Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

History-of-banquets
کالماہم ترینتازہ ترین

ضیافتوں کی تاریخ

By Akhtar Rasool
جولائی 1, 2024 4 Min Read
0

ابتداء ہی سے آپس میں مِل بیٹھ کر کھانے کا رواج رہا ہے۔ ایتھنز میں جب عالم اور دانشور مِلتے تھے تو اُن کی یہ محفل سمپوزیم کہلاتی تھی، اس میں پانی میں شراب مِلا کر پی جاتی تھی، سادہ کھانا کھایا جاتا تھا اور رات بھر فلسفے کے موضوعات پر بحث و مباحثہ ہوتا تھا۔ صبح سویرے سب اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے۔ ایتھنز میں عام دِنوں میں بھی لوگ سادہ کھانا کھاتے تھے۔ کھانے میں مچھلی، زیتون کا تیل اور پنیر شامل ہوتے تھے۔ سادہ کھانے کی وجہ سے اُمراء اور عوام لوگوں کے درمیان زیادہ فرق نہیں تھا۔

رومی سلطنت میں اس کی ابتداء میں سبزی کا سُوپ ہوتا تھا، گوشت بہت کم مقدار میں کھایا جاتا تھا لیکن جب رومی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا، مالِ غنیمت آیا، دوسری قوموں کے پکوان سے واقفیت ہوئی تو رومی امراء کے کھانے ہینے کے انداز بدل گئے۔ ان کی حویلیوں میں ایک کمرہ دعوتوں کے لیے مخصوص تھا۔ یہاں پر مہمان نیم دراز ہو کر کھانا کھاتے تھے۔ جب کھانا ہاتھوں سے کھایا جاتا تھا، اس لیے غلام مسلسل پانی سے اُن کی ہاتھ دھلواتے رہتے تھے۔ اُمراء دعوتوں میں انواع و اقسام کے کھانے تیار کرواتے تھے۔ تا کہ اُن کی شہرت ہو اور کوئی دوسرا اُن کا مقابلہ نہ کر سکے۔ ان دعوتوں میں علمی موضوعات پر بہت کم بحث ہوتی تھی۔ مہمانوں کی دلچسپی کھانوں کی تعریف میں ہوتی تھی جو میزبانوں کو خوش کرتی تھی۔

رومی سلطنت کے بعد عہدِ وسطیٰ میں فیوڈل ازم کا دور آیا۔ یہ فیوڈل لارڈز آزاد ہوتے تھے۔ ان کی اپنی زمینیں تھیں، فوج تھی اور ان کے نائب (Vassals) ہوتے تھے۔ یہ سب ایک ہال میں مِل کر کھانا کھاتے تھے۔ ہال میں ایک پلیٹ فارم ہوتا تھا، جس پر فیوڈل لارڈ اور اُس کا خاندان بیٹھتا تھا۔ نیچے لمبی میز کے دونوں جانب اس کے ماتحت بیٹھتے تھے۔ کھانا ایک بڑے اور گہرے برتن میں رکھ دیا جاتا تھا۔ چونکہ اب تک کانٹے چمچوں کا رواج نہیں ہوا تھا، اس لیے لوگ کھانے کے برتن میں ہاتھ ڈال کر گوشت نکالتے تھے، اور اُسے چھُری سے کاٹ کر کھاتے تھے۔ ہڈیاں میز کے نیچے پھینک دیتے تھے۔ جو کتّوں کی خوراک بنتی تھیں۔ کیونکہ ہاتھ صاف کرنے کے لیے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا اس لیے وہ اسے اپنی پتلون سے صاف کر لیتے تھے۔ نشاة ثانیہ کے عہد تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر کھانے کے آداب پر کتابیں لکھی گئیٔں، جس کی وجہ سے دعوتوں میں صفائی کا خاص خیال رکھا جانے لگا۔

دعوتوں کا ایک سلسلہ وہ ہوتا تھا، جس میں عام لوگوں کو شریک کیا جاتا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دعوت دینے والا اپنی ضیافت اور سخاوت کی وجہ سے مقبول ہو۔

