہنچ چکی ہے۔

عمومی اندازوں کے مطابق یہ انڈسٹری 2025 تک 230 ارب روپے کی حد عبور کر جائے گی۔ اس کی کل مالیت میں ہندی سینیما کا حصہ تقریباً 45 فیصد ہے۔

ماہرین کے مطابق کاروبار کے نقطہ نظر سے پھولتی پھیلتی انڈسٹری کو اسی رفتار سے آگے بڑھنے کے لیے ’ماس مووی‘ کی ضرورت ہے، جو سلمان اور شاہ رخ کی فلمیں پوری کر رہی ہیں۔

مصالحہ فلم اپنی تمام تر مضحکہ خیزی کے باوجود ایک منطقی ترتیب رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر دلیپ کمار اور امیتابھ بچن کی فلم ’شکتی‘ میں بیٹا قانون کے ایک طرف ہے تو باپ دوسری طرف۔ درمیان میں ماں ہے جو بیوی بھی ہے۔

غیر حقیقی انداز میں سہی لیکن ہر چیز آپس میں جڑی ہے، ایک ترتیب ہے، کرداروں کا آپس میں جذباتی رشتہ ہے جس کی دھڑکن سینیما ہال میں بیٹھے شائقین کے دلوں میں سنی جا سکتی ہے۔

ماس مووی ایسی تمام ’خرافات‘ سے پاک ہے جس کی تازہ ترین مثال ’جوان‘ ہے۔ ایک منظر میں ایک شخص انڈر ویئر پہنے جیل سے باہر نکلتا ہے۔ اچانک دیپیکا پڈوکون نمودار ہوتی ہیں اور کسی وجہ کے بغیر جوان کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہیں۔ کیوں؟

دونوں کے درمیان کیا رشتہ تھا اور اب ایسا کیا ہوا؟ کوئی نہیں جانتا۔ گانا بجنے لگتا ہے اور ہم اسی لمحے گانے میں کھو جاتے ہیں۔

مصالحہ فلم میں کہانی کا جذباتی پہلو ہوتا ہے۔ آپ کسی کردار سے خود کو جوڑ لیتے ہیں۔ آپ کسی کو مرتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے، لیکن ماس مووی کی کوئی جذباتی بنیاد نہیں۔ آپ ٹکڑوں میں چیزیں دیکھتے، لطف لیتے اور آگے چل پڑتے ہیں۔

آج کل وہ فلم ہٹ تصور کی جاتی ہے جو تھیٹر میں 50 سے 60 فیصد کاروبار کر لے، باقی کمائی آن لائن پلیٹ فارمز سے آ جاتی ہے۔

ماضی میں سٹارڈم اور فلم دونوں کا انحصار لوگوں کی تھیٹر میں آمد سے ہوتا تھا۔ جب فلم کی کہانی میں ایسا کچھ نہیں تو لوگ کس لیے سینیما کا ٹکٹ خریدیں گے؟ اپنے پسندیدہ ستارے کو دیکھنے کے لیے۔

اس لیے کسی بڑے ستارے کی موجودگی ہی ماس مووی کو ہٹ کروا سکتی ہے۔ ماس مووی کراؤڈ پلر ہے، یہ کاروبار کر رہی ہے۔

سرمایہ دار کا مسئلہ بس یہیں تک ہے۔ تو کیا ہم روایتی سینما سے محروم ہو جائیں گے؟’مسان‘ جیسی بالی وڈ کی تاریخ کی بہترین فلموں کا فلاپ ہونا کیا معمولی بات ہے؟

شاید بہت سے سوالوں کے جواب کے لیے ہمیں شاہ رخ کی اگلی فلم کا انتظار کرنا ہو گا۔ ’ڈنکی‘ کے ہدایت کار راج کمار ہیرانی ہیں۔ ان کا سٹائل ایٹلی کمار سے بالکل مختلف ہے۔

وہ کہانی اور کرداروں کی جذباتی کشمکش کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ کیا لوگ بھی جذباتی کشمکش کو اہمیت دیں گے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close