مُغل دور میں ابوالفضل نے آئینِ اکبری میں کھانے کی تفصیل دی ہے۔ خاص طور سے روٹیوں کی مختلف قِسمیں، گوشت کے مختلف پکوان جن میں چاول مختلف طریقوں سے پکائے گئے تھے۔ انواع و اقسام کے مصالحے استعمال ہوئے لیکن سرخ مرچ کا ابھی استعمال نہیں ہوا تھا۔

ایک اور دعوت کا ذِکر اطالوی سیاہ مانریکے نے کیا ہے۔ یہ لاہور میں آصف خان نے شاہجہاں کو دی تھی۔ دعوت کا بڑا اہتمام کیا گیا تھا۔ آصف خان کی حویلی تک جانے کے لیے تمام راستے پر قالین بچھائے گئے تھے۔ دیواروں کو خوشنما پردوں سے سجایا گیا تھا۔ قِسم قِسم کے پکوان پکوائے گئے تھے۔ کسی منصب دار کے لیے یہ اعزاز کی بات تھی کہ شہنشاہ نے اُس کی دعوت قبول کی۔ اس نے آصف خان کے درجے کو درباریوں کی نظر میں اور بڑھا دیا۔

دعوتوں کا یہ سلسلہ ہندوستان میں جاری رہا۔ خاص طور سے والیانِ ریاست جو انگریزوں کے آنے کے بعد اُن کی حفاظت میں آ گئی تھی۔ اس لیے اُن کی ساری توجہ تفریحات کی طرف تھی۔ خاص طور سے لَکھنؤ کے تعلق دار جن کی زمینوں سے لگان آ جاتا تھا۔ وہ اس آمدنی کو مشاعروں اور دعوتوں میں خرچ کرتے تھے۔ عبدالحلیم شرر نے لَکھنؤ کے تمدّن پر جو کتاب لکھی ہے، اس میں اُمراء کی دعوتوں اور نادر قِسم کے پکوانوں کا ذِکر ہے۔ دعوتوں کے مقابلے میں ہر تعلق دار کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ مہمانوں کو ایسے پکوان کھلائے، جو دوسرا تیار نہ کر سکے۔

جب والیانِ ریاست گورنر جنرل یا وائسرائے کی دعوت دیتے تھے تو ہندوستانی کھانوں کے ساتھ انگریزی پکوان بھی پکوائے جاتے تھے، لہٰذا یہ دعوتیں سماجی اور سیاسی روابط کو مضبوط کرتیں تھیں۔

لیکن دعوتیں ہمیشہ سیاسی روابط کے لیے ہی نہیں ہوتیں تھیں، ان کے ذریعے میزبان اپنے دشمنوں یا مخالفوں کا خاتمہ بھی کرتا تھا۔ مثلاً ایران کے شہنشاہ نوشیرواں نے Mani کے پیروکاروں کو ایک دعوت میں بلایا اور پھر سب کو ایک ایک کر کے قتل کرا دیا۔ جب سفح نے امیہ خاندان کو شِکست دی تو اِس خوشی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جو کھانا کھایا گیا، اُس کا دسترخوان امیہ خاندان کی لاشوں پر بچھایا گیا۔ مُرشد آباد کے نواب علی وردی خان نے مرہٹوں سے ایک جنگ کے بعد اُن سے صلح کے لیے دعوت پر بلایا اور پھر ان سب کو دھوکے سے قتل کروا دیا گیا۔ یہ دعوت کا ایک دوسرا رُخ تھا۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

1817 regent banquetancient historyanimated historybanquetbanquet historybanquetsbanquets historydrunk historyfood historyHistoryhistory docohistory documentarieshistory documentaryhistory of arthistory of foodhistory of romelavish banquetsmost decadent banquets in historyroman historyrome historyroyal banquetstate banquet for the emperors of japanthe banquet of the chesnuts cesare borgiatypes of banquetsweird history
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
How-does-a-person-die-due-to-heat
Previous

گرمی کی وجہ سے انسان کیسے موت کہ منہ میں چلا جاتا ہے؟

The-Child-Born-in-the-Field-Selected-Tales-from-Turkish-Literature
Next

کھیت میں پیدا ہونے والا بچہ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